Site icon Daily Pakistan

خطے میں نئی صف بندی اور علیحدگی پسند گروہ

سنجیدہ حلقوں کے مطابق یہ امرخصوصی توجہ کا حامل ہے کہ پچھلے کچھ روز سے خطے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں علاقائی تنازعات کے اثرات سرحدوں سے نکل کر وسیع تر سیکیورٹی چیلنجز کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں حالیہ پیش رفت، جس میں ایک بلوچ علیحدگی پسند گروہ کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی حمایت کی گئی، نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ اس نے خطے میں نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے بیانیے کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد عالمی توجہ حاصل کرنا ہے۔اطلاعات کے مطابق فری بلوچستان موومنٹ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کو ” جرات مندانہ فیصلہ”قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس عمل کو مزید مؤثر، مربوط اور نتیجہ خیز بنائے۔ جان کاروں کے مطابق اس نوعیت کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے اندرونی اور سرحدی علاقوں میں پہلے ہی کشیدگی پائی جا رہی ہے، جس سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ فری بلوچستان موومنٹ ایک قوم پرست سیاسی وکالتی تنظیم کے طور پر خود کو پیش کرتی ہے، تاہم مختلف تجزیہ کار اسے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک دھڑے سے منسلک قرار دیتے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی کو پاکستان، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے دہشتگرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اسی پس منظر میں مبصرین کے مطابق فری بلوچستان موومنٹ کا یہ بیان نہ صرف ایک سفارتی اشارہ ہے بلکہ یہ عالمی طاقتوں کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے۔سفارتی ماہرین کے بقول ایسے بیانات کے پیچھے اکثر ایک بڑی حکمتِ عملی کارفرما ہوتی ہے۔ ایک سے زائد حلقوں کے مطابق فری بلوچستان موومنٹ اس بیان کے ذریعے امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ خود کو خطے میں ایک اہم فریق کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ جان کاروں کے مطابق اس کا مقصد ممکنہ طور پر سیاسی پذیرائی، بین الاقوامی حمایت اور حتیٰ کہ مالی معاونت حاصل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔اسی تناظر میں بعض آزاد تجزیہ کار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غیر ملکی عناصر کی جانب سے اس نوعیت کے گروہوں کو مختلف سطح پر معاونت فراہم کی جا سکتی ہے، جس میں سفارتی لابنگ، میڈیا بیانیہ سازی اور بعض صورتوں میں انٹیلی جنس یا لاجسٹک تعاون بھی شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد منظرِ عام پر نہیں آئے۔یہ صورتحال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ایران کے اندر مختلف نسلی گروہوں، بالخصوص کرد اور بلوچ آبادیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق بعض مغربی پالیسی مباحث میں ان گروہوں کا ذکر کیا جاتا رہا ہے کیونکہ ان کی تاریخ میں خودمختاری کی تحریکیں اور مزاحمتی سرگرمیاں شامل رہی ہیں۔ اسی تناظر میں فری بلوچستان موومنٹ جیسے گروہ موجودہ جغرافیائی کشیدگی کو اپنے مؤقف کو اجاگر کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان کے تمام علیحدگی پسند گروہ اس مؤقف سے متفق نہیں ہیں۔بعض دیگر تنظیمیں، جیسے بلوچ لبریشن آرمی کے دیگر دھڑے یا بلوچ لبریشن فرنٹ، ایران کی موجودہ صورتحال پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس اختلاف کی ایک بڑی وجہ ان گروہوں کے اہداف اور جغرافیائی ترجیحات میں فرق ہے۔ جہاں کچھ گروہ صرف پاکستان کے بلوچستان تک محدود مقاصد رکھتے ہیں، وہیں فری بلوچستان موومنٹ ایک وسیع تر”گریٹر بلوچستان”کے تصور کو فروغ دیتی ہے جو ایران اور افغانستان کے بعض علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ اس طرح کے بیانات پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کیلئے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ جان کاروں کے مطابق اگر ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ریاستی کنٹرول کمزور ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے بلوچستان تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں نہ صرف عسکریت پسند گروہوں بلکہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور اسمگلنگ کے عناصر کو بھی سرحد پار سرگرمیوں میں آسانی ہو سکتی ہے۔اسی ضمن میں سیکیورٹی ماہرین بجا طور پر خبردار کرتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں داخلی عدم استحکام کا اثر اس کے ہمسایہ ممالک پر بھی پڑتا ہے۔ اگر ایران کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس صورتحال کو انتہائی قریب سے مانیٹر کر رہا ہے کیونکہ کسی بھی غیر ریاستی عنصر کا مضبوط ہونا براہِ راست سیکیورٹی چیلنج بن سکتا ہے۔آخر میں سفارتی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک باہمی تعاون، سرحدی نظم و نسق اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو فروغ دیں۔ جان کاروں کے مطابق جب تک علاقائی سطح پر ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جاتی، اس قسم کے بیانات اور سرگرمیاں نہ صرف کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

Exit mobile version