سوچ رہا تھا کہ سیاسی موضوعات سے ہٹ کر بھی لکھا جائے جنہوں نے تمام زندگی اسی موضوع کو اپنا حرز جاں بنائے رکھا انہوں نے کونسا تیر مار لیا سیاسی صورتحال میں تو سر مو فرق دکھائی نہیں دیتا ۔وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ۔ کہتے ہیں کہ ایک مچھر نے ہاتھی کے کان میں رات گزاری صبح ہو گئی تو اس نے ہاتھی کا شکریہ ادا کیا اس پر ہاتھی بولا واﷲ نہ مجھے تمہارے آنے کی خبر ہوئی نہ جانے کی آج مردوں کی صنف نازک کے ہاتھوں لاچارگی و بے بسی کو موضوع کالم بنایا ہے ۔زمانہ ماضی میں بادشاہان وقت کے گھروں میں بیویوں کا راج رہا ۔امور مملکت سے لے کر گھروں تک انہی کا سکہ چلتا اور کسی کو ان کی منشا کے بغیر پر مارنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی موجودہ دور بھی کچھ ایسے حالات کا ہی غماز ہے لارنس نے کہا تھا کہ کوئی آدمی دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں برابر ایک نادر روزگار شخصیت نہیں ہوتا گھر میں وہ بیوی کا تابع ہوتا ہے عام طور پر ہمارا سماج مرد کا سماج تصور ہوتا ہے اور بیویوں سے غلاموں جیسا سلوک روا رکھنے کا مشاہدہ بھی دیکھنے کو ملا ہے تاثر یہی ہے کہ مرد ہی تشدد کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس مشاہدات بھی راقم کی نظر سے گزرے ہیں جہاں پر مرد مظلوم ہیں مرد تو وطن عزیز میں اقلیتی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ عورتیں اس ملک کی آبادی کا 52فیصد حصہ ہیں اکثریتی گروپ سے تعلق رکھنے والی آواز کو کیسے دبایا جا سکتا ہے صنف نازک کے مظلومیت کے نوحے تو ہر کس و ناقص کوازبر یاد ہیں لیکن مرد حضرات کا گریہ سننے پر کوئی آمادہ ہی نہیں اب تو حقوق نسواں کے نام پر چکن چھوڑ قانون سازی کا شعبہ بھی ان کی تحویل میں دے دیا گیا ہے جس ملک کی اسمبلی بھی مینا بازار کا دلکش منظر پیش کرتی ہے چار دیواری سے بڑھ کر اب تو یہ بیبیاں اسمبلی میں بھی ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے سے گریز نہیں کرتیں اینکر ز بیبیاں تو مردوں کو ناکوں چنے چبوا دیتی ہیں ان کی سٹی گم کر دیتی ہیں سیانے کہہ رہے ہیں کہ خواتین کو قومی دھارے میں لیے بغیر نتیجہ خیز ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا خواتین کو ضرور آگے لایا جائے لیکن مردوں کو تو پیچھے نہ دھکیلا جائے اس سے تو خاندانی نظام کے خدشہ پیدا ہونے کے امکانات ہیں کچھ عورتیں بڑی منظم اور دلیر ہوتی ہیں ان کی سخت گیری بڑے بڑے پہلوانوں کا پتہ پانی ایک کر دیتی ہے ۔راقم کا ایک ملنے والا جو مسلسل بیوی کے عتاب کا نشانہ ہے جب ایک دن راقم اسے ملنے کی خاطر اس کے مکان کے دروازے پر پہنچا تو اندر سے ٹھک ٹھک کی غیر مانوس آواز سنائی دی دروازے کی درز سے جھانک کر دیکھا تو اس کی بیوی جوتی سے اس کی پٹائی کر رہی تھی دروازہ کھلنے پر پوچھا کہ یہ آوز کیسی تھی اس نے جواب دیا کہ دیوار میں کیل ٹھونک رہا تھا جب کہا کہ یہ تو جوتیوں کی آواز تھی تو شرما کر کہنے لگا کہ ”مت واسطے ای مار رئی ہیں ”یعنی ہوم گورنمنٹ سمجھانے کیلئے ہی پٹائی کر رہی تھی ایک زمانے میں جھاڑو،جوتا اور چمچ ہی عورت کے ہتھیار ہوا کرتے تھے جن سے وہ بوقت ضرورت کام لیتی آج تو عورتیں کراٹے سیکھ کر اس میں بھی ماہر ہو گئی ہیں آج ہماری عوام بھی شریف اور بزدل خاوندوں کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے ان کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کرو تا کہ وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے ایک دن ایک دوست کے چہرے پر چوٹ کا نشان نظر آیا استفسار پر بتایا کہ اچانک پائوں پھسلنے کے کارن چوٹ آ گئی اندرون خانہ تحقیق سے ماجرا ہی الگ نظر آیا جسے صاحب گرنے سے تعبیر کر رہے تھے وہ ہوم گورنمنٹ کے حسن سلوک کا شاخسانہ نکلا ۔معزز قارئین میاں بیوی میں اکثر جھگڑا ہو جانا اس میں شرمندگی کی تو کوئی بات نہیں اکثر مرد اپنے رکھ رکھائو اور عزت و ناموس کے بچائو کیلئے خانگی جھگڑوں پر پردہ ڈال کر اپنی مردانگی کو ضعف کا شکار نہیں ہونے دیتے بظاہر ان کی دوستوں میں خوش نظر آنے کی کوشش سمندرکی خاموش لہروں کی طرح نہ جانے کتنے پوشیدہ طوفان لئے ہوتی ہے جھگڑا لو اور تند مزاج صنف نازک سے شادی کا نتیجہ جسم و جاں کیلئے تھوڑا بہت خطرے کا باعث تو ہوتا ہی ہے دور مت جائیں کرکٹ ،ہاکی وغیرہ کو ہی دیکھ لیں چوٹیں تو لگ ہی جاتی ہیں ویسے بھی تصادم اور کشمکش کے بغیر ازدواجی زندگی کا تصور اسی طرح ناممکن ہے جس طرح کوئی ملک ایسا نہیں جسے بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو ۔ہماری زبان میں ایک پرانے محاورے سے اس کی کافی مماثلت ہے ”جب اوکھلی میں سر دیا ہے تو دھماکوں سے کیا ڈر” ازدواج کی مشکلات تکلیف دہ تو ضرور ہوتی ہیں لیکن سمجھ دار مرد ان کے ساتھ سمجھوتے کا راستہ نکال ہی لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کامیاب شادی کا راز سمجھوتے اور مفاہمت کا ہی مرہون منت ہے ایسے شوہر کپڑوں کی دھلائی اور انہیں پریس کرنے کے کاریگر ،بہترین خانساماں اور بچوں کو نہلانے دھلانے کے ماہر ہوتے ہیں
کچھ مزا گیہوں کا کچھ حوا کے کہنے کا خیال
آپ ہی کہیے کہ اس موقع پر آدم کیا کرے
بعض اوقات رنجش نازک اور لطیف چوٹوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہنگامہ آرائی کا سبب بن جاتی ہے ویسے یہ ہنگامہ بھی زندگی کے وجود اور سلامتی کی علامت ہے ،غم اور خوشی دونوں کے تضاد کو ایک کر دینے کا خوبصورت فن مرزا غالب کا ہی حصہ ہے وہ انسانی محسوسات کے بہترین نباض تھے وہ کہتے ہیں
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی
ایک فلسفی کی شادی کے چند دن بعد دوستوں نے پوچھا سنائو پتنی کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے تو اس نے جواب دیا کہ شادی کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اس دنیا میں تمام کنوارے اندھے اور تمام شادی شدہ گونگے ہیں دوستوں نے پوچھا وہ کیسے کہنے لگا کہ شادی شدہ لوگ اس لئے گونگے ہیں کہ ان کو شور مچانا چاہیے کہ خبردار اس کوچے میں قدم نہ رکھنا وہ بعد از شادی تمام مصائب و مشکلات کا علم رکھنے کے باوجود کنواروں پر یہ حقیقت افشا نہیں کرتے ۔شادی پر محض ہنی مون گزرنے پر ہی دولہا میاں کو زندگی کی تلخ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا ۔پھر وہی رسمی چخ چخ ،زمینی حقائق کی آگاہی دل گرفتگی کا باعث بنتی ہے الجھائو ،لڑائی،ہاتھا پائی کیلئے کوئی سامان درکار نہیں ہوتا عقل کی پوٹلی خالی ہو تو زیادہ جشن کا سماں ہوتا ہے بد زبانی ،بک بک ،بہتان اور بے لحاظی کا سفر جاری رہے تو کسی کابھی استحقاق مجروح کو سکتا ہے مرد کو گھر میں عافیت بھی درکار ہوتی ہے جو بعض اوقات بغاوت پر ابھار دیتی ہے سنتے ہیں کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے لیکن اکثر اس تالی کے پیچھے کوئی تیسرا ہاتھ بھی کارفرما ہوتا ہے میاں بیوی کے بیچ صلح کا کردار ادا کرنے والے ثالث نے کہا کہ بی بی دانت تو بتیس ہوتے ہیں تم چونتیس کیسے توڑو گی تو وہ کہنے لگی کہ مجھے علم تھا کہ تم نے بیچ میں ضرور بولنا ہے اس لئے میں نے دو دانت تمہارے بھی شامل کر لیے ہیں خزاں رسیدہ ،خوشی ندیدہ شوہروں کے متعلق ایک دوست کا کہنا ہے کہ اگلی زندگی میں جنت کے حقدار ہیں چونکہ انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی دوزخ میں بسر کی اس لئے ان کا حق بنتا ہے کہ بارگاہ ربوبیت مرنے کے بعد ان پر جنت کے دروازے کھول دے کیونکہ
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
وفا دار شوہر تو زندگی کے دن پورے کر رہے ہوتے ہیں جب ان کو بڑی زک پہنچتی ہے تو صرف معذرت خواہانہ احتجاج کی ہی کبھی کبھار جرأ ت کرتے ہیں جیسے ہماری حکومتیں امریکہ کیساتھ کرتی ہیں بات کہاں سے شروع کی تھی کدھر نکل گئی علامہ اقبال نے فرمایا تھا
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
معزز قارئین اگر تصویر کائنات میں رنگ پھیکا پڑ جائے تو پھر جینے کا معاملہ خون جگر دینے تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا ملٹن کا یہ قول بجا ہے کہ عورت سب سے اچھا اور سب سے آخری تحفہ ہے اس کی قدر کرو لیکن مصائب زدہ مردوں کی بھی قدر دانی ضروری ہے پاکستان خواتین کیلئے خطرناک ترین ممالک میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے خواتین پر تشدد ضرور رکنا چاہیے لیکن خواتین کی طرف سے مردوں پر تشدد کیلئے بھی قانون سازی کی ضرورت ہے ہر روز اخبارات کی شہہ سرخیاں گواہ ہیں کہ بعض بیویاں شوہروں کو آشنائوں کے ساتھ مل کر قتل کر رہی ہیں سماجی تنظیمیں سفاک بیویوں کی وحشت کے بارے اسے عورت کا ردعمل قرار دے کر معاملہ ختم کر دیتے ہیں اکثریتی گروپ ہونے کے باوجود عورت نے مرد کو اگر سر کا تاج بنایا ہوا ہے تو اس سر پر قائم رہنے کا اہتمام بھی د حضرات کا اولین فرض ہے۔
کالم
خواتین کے مردوں کیخلاف قانون سازی کی ضرورت
- by web desk
- نومبر 27, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 30 Views
- 3 دن ago

