انتخابات نے جاپان کی سیاست میں ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ وہاں جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں بلکہ نظم و ضبط، ادارہ جاتی استحکام اور سیاسی ذمہ داری کا ایک مربوط ڈھانچہ ہے ۔ انتخابات کے دن جاپان میں کسی تہوار کی طرح شور شرابے کے بغیر گزرتا ہے۔ نہ دیواروں پر نعروں کی بھرمار، نہ جلوسوں کا ہجوم،نہ اشتعال انگیز تقاریر ہوتی ہیں۔ ووٹر خاموشی سے پولنگ اسٹیشن آتا ہے، اپنا ووٹ ڈالتا ہے اور روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔جاپان کی پارلیمانی جمہوریت ایک آئینی بادشاہت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ شہنشاہ ریاست کی علامتی حیثیت رکھتا ہے جبکہ اصل اختیارات منتخب پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ جاپانی پارلیمنٹ کو نیشنل ڈائٹ کہا جاتا ہے جو دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ ایوان نمائندگان کو ہاس آف ریپریزنٹیٹوز اور ایوان بالا کو ہاس آف کونسلرز کہا جاتا ہے۔ قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور حکومت سازی کا مرکز ایوان نمائندگان ہے، اسی ایوان کی اکثریت وزیر اعظم کا انتخاب کرتی ہے۔آٹھ فروری کے انتخابات بنیادی طور پر ایوان نمائندگان کی نشستوں کے لیے تھے، جنہیں جاپان کے سیاسی نظام میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ جاپان کا انتخابی طریقہ کار مخلوط نظام پر مبنی ہے جس میں براہ راست حلقہ جاتی نمائندگی اور متناسب نمائندگی دونوں شامل ہیں۔ اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف مقامی حلقوں کی نمائندگی برقرار رہے اور دوسری طرف سیاسی جماعتوں کو مجموعی ووٹ کے تناسب سے بھی نشستیں مل سکیں۔جاپان میں حلقہ جاتی انتخابات کے تحت ملک کو متعدد انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حلقے سے ایک امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے، چاہے اسے کل ڈالے گئے ووٹوں کا سادہ اکثریتی حصہ ہی کیوں نہ ملا ہو۔ اس طریقے سے مقامی مسائل، علاقائی ترجیحات اور براہ راست عوامی رابطہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ امیدوار کو اپنے حلقے کے لوگوں سے مستقل تعلق رکھنا پڑتا ہے۔ حلقے کی سطح پر خدمت، ترقیاتی کام اور مقامی تنظیم سازی جاپانی سیاست کا بنیادی جزو ہیں۔انتخابی مہم کے دوران جاپان میں اخراجات پر سخت پابندیاں ہوتی ہیں۔انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ اس سختی کا نتیجہ یہ ہے کہ دولت کا اثر کم ہو جاتا ہے اور مقابلہ نسبتا شفاف رہتا ہے۔ انتخابی عمل انتظامی طور پر مقامی حکومتیں چلاتی ہیں لیکن نگرانی مرکزی الیکشن کمیشن کرتا ہے۔جاپانی انتخابی مہم کا انداز بھی منفرد ہے۔ امیدوار چھوٹے اجتماعات، دور ٹو ڈور رابطے اور ٹرین اسٹیشنوں کے باہر مختصر خطاب کو ترجیح دیتے ہیں۔ آواز بلند کرنے سے زیادہ لہجے کی شائستگی کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ مخالفین پر ذاتی حملے کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ پالیسی، کارکردگی اور نظم و نسق پر زور دیا جاتا ہے۔ جاپانی ووٹر عام طور پر جذباتی نعروں کے بجائے عملی منصوبوں کو ترجیح دیتا ہے۔جاپان کی طرز حکمرانی کی بنیاد بیوروکریسی، پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کے باہمی توازن پر قائم ہے۔ جاپانی سول سروس کو دنیا کی سب سے منظم اور پیشہ ور بیوروکریسی میں شمار کیا جاتا ہے۔ پالیسی سازی میں سرکاری اداروں کا کردار نمایاں ہے۔ وزرا عمومی سمت متعین کرتے ہیں جبکہ تفصیلی منصوبہ بندی اور نفاذ بیوروکریسی کرتی ہے۔ اس تسلسل نے جاپان کو طویل المدتی منصوبہ بندی میں مدد دی ہے۔وزیر اعظم جاپان کے انتظامی نظام کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ وہ کابینہ تشکیل دیتا ہے، پالیسی ترجیحات طے کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرتا ہے۔ وزیر اعظم کا انتخاب پارلیمنٹ کی اکثریت کرتی ہے، اس لیے حکومتی استحکام براہ راست پارلیمانی اکثریت سے جڑا ہے۔ اگر ایوان نمائندگان میں اکثریت کمزور ہو جائے تو حکومت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی لیے جاپان میں جماعتی اتحاد اور نظم بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔جاپان میں مقامی حکومتوں کا نظام بھی مضبوط ہے۔ صوبائی اور شہری سطح پر منتخب گورنر اور میئر کام کرتے ہیں۔ مقامی اسمبلیاں ترقیاتی منصوبوں، شہری سہولتوں اور مقامی بجٹ کی نگرانی کرتی ہیں۔ اس ڈھانچے نے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا ہے۔ مقامی انتخابات بھی قومی انتخابات کی طرح منظم طریقے سے ہوتے ہیں۔جاپانی سیاسی کلچر میں احتساب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی اسکینڈل یا بدانتظامی پر وزیر یا رکن پارلیمنٹ فوری استعفی دے دیتا ہے۔ عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کو بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت برقرار رکھنے پر غیر معمولی توجہ دی جاتی ہے۔ ووٹوں کی گنتی تیزی اور درستگی سے مکمل کی جاتی ہے اور نتائج پر تنازع بہت کم ہوتا ہے۔جاپان کے انتخابی نظام میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی احتیاط کے ساتھ بڑھ بڑھ رہا ہے ۔ ووٹنگ کا بنیادی طریقہ اب بھی کاغذی بیلٹ ہے تاکہ شفافیت پر کوئی سوال نہ اٹھے۔ گنتی کے مرحلے میں ڈیجیٹل ٹولز مدد دیتے ہیں۔ ڈیٹا مینجمنٹ، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی شیڈولنگ میں جدید نظام استعمال ہوتے ہیں۔ اس امتزاج نے اعتماد اور کارکردگی دونوں کو ساتھ رکھا ہے ۔ جاپان میں سیاسی جماعتوں کا ڈھانچہ بھی قابل توجہ ہے۔ بڑی جماعتیں مضبوط تنظیمی نیٹ ورک رکھتی ہیں۔ پالیسی تھنک ٹینکس، تحقیقاتی ونگ اور تربیتی ادارے جماعتوں کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ امیدواروں کی تیاری، پالیسی ڈرافٹنگ اور قانون سازی کی تربیت باقاعدہ عمل ہے۔ اس سے پارلیمنٹ میں بحث کا معیار بلند رہتا ہے ۔ آٹھ فروری کے انتخابات نے ایک اور پہلو کو اجاگر کیا کہ جاپان میں ووٹر کا رجحان بتدریج پالیسی پر مبنی فیصلوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نوجوان ووٹر روزگار، جدت، ماحولیات اور ڈیجیٹل معیشت کو اہمیت دے رہا ہے۔ عمر رسیدہ ووٹر سماجی تحفظ، صحت کی سہولت اور پنشن کے نظام کو ترجیح دیتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں ان مختلف طبقات کو متوازن انداز میں جگہ دیتی ہیں۔جاپان کی طرز حکمرانی میں تسلسل ایک بنیادی قدر ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں مگر ریاستی پالیسی کا عمومی رخ برقرار رہتا ہے۔ صنعتی ترقی، برآمدات کا فروغ، تعلیمی معیار اور انفراسٹرکچر کی بہتری طویل المدتی اہداف کے طور پر جاری رہتے ہیں۔ اسی تسلسل نے جاپان کو جنگ کے بعد تباہی سے نکال کر عالمی معیشت کی صف اول میں کھڑا کیا۔سیاسی اختلاف کے باوجود اداروں کا احترام جاپانی جمہوریت کا مضبوط ستون ہے۔ عدالتیں آزاد ہیں، میڈیا ذمہ دار ہے اور سول سوسائٹی متحرک ہے۔ پالیسی پر اختلاف ہوتا ہے مگر نظام پر اتفاق قائم رہتا ہے۔ انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا اور پرامن انتقال اقتدار ایک معمول ہے۔جاپان کا انتخابی نظام اور طرز حکمرانی اس بات کی مثال ہے کہ مضبوط قوانین، منظم ادارے اور ذمہ دار سیاسی کلچر مل کر جمہوریت کو مستحکم بناتے ہیں۔ آٹھ فروری کے انتخابات اسی تسلسل کی ایک کڑی ثابت ہوئے جہاں ووٹ صرف نمائندے کے انتخاب کا ذریعہ نہیں بلکہ ریاستی نظم پر اعتماد کے اظہار کا وسیلہ بھی بنے۔
جاپان کا انتخابی نظام۔۔۔!

