یہ کوئی افسانہ نہیں، کوئی مبالغہ نہیں، کوئی جذباتی کہانی گھڑنے کی کوشش نہیںیہ اس خطہ ارض کی روزمرہ حقیقت ہے جسے دنیا نقشے پر تو پہچانتی ہے مگر انسانوں کی بستی ماننے سے انکاری ہے۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع کشتواڑ کے ایک گمنام سے گاؤں میں جو کچھ جانہ بیگم کے ساتھ ہوا ہے وہ دراصل ایک فرد کا المیہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی اجتماعی چیخ ہے ۔وہ چیخ جو پہاڑوں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے مگر عالمی ضمیر کے بند کانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔جانہ بیگم ایک ماں تھیں۔۔۔ صرف ایک ماں۔ نہ سیاست دان، نہ مزاحمت کار، نہ کسی تحریک کی رہنما۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ کشمیری تھیں اور ان کی بدنصیبی یہ کہ ان کا بیٹا ریاض احمد اس سرزمین میں جوان ہوا جہاں جوان ہونا خود ایک جرم ہے۔ بھارتی فورسز کی جانب سے مسلسل چھاپے، تذلیل، ہراسانی اور خوف کی فضاء نے ریاض احمد کو اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں جینا بھی خطرہ تھا اور گھر میں رہنا بھی۔ ریاض احمدمجبوراًگھرچھوڑ کرروپوش ہو گیا ۔ ماں کی بگڑتی صحت، لرزتا وجود، کانپتے ہاتھ اور آنکھوں میں بسی آخری خواہش کہ بیٹا ایک بار گھر آ جائے ۔سب کچھ ریاستی بربریت کے بوٹوں تلے روند دیا گیا۔یہ وہ ماں تھی جو ہر دستک پر چونک اٹھتی تھی شاید ریاض آ گیا ہو۔ یہ وہ باپ تھا جو ہر قدموں کی آہٹ پر دروازے کی طرف لپکتا تھا مگر دروازہ ہمیشہ خالی نکلتا۔ بھارتی ریاست کے ظلم نے صرف ایک نوجوان کو روپوش ہونے پر مجبور نہیں کیا بلکہ ایک ماں کی آخری آرزو چھین لی۔ ایک باپ کا سہارا توڑ دیا اور ایک جنازے کو اس کے سب سے قریبی کندھے سے محروم کر دیا۔جانہ بیگم کی تدفین کا منظر خود ایک نوحہ تھا۔ لوگ جمع تھے۔ قرآن کی تلاوت تھی۔آنسو تھے۔ سسکیاں تھیں مگر وہ چہرہ موجود نہیں تھا جسے ماں نے آخری سانسوں میں دیکھنے کی تمنا کی تھی۔ ریاض احمد اس لیے غیر حاضر نہیں تھا کہ وہ بے حس تھا بلکہ اس لیے کہ وہ زندہ رہنے کی کوشش میں اپنی ماں کی موت سے بھی بے خبر تھا۔ یہ وہ سفاک نظام ہے جو نہ جینے دیتا ہے نہ مرنے کا حق دیتا ہے نہ ملنے دیتا ہے نہ بچھڑنے کا سکون۔یہ واقعہ کسی ایک گاؤں، کسی ایک ضلع یا کسی ایک خاندان تک محدود نہیں۔ یہ مقبوضہ کشمیر کے ہر اس گھر کی کہانی ہے جہاں دیواروں پر جوان بیٹوں کی تصویریں لگی ہیں اور دروازوں پر تالے نہیںخوف لٹکا ہوا ہے۔ یہ ان ماؤں کی داستان ہے جو روز بیٹوں کے کپڑے سونگھتی ہیں۔ ان کے بستر درست کرتی ہیں اور پھر ایک انجانی سی امید کے سہارے آنکھیں موند لیتی ہیں کہ شاید کل وہ واپس آ جائیں۔بھارت دنیا کے سامنے خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے۔ انسانی حقوق کا چیمپئن بنتا ہے مگر کشمیر میں اس کا چہرہ ایک قابض، ایک جلاد، ایک ظالم ریاست کا ہے۔ یہاں قانون بندوق کی نال سے لکھا جاتا ہے۔ انصاف بوٹوں سے کچلا جاتا ہے اور سچ کو قید خانوں میں سسکنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں ماں کا بیٹے کو دیکھنے کا حق بھی سیکیورٹی رسک قرار دے دیا جاتا ہے۔ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوامِ متحدہ سب جانتے ہیں۔ سب دیکھتے ہیں۔ سب سنتے ہیں۔ رپورٹس لکھی جاتی ہیں۔ بیانات دئیے جاتے ہیں مگر عملی اقدام صفر۔ یہ خاموشی محض خاموشی نہیں یہ شراکتِ جرم ہے۔ جب ایک ماں اپنی آخری خواہش کے ساتھ قبر میں اترتی ہے اور دنیا خاموش رہتی ہے تو یہ خاموشی خود ایک جرم بن جاتی ہے۔کشمیر میں بھارتی قبضے کی انسانی قیمت اعداد و شمار میں نہیں سمائی جا سکتی۔ یہ قیمت ان ماؤں کے سفید ہوتے بالوں میں ہے۔ ان باپوں کی جھکی ہوئی کمر میں ہے۔ ان بچوں کی سہمتی آنکھوں میں ہے جو رات کو گولیوں کی آوازوں کے ساتھ سونا سیکھتے ہیں۔ یہ قیمت ان جنازوں میں ہے جن پر رونے والا تو پورا گاؤں ہوتا ہے مگر کندھا دینے والا بیٹا غائب ہوتا ہے۔جانہ بیگم کی کہانی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر کب تک؟ کب تک کشمیری ماں اپنے بیٹے کی راہ تکتی رہے گی؟ کب تک جنازے ادھورے رہیں گے؟ کب تک عالمی ضمیر مصلحت کی نیند سوتا رہے گا؟ اور کب تک بھارت کو اس کھلی جارحیت، اس ریاستی دہشتگردی، اس منظم ظلم پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جائے گا؟ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔ خاموش، سست مگر مسلسل۔ وہ بندوق سے نہیں تو خوف سے، گولی سے نہیں تو جدائی سے، قید سے نہیں تو انتظار سے مار رہا ہے۔اگر آج بھی یہ کہانی کسی ایڈیٹوریل میز پر محض ایک خبر بن کر رہ جائے، اگر آج بھی یہ سانحہ کسی فائل میں دب جائے تو یاد رکھا جائے کہ تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ کل جب پوچھا جائے گا کہ جانہ بیگم کیوں اپنے بیٹے کو دیکھے بغیر مر گئی تو جواب صرف بھارت کے پاس نہیں ہوگا، جواب اس دنیا کے پاس بھی ہوگا جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش رہی۔کشمیر رو رہا ہے اور یہ رونا کسی ایک ماں کا نہیںیہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔
جنازہ جسے بیٹے کا کندھا نصیب نہ ہوا

