پاکستانی نظام کا المیہ ہے کہ ملک کو درپیش اصل مسائل کو پس پشت ڈال کر محض بیانات کے سہارے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ رکھنے والا نہیں ہے۔ طبقاتی نظام کے اثرات، سود، بیروزگاری، روٹی، تعلیم، علاج اور انصاف کے حصول کے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں مگر گفتگو اچانک ایسے جملوں کے گرد گھومنے لگتی ہے جو نہ مسئلہ حل کرتے ہیں اور نہ معاشرے یا ملکی نظام پر مثبت اثر پڑتا ہے بس سرخیوں میں جگہ مل جاتی ہے اور شگوفے بنتے جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک مذہبی سیاسی رہنما کا یہ کہنا کہ اگر انہیں غصّہ آیا تو وہ سولہ سالہ لڑکی سے شادی کر لیں گے، چاہے قانون کچھ بھی کہے، بظاہر ایک اشتعال انگیز بات ہے مگر درحقیقت یہ ہمارے اجتماعی رویّے کی ایک جھلک ہے ۔ اس قسم کی بات اگر کسی عام آدمی کی زبان سے نکلتی تو شاید نظرانداز ہو جاتی مگر جب ایسا جملہ ایک ایسے شخص کہے جو مذہب اور سیاست دونوں میں اپنی شناخت رکھتا ہو تو پھر یہ ایک فرد کی ذاتی ذہنی کیفیت نہیں رہتی۔ یہ ایک سوچ بن جاتی ہے، اور سوچیں ہی معاشروں کا رخ متعین کرتی ہیں۔ یہاں سوال صرف شادی کی عمر کا نہیں بلکہ اس تصور کا ہے جس میں غصّے کو قانون پر فوقیت دی جا رہی ہے، جیسے ریاست محض ایک وقتی رکاوٹ ہو اور قانون کو جوتے کے نوک پہ رکھا جاتا ہو۔اگر ہم پاکستان کی بنیاد اور قیام کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ستتر سال قبل جب ریاست وجود میں آئی، تو تقسیم کی لکیر کے اس پار سے جوق در جوق لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے یہاں پہنچے لیکن گزشتہ ستتر سالہ حوادث و واقعات نے ان کی آنکھیں کھول دی ہیں کہ یہ پاکستان ان کے خوابوں کی ہرگز تعبیر نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے آج تک جو قوتیں نظام پر مسلط ہیں، وہ مسلسل قوم کو اسلامی نظام، جمہوریت، روٹی کپڑا، مکان اور انصاف کے خواب بیچتی رہی ہیں، لیکن قومی زندگی کے پے در پے واقعات اس فریب کا پردہ چاک کر چکے ہیں، مگر سیاسی قوتیں اب بھی اپنے ڈگر سے ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔غصّہ انسانی فطرت کا حصہ ہے، مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ غصّے میں کیے گئے فیصلے اکثر بعد میں پچھتاوے میں بدل جاتے ہیں۔ نکاح جیسے سنجیدہ اور دیرپا رشتے کو غصّے کے ساتھ جوڑ دینا نہ صرف اس رشتے کی اہمیت کم کرتا ہے بلکہ سماجی شعور کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔ دین ہو یا دنیا، کہیں یہ تعلیم نہیں ملتی کہ جذبات کو اصولوں پر حاوی کر دیا جائے۔ اس پورے بیان میں سب سے زیادہ خاموش کردار وہ سولہ سالہ لڑکی ہے جس کا ذکر اس طرح کیا گیا جیسے وہ کوئی مثال ہو، کوئی دلیل ہو کوئی علامت ہو۔سوشل میڈیا پر حافظ صاحب کی دھمکی کے بعد ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا۔ صارفین نے اپنے انداز میں غصّے اور طنز کا اظہار کیا کہیں لوگوں نے مزاحیہ میمز اور کارٹون بنائے تو کہیں سوال اٹھایا کہ کیا واقعی غصّے میں قانون کو نظر انداز کرنے کی اجازت مل سکتی ہے؟ نوجوانوں نے اس پر احتجاج اور طنز آمیز پوسٹوں کے ذریعے اپنی ناراضگی ظاہر کی جبکہ بعض زاویوں سے لوگوں نے اسے سیاسی اور سماجی رویّوں کی عکاسی قرار دیا۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ معاشرہ اب صرف سنتا نہیں، بلکہ فوراً اپنی رائے دیتا ہے ، اور خاموشی کے دن تقریباً ختم ہو چکے ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی کم پیچیدہ نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک جو سیاسی قوتیں مسلط رہی ہیں۔ وہ اقتدار کے ذریعے ذاتی مفادات اور مالی منفعت کے سوا کچھ نہیں چاہتی۔ سیاست و حکمرانی کے اس رویّے نے ملک کے پورے نظام کو تہہ و بالا اور تمام قومی اداروں کے مزاجوں کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ بدعہدی، وعدہ شکنی، کرپشن، قانون شکنی اور فریقانہ جانب داری ہماری سیاسی اشرافیہ کی پہچان بن چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں آج بھی قوم وقتی جذبات اور ہیجانات کی اسیر ہے اور کمزور شہریوں کے مسائل کسی کو نظر نہیں آتے ۔ریاست نے شادی کی عمر کے حوالے سے جو قانون سازی کی ہے۔ اس کا مقصد کسی مذہبی مسلک سے تصادم نہیں بلکہ بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں نے یہ سیکھا ہے کہ کم عمر شادی کے نتیجے میں تعلیم متاثر ہوتی ہے، صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔ اسلامی فقہ بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نکاح ایک ذمہ داری ہے اور جہاں نقصان کا اندیشہ ہو وہاں احتیاط لازم ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن اور مراکش جیسے ممالک نے قانونی شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کی ہے ۔ ان ریاستوں نے شریعت ترک نہیں کی، نہ مذہب کو کمزور کیا بس یہ تسلیم کیا کہ ریاست کی ذمہ داری کمزور کو تحفظ دینا ہے ۔ اسی طرح دوسری شادی اسلام میں عدل کی شرط پر مشروط ہے نہ کہ غصّے یا طاقت کے اظہار کیلئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ1947ء میں استعماری سیاست کی بنیادیں رکھی گئی تھیں جس نے سیاسی خاندانوں اور مدر پارٹیوں کے ذریعے قومی سیاست کے چہرے کو داغ دار کیا ۔ منافقت، بے اصولی اور قول و فعل کا تضاد اسی دور کی پیداوار ہے۔ آج بھی سیاسی قوتیں اسی سانچے میں گھلی ہوئی ہیں اور قوم پر تباہ کن سیاست مسلط کر رہی ہیں۔اصل مسئلہ طاقت اور ذمہ داری کا ہے۔ طاقت جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو سب سے پہلے کمزور متاثر ہوتا ہے اور اس ساری بحث میں کمزور ہمیشہ خاموش رہتا ہے، چاہے وہ بچہ ہو، عورت ہو یا عام شہری۔ قومیں نعروں یا دھمکیوں سے نہیں بنتیں بلکہ ٹھہراؤ، عدل اور بصیرت سے سنورتی ہیں۔ آج نئی نسل کو اس سانچے سے باہر نکل کر اپنے آزاد قومی سوچ کے پودے کو تن آور درخت بنانا ہوگا، تاکہ پاکستان کے حقیقی خواب کی تعبیر ممکن ہو۔
حافظ صاحب کی دھمکی۔۔۔۔۔۔۔!

