Site icon Daily Pakistan

جماعت اسلامی کراچی کے دھرنے

جماعت اسلامی نے ایک دھرنا اپنے سابق میئر مرحوم عبدالستار افغانی کی میئر شب کے دوران سندھ حکومت کے اقدام کیخلاف دیا تھا۔ ایک دھرنا اب ١٤ فروری ٢٠٢٦ء کو سندھ کی حکومت کیخلاف دیا ۔مطالبات دونوں دھرنوں کے ایک جیسے ہی تھے ۔ پہلے دھرنے کا قصہ یہ تھا کہ کراچی بلدیہ نے کہا کہ کراچی کی ساری سڑکیں تو کراچی بلدیہ بناتی ہے اور کراچی کی سڑکوں پر جو گاڑیاں چلتی ہیں ان کا ویکلز ٹیکس سندھ حکومت لے جاتی ہے۔ اس کی ایک پائی بھی کراچی بلدیہ کو نہیں دی جاتی۔ لہٰذا کراچی بلدیہ کا سندھ حکومت سے یہ مطالبہ ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کا یہ ویکلزٹیکس کراچی بلدیہ کو دیا جائے۔اس کیلئے کراچی بلدیہ میں ایک قراداد پاس کی گئی۔ بڑی جدو جہد کی گئی، مگر سندھ حکومت نہ مانی۔ اس کے بعد بلدیہ کے ہائوس نے جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی کی قیادت میں قراراداد پاس کی کہ میئر عبدالستار افغانی کی قیادت میں ممبران کراچی بلدیہ سندھ اسمبلی تک مارچ کریں گے اور یہ قرادادپیش کریں گے۔ سندھ حکومت نے فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی شہر میں دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی۔ عبدالستار افغانی میئر کراچی ماشاء اللہ جماعت اسلامی کے تربیت یافتہ کارکن تھے۔ انہوں ے اپنے ایک سو ایک ممبران بلدیہ کو دو دو کی ٹولیوں میں تقسیم کیا۔ہر ایک کے گلے ان کا نام اور جس حلقہ نے اُسے بلدیہ کا ممبر منتخب کیا اس حلقے کا نام کے ٹیگ لٹکانے کا انتظام کیا۔ اپنے گلے میںبھی عبدالستار افغانی میئر نے اپنا نام ، حلقہ لیاری کھڈا مارکیٹ کا ٹیک لگایا۔ ایک قطار میں پانچ فٹ کا فاصلہ رکھ کر یہ ایک سو ایک ممبران کراچی بلدیہ کا قافلہ سخت جان جانب سندھ ا سمبلی چل پڑا ۔ اس میں دفعہ ١٤٤ قانون کی پابندی کی گئی ۔ کسی قسم کی بھی قانون شکنی نہیں ہوئے۔ان دنوں سندھ اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا۔ جماعت کے کارکن بھی پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ راقم بھی ان کارکنوں میں شامل تھا۔ہونا تو یہ تھاجیسے جمہوری ملکوںمیں ہوتا ہے۔ کراچی کے میئر عبدالستار افغانی جیسے ہی سندھ اسمبلی پہنچتے ، سندھ اسمبلی کا اسپیکر باہر تشریف لاتا۔ اپنے شہر کراچی کے میئر سے مطالبات قراداد کی کاپی وصول کرتا ۔میئر اپنے ایک سو ایک ممبران کو باعزت طریقے سے اپنے ساتھ واپس بلدیہ لے جاتا۔ مگر وہی طریقہ استعمال کیا گیا جو ١٤ فروری کو استعمال کیا گیا۔ اسمبلی پہنچنے سے ہی ان ممبران بلدیہ کو پولیس نے زبردستی روک دیا۔ وہ بار بار درخواست کرتے رہے بھائی ہم پر امن ہیں۔ ہمیں اپنے ٹارگٹ تک جانے دیا جائے تاکہ ہم اسمبلی کو اپنے قراردادپیش کریں گے اورواپس چلے جائیں ۔نا جی ایسا نہیں ہوسکتا ۔اُوپر سے آڈر ہیں کہ آپ کو اسمبلی تک نہیں جانے دیا جائے گا۔ تو تو میں میں ہوئی۔ لاٹھی چارج شروع ہوا ۔آنسو گیس کے گولے فائر کیے گئے۔ سندھ اسمبلی کے سامنے سڑک پر گھمسان کا رن پڑا ۔ میئر افغانی بار بار پویس سے کہتے رہے ہم اپنا جمہوری حق ضرور ادا کریں گے۔ ہم نے کوئی قانون بھی نہیںتوڑا۔ دو دو کی ٹولیوں میں آئے ۔ ہم سندھ اسمبلی تک جائیں گے۔ اپنے مطالبات کی قرارداد سندھ اسمبلی کو ضرور پیش کریں گے۔میئر اوربلدیہ ممبران سے پولیس کی ہاتھا پائی ہوئی۔اور ظلم کی انتہا کرتے ہوئے پر امن ممبران بلدیہ کے ایک سو ایک، سارے کو گرفتار کر لیا گیا۔ جیل میں بند کر دیا گیا۔ مقدمہ چلتا رہا۔ مگر سندھ اسمبلی نے حق داروں کو حق نہ دیا۔اس کے بعد بار بار سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حکومتیں بنتی رہیں ۔ ان دونوں حکومتوں نے بلدیات کے سارے محکمے اپنے انڈر کر لیے۔ بدلیہ کو فنڈ نہیں دیتے ۔ اورسندھ کی حکومتیں خود کرپشن کرتی رہیں ۔ اب سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہوئے جماعت اسلامی کراچی نے اپنے امیر جناب حافظ انجینئرنعیم الرحمان کی قیادت میں اپنی خدمات کی وجہ سے کراچی میں بلدیہ کا الیکشن جیتا۔ کراچی جماعت اسلامی کا میئر بننا تھا ۔ مگر دھونس دھاندلی ، غنڈا گردی اور اسٹبلشمنٹ کی آشیر آباد سے جماعت اسلامی کراچی کو صرف نو ٹائون تک معدود کر دیا گیا ۔ میئر شپ پر پیپلز پارٹی نے زبردستی قبضہ کر لیا۔ پیپلز پارٹی نے عبدالوہاب صاحب کو میئر بنادیا۔جنہیں کراچی شہر سے زیادہ اپنی پیپلز پارٹی کی فکر ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کے نو ٹائون کے بلدیاتی کے فنڈ روک لیے۔پیپلز پارٹی نے بلدیات سے متعلق سارے محکمے اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کراچی جو پاکستان کو ستر فی صد ریوینیو کما کر دیتا ہے۔ اس شہر کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔پینے کا پانی نہیں مل رہا ۔ ٹینکروںسے خریدنے تو پانی مل جاتا ہے، مگر نلوں میں پانی نہیں آتا۔ بجلی کا نظام خراب ہے۔ٹرانسپورٹ کا نظام خراب ہے۔ کراچی کے عوام بسو ں و یگنوں سے لٹک کر گھر پہنچتے ہیں۔ صحت کا کوئی انتظام نہیں۔ تعلیم کا نظام درم برہم ہے۔ شہر میں ڈمپر سے ٹکرا کر موٹر سائیکلوں والے مر رہے ہیں۔ سوریج کے نظام کا یہ حال کے گٹروں پر ڈھکن نہیں ۔ بچے گڑوں میں گر گر کر شہید ہو رہے ہیں ،کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ڈاکو عوام کو قتل کر رہے ہیں۔ گل پلازہ میں آگ لگی تو آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے۔نہ باہر نکلنے کے راستے تھے۔ کئی دوکاندار اندر ہی دم گھٹنے سے شہید ہو گئے ۔جماعت اسلامی حکمرانوں کو انکے غلط کاموں پر ٹوکتی رہتی ہے جس سے ان کے دلوں میں جماعت اسلامی کیخلاف لاوہ ضرور پکتارہتا ہے۔ کسی وقت اگر زیادہ ہو جاتا ہے تو جماعت اسلامی کے کارکنوں پر طرح ٹوٹ پڑتے ہیں۔جماعت اسلامی کی کراچی کو جینے دو تحریک اس وقت تک چلتی رہے گی جب پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں آئین پر عمل پیرا نہیں ہوتیں۔ عوام کے بلدیاتی حقوق دینے پڑینگے۔جہاںبلدیاتی الیکشن نہیں ہوئے کرانے پڑینگے۔اللہ انصاف کا نظام قائم کرنے میں جماعت اسلامی کی مدد فرمائے ۔ آمین

Exit mobile version