Site icon Daily Pakistan

جعلی اسناد پربھارتی طلبہ مشکلات کا شکار

بھارت میں جعلی تعلیمی اسناد کے بڑھتے ہوئے معاملات کے بعد آسٹریلیا نے بھارتی طلبہ کیلئے اسٹوڈنٹ ویزا جانچ کے عمل کو مزید سخت کر دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے بھارت کو طلبہ ویزا فریم ورک کے تحت ‘ہائیسٹ رسک کیٹیگری’ میں شامل کر لیا ہے۔نئی درجہ بندی کے بعد بھارتی طلبہ کی مالی حیثیت، تعلیمی ریکارڈ اور انگریزی زبان کے ٹیسٹ کو پہلے سے زیادہ سختی سے جانچا جائے گا۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ویزا سسٹم میں سامنے آنے والے ممکنہ خطرات اور جعلی دستاویزات کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کی انٹرنیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو فل ہنی ووڈ نے جعلی ڈگریوں کے معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا میں سخت ویزا پالیسیوں کے باعث متعدد طلبہ اب آسٹریلیا کا رخ کر رہے ہیں، جن میں سے بعض کے تعلیمی کاغذات مشکوک پائے گئے ہیں۔آسٹریلیا نے بھارت سمیت چار ممالک کو اسٹوڈنٹ ویزا کیلئے ‘ہائی رسک’ کیٹیگری میں ڈال دیا۔بھارتی پولیس اب تک جعلی ڈگری مافیا کیخلاف کارروائیوں میں 100 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی اسناد ضبط کر چکی ہے، جس سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔آسٹریلوی سینیٹر میلکم رابرٹس بھی جعلی ڈگریوں کے حامل طلبہ کے معاملے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جعلی تعلیمی اسناد اور تعلیمی فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھارت کی عالمی تعلیمی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات بیرونِ ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ پر بھی پڑ رہے ہیں۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر مؤثر قابو نہ پایا گیا تو بھارتی طلبہ کو مستقبل میں مزید سخت ویزا پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آسٹریلیا کی بین الاقوامی تعلیمی ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو فل ہنی وْڈ نے جعلی ڈگریوں کے معاملے کو سنگین قرار دیا ہے۔ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا میں جعلی دستاویزات کے باعث طلبہ کو داخلہ نہ ملنے پر بڑی تعداد میں بھارتی طلبہ آسٹریلیا کا رخ کر رہے ہیں، لیکن نئی سختیوں کے بعد انہیں بھی سخت جانچ کا سامنا ہوگا۔نااہل مودی کے دورِ حکومت میں بھارت میں جعلی تعلیمی دستاویزات اور اسناد کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھارتی طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے مودی حکومت کے دور میں تعلیمی فراڈ اور بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بعد بھارتی طلبہ کیلئے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تعلیمی نظام میں فراڈ اور جعلی ڈگریوں میں اضافہ بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید متاثر کر رہا ہے، اور مودی حکومت کے دھوکہ دہی کے سبب امریکا، برطانیہ اور کینیڈا کے بعد آسٹریلیا نے بھی تعلیمی دروازے سختی سے بند کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ بھارت میں جعلی تعلیمی اسناد کا بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے ، گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ مختلف ممالک میں بھارتی طلباء کی جانچ پڑتال بھی شروع ہو چکی ہے ۔بھارت میں بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے ، کیرالہ میں جعلی ڈگریاں بنانیوالے پکڑے گئے۔ کیرالہ پولیس نے جعلی یونیورسٹی سرٹیفکیٹس بنانے والے بڑے نیٹ ورک کو پکڑ لیا۔پولیس کی زیرِ حراست ملزم کی نشاندہی پر بھارتی ریاستوں سے 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔گروہ نے بھارت میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو جعلی سرٹیفکیٹ فراہم کیے۔جعلی سرٹیفیکیٹس کے باعث متعدد ممالک نے بھارتی طلباء کو تعلیمی ویزوں کا اجراء روک دیا تھا۔ کینیڈا اور برطانیہ نے بھی بھارتی طلباء کے تعلیمی اسناد کی سخت جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔نام نہاد شائننگ بھارت میں جعلی ڈگریوں اور رشوت کے زور پر امریکی Hـ1B ویزوں کی فروخت کا مکروہ دھندہ سرگرم ہے جبکہ بھارت دنیابھر میں دہشتگردی ، انسانی جرائم ، دھوکہ دہی اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکا۔ بھارتی قونصل خانوں میں جعلی ڈگریوں کے حامل نوجوانوں کو امریکی Hـ1B ویزہ دینے کے ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے جبکہ مودی کی بدترین سرکار میں امریکا میں ملازمتوں کے نام پر جعلی ڈگریوں کا منظم مافیا پورے بھارت میں سرگرم ہے۔ کیرالا پولیس نے مختلف مقامات سے 100 کروڑ روپے کامکروہ دھندا کر نیوالے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا، کیرالا سے پکڑا گیا منظم نیٹ ورک پورے بھارت میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔کیرالا میں فراڈ نیٹ ورک سے22 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد سرٹیفکیٹس برآمد ہوئے، پولیس چھاپہ کے وقت مرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی گھر پر جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا، جعل سازی کا یہ منظم گروہ اندرون اور بیرون ملک ملازمتوں کیلئے بھی لوگوں کو جعلی ڈگریاں فراہم کرتا تھا ۔ بھارتی ریاست کیرالا، تامل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، گوا اور دہلی سمیت دیگر ریاستوں میں اسی طرح کینیٹ ورکس میں سرگرم ہیں، پولیس نے منظم نیٹ ورک سے 28 یونیورسٹیوں کے جعلی مہریں اور مارک شیٹس بھی برآمد کیں۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو سے بھی بیرونِ ملک نوکری کا جھانسہ دیکر جعلی ڈگریاں دینے والے متعددافرادکو گرفتار کیا گیا۔بھارتی پولیس کے مطابق منظم گروہ میڈیکل ، نرسنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں سے متعلق 100 سے زائد جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔ امریکی سینٹر فار امیگریشن سٹڈیز کی ڈائریکٹر جیسیکا وان نے بھارت میں ویزا جاری کرنے کے عمل کو بڑا فراڈ قراردیدیا اور کہا کہ امریکا بھجوانے کیلئے بھارت میں 36 ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کی گئیں۔ جعلی ویزا کے اس سارے عمل کو بھارتی سیاست دانوں کی پشت پناہی اور سہولت کاری حاصل ہے، بھارت میں تعینات امریکی سفارت کارمہوش صدیقی بھی "ایچ ون بی” ویزا فراڈ کوآشکار کر چکی ہیں، امریکی "ایچ ون بی ویزا” کیلئے بھارت میں دھوکہ دہی اور فراڈ کا براہ راست مشاہدہ کیاہے۔

Exit mobile version