10 فروری 2025 کو سیاہ کوٹ پہنے وکلا اسلام آباد کی جانب اس یقین کے ساتھ بڑھے کہ ملک کا آئینی ڈھانچہ بنیادی طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے اور عدلیہ اب اندر سے مزاحمت کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے ۔ ملک بھر کے مختلف شہروں سے آنیوالے وکلا نے 26ویں آئینی ترمیم اور سپریم کورٹ میں تقرریوں کیلئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے خلاف احتجاج کیا۔ ریڈ زون کے گرد رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ سپریم کورٹ جانے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ مظاہرین آئینی بالادستی اور عدالتی آزادی کے نعرے بلند کر رہے تھے۔چند لمحوں کیلئے ایسا محسوس ہوا جیسے 2007دوبارہ لوٹ آیا ہو ۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔آج پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو یہ احتجاج کسی فیصلہ کن موڑ سے زیادہ ادارہ جاتی تھکن کی ایک تصویر دکھائی دیتا ہے، ایک ایسا لمحہ جس نے واضح کر دیا کہ وکلا تحریک کے بعد گزرنے والے تقریبا ًدو عشروں میں پاکستان کا آئینی منظرنامہ کس قدر تبدیل ہو چکا ہے ۔ 2007کی تحریک میں ایک ایسی چیز موجود تھی جو پاکستانی سیاسی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے: اخلاقی سادگی۔ عوام فوری طور پر سمجھ گئے تھے کہ تصادم کس نوعیت کا ہے۔ علامتیں واضح تھیں۔ قانونی برادری نے غیر معمولی اتحاد اور استقامت کا مظاہرہ کیا، جو بالآخر طاقتور حلقوں کو پسپائی پر مجبور کرنے میں کامیاب رہا ۔ فروری 2025 کے احتجاج میں ایسی کوئی وضاحت موجود نہیں تھی۔ تنازع عدالتی تقرریوں، آئینی طریقہ کار اور سنیارٹی جیسے معاملات سے متعلق تھا، جو یقینا اہم تھے، مگر قانونی پیچیدگیوں اور سیاسی تہہ داریوں میں لپٹے ہوئے۔ مہنگائی اور معاشی بے یقینی سے پریشان عوام کیلئے یہ بحران روزمرہ زندگی سے کٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ سیاہ کوٹ اب وہ غیر متنازع اخلاقی علامت نہیں رہا تھا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔خود وکلا برادری بھی تقسیم کا شکار تھی۔ کچھ وکلا ان ترامیم کو عدالتی آزادی پر براہِ راست حملہ سمجھتے تھے، جبکہ بعض انہیں متنازع مگر آئینی حدود کے اندر تصور کرتے تھے۔ کچھ کھل کر احتجاج میں شریک ہوئے، جبکہ دوسروں نے نجی محفلوں میں یہ سوال اٹھایا کہ آیا یہ تحریک اپوزیشن سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی کشمکش میں الجھ تو نہیں چکی۔ اتحاد نہ ہونے کے باعث تحریک رفتار حاصل نہ کر سکی ۔ ریاست نے بھی گھبراہٹ کے بجائے معمول کے تسلسل کا راستہ اختیار کیا۔ احتجاج کے باوجود جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ تقرریوں کا عمل جاری رکھ کر حکومت نے تحریک سے اس کا فوری دباؤ چھین لیا۔اس مرحلے پر تحریک کو سڑکوں پر بلند نعروں سے زیادہ عدالتی بنچ پر خاموش مگر ثابت قدم مزاحمت کی ضرورت تھی۔ ایسے ججوں کی، جو ڈٹے رہتے، مزاحمت کرتے اور ریاست کو ادارے کے اندر سے اصولی اختلاف کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ وہی جج سمجھے جاتے تھے ۔ مگر وہ ٹھہر نہ سکے۔دونوں جج برسوں کی محتاط عدالتی سوچ کے باعث آئینی سنجیدگی اور ادارہ جاتی جرات کی علامت بن چکے تھے۔ بار ایسوسی ایشنز اور قانونی حلقوں میں ان کے نام اس امید کی نمائندگی کرتے تھے کہ عدلیہ اب بھی اپنی حدود کا خود دفاع کر سکتی ہے۔ بہت سے وکلا کا یقین تھا کہ اگر سڑکوں کی تحریک ناکام بھی ہو جائے تو یہ دونوں جج عدالت کے اندر مزاحمت جاری رکھیں گے ۔ یہ یقین تباہ کن حد تک غلط ثابت ہوا۔جب دونوں جج مستعفی ہوئے تو قانونی برادری کا ردعمل حیرت سے بڑھ کر گہری مایوسی میں بدل گیا۔ ان استعفوں کو اصولی موقف اور عدالتی آزادی پر حملے کے خلاف احتجاج قرار دیا گیا، مگر اس تعبیر کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ استعفیٰ، چاہے کتنا ہی اصولی کیوں نہ دکھائی دے ، آخرکار دستبرداری ہی ہوتا ہے۔ یہ جج کو اسی ادارے سے الگ کر دیتا ہے جس کے دفاع کا دعویٰ کیا جا رہا ہو۔ جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ختم نہیں ہوئی تھی۔ انصاف کے متلاشی سائلین بھی غائب نہیں ہوئے تھے۔ عملی طور پر ان استعفوں کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ اختلاف رکھنے والے دو مضبوط ترین جج عین اس وقت عدلیہ سے الگ ہو گئے جب اختلاف سب سے زیادہ ضروری تھا۔شہادت اور دستبرداری کے درمیان ایک باریک مگر اہم فرق ہوتا ہے۔ تاریخ شاید طویل عرصے تک یہ طے نہ کر سکے کہ یہ استعفے کس جانب کھڑے تھے۔اس کا نقصان صرف حکمتِ عملی تک محدود نہیں تھا۔ برسوں سے وکلا برادری کے کئی حلقے ان ججوں پر اپنی اخلاقی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے۔ بار ایسوسی ایشنز ان کے حق میں قراردادیں منظور کرتی رہی تھیں۔ نوجوان وکلا ان کے فیصلوں کو اس بات کا ثبوت قرار دیتے تھے کہ اعلی عدلیہ میں ابھی ضمیر باقی ہے۔مگر یہ اعتماد لوٹا نہ سکا۔اسلام آباد آنے والے وکلا، جو رکاوٹوں، گرفتاریوں اور سیاسی تمسخر کا سامنا کر رہے تھے، اچانک اس تلخ حقیقت کے سامنے کھڑے تھے کہ جن شخصیات کو وہ مورچے پر موجود سمجھتے تھے، وہ خاموشی سے وہاں سے نکل چکی تھیں۔ تحریکوں کو مزاحمت کی معتبر علامتوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب وہ علامتیں پیچھے ہٹ جائیں تو تحریک کی اپنی ساکھ بھی سکڑنے لگتی ہے۔اس کے باوجود ان احتجاجوں کو غیر اہم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے قانونی برادری کے ایک بڑے حصے میں ادارہ جاتی خودمختاری کے بارے میں موجود حقیقی خدشات کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے آئینی طریقہ کار اور سیاسی طاقت کے درمیان بڑھتی ہوئی بے چینی کو بھی ظاہر کیا۔اور سب سے بڑھ کر انہوں نے پاکستانی ریاست کے مرکز میں موجود ایک بنیادی سوال کو پھر نمایاں کر دیا: آخر آئینی اداروں کی آزادی کا تحفظ کون کرتا ہے؟
اس سوال کا جواب شاید وہ جج نہیں جو دباؤ بڑھنے پر مستعفی ہو جائیں،اور نہ ہی وہ قانونی برادریاں جو سیاسی پیچیدگیوں کے سامنے تقسیم ہو جائیں۔سیاہ کوٹ یہ سمجھ کر نکلے تھے کہ ریاست کو اب بھی رکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ریاست نہیں رکی۔وہ یہ یقین لے کر آئے تھے کہ عدلیہ کے اندر اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مزاحمت کریں گے۔جج ثابت قدم نہ رہ سکے۔ان دو انکاروں میں، ایک ریاست کی جانب سے اور دوسرا بنچ کی طرف سے، دراصل اس تحریک کی ناکامی کی پوری کہانی پوشیدہ تھی۔مگر اسی ادارہ جاتی پسپائی کے دوران مزاحمت کا آخری بوجھ ایک ایسے شخص کے کندھوں پر آ گرا جو آخر تک کھڑا رہا، ایک ایسی شخصیت جس کے بارے میں اب ناقدین بھی احتیاط اور سنجیدگی کے بغیر گفتگو نہیں کرتے، کیونکہ وہ محض اختلاف کرنے والا فرد نہیں رہا تھا بلکہ مزاحمت اور آئینی انکار کی مستقل علامت بن چکا تھا۔
ججز مستعفی ہوئے، اصول نہیں

