Site icon Daily Pakistan

خوراک کی نعمت۔۔۔!

شادی بیاہ اور مختلف تقریبات میں کھانے پینے کی اشیا کا بے دریغ ضیاع ایک ایسا المیہ بن چکا ہے جسے دیکھ کر دل رنجیدہ ہو جاتا ہے اور جس وسیب میں نعمتوں کی قدر نہ کی جائے وہاں اجتماعی شعور کی پختگی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ شادیوں اور بڑی دعوتوں میں جب لوگ اپنی پلیٹوں میں ضرورت سے کہیں زیادہ کھانا بھر لیتے ہیں اور پھر اس کا بڑا حصہ کوڑے دان یا نالیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل صرف معاشی وسائل کے ضیاع تک محدود نہیں رہتا بلکہ اخلاقی اور سماجی سطح پر بھی ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے۔تقریبات میں اکثر یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ مہمان پلیٹ میں کھانے کی اتنی زیادہ مقدار رکھ لیتے ہیں کہ وہ کھانے کا ڈھیر کسی مینار کی مانند دکھائی دینے لگتا ہے، بعد میں وہ کھانا کھا نہیں سکتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پلیٹ میں موجود باقی ماندہ کھانا بغیر کھائے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ رویہ محض ایک انفرادی بے احتیاطی نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیماری کی علامت ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرتی شعور کو مضمحل کر رہی ہے۔خوراک کے ضیاع کا مسئلہ مذہبی یا اخلاقی زاویے تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق معیشت اور سماجی انصاف سے بھی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو روزانہ مناسب غذا سے محروم رہتے ہیں۔ غذائی قلت اور بھوک ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے جس کے باعث لاکھوں بچے غذائی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں جب کسی معاشرے میں وافر مقدار میں موجود خوراک بے دردی سے ضائع کی جائے تو یہ طرزِ عمل انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم دکھائی دیتا ہے۔ جس خوراک کو بے توجہی کے ساتھ کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں وہی کسی دوسرے انسان کی زندگی کا سہارا بن سکتی تھی۔خوراک کی تیاری کے پس منظر میں جو طویل اور محنت طلب عمل کارفرما ہوتا ہے وہ بھی توجہ کا مستحق ہے۔ ایک دانہ گندم یا چاول محض بازار کی کسی دکان سے نمودار نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے پیچھے کسان کی انتھک محنت، زمین کی زرخیزی اور قدرتی وسائل کا اشتراک ہوتا ہے۔ کسان سب سے پہلے بہترین بیج کا انتخاب کرتا ہے۔ وہ زمین کو ہموار کرتا ہے، اسے قابلِ کاشت بناتا ہے اور پھر احتیاط کے ساتھ بیج بوتا ہے۔ اس کے بعد مسلسل محنت کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں کھاد ڈالنا، پانی دینا ، فصل کو بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رکھنا اور موسمی تغیرات سے نمٹنا شامل ہوتا ہے۔ کسان سورج کی تپش اور موسم کی سختیوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنی محنت جاری رکھتا ہے تاکہ کھیت لہلہا سکیں اور اناج تیار ہو سکے۔جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو اس کی کٹائی ایک اور محنت طلب مرحلہ ہوتا ہے۔ کٹائی کے بعد تھریشر کے ذریعے دانوں کو الگ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں منڈیوں یا فیکٹریوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ وہاں سے یہ اناج چکیوں میں پیسا جاتا ہے اور آٹے یا دیگر اشیا کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد گھروں اور ہوٹلوں کے باورچی خانوں میں اسے پکانے کا مرحلہ آتا ہے جہاں مزید محنت اور وسائل صرف ہوتے ہیں۔ اس پورے عمل میں وقت، سرمایہ اور انسانی محنت کا ایک طویل سلسلہ شامل ہوتا ہے۔ جب یہ سب مراحل مکمل ہونے کے بعد خوراک ہماری پلیٹ تک پہنچتی ہے تو درحقیقت اس کے پیچھے بے شمار ہاتھوں کی محنت اور قدرت کی عنایت کارفرما ہوتی ہے۔ اس طویل محنت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی خوراک کو محض بے توجہی کے ساتھ ضائع کر دیں تو یہ عمل نہ صرف ناشکری کے مترادف ہے بلکہ اس محنت کی بھی توہین ہے جو کسانوں اور مزدوروں نے اس کے حصول کیلئے صرف کی ہوتی ہے۔ ایک مہذب معاشرہ اپنی نعمتوں کی قدر کرتا ہے اور ان کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہی رویہ اجتماعی ترقی اور اخلاقی پختگی کی بنیاد بنتا ہے۔تقریبات میں کھانے کے آداب بھی تہذیب و شائستگی کا اہم حصہ ہیں۔ مہذب معاشروں میں یہ بات قابلِ قدر سمجھی جاتی ہے کہ انسان اپنے طرزِ عمل میں اعتدال اور وقار کا مظاہرہ کرے۔ کھانا کھاتے وقت سادگی، صفائی اور ترتیب کا لحاظ رکھا جائے۔ پلیٹ میں اتنا ہی کھانا لیا جائے جتنا آسانی سے کھایا جا سکے۔ اگر مزید ضرورت محسوس ہو تو دوبارہ لیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے نہ صرف خوراک کا ضیاع روکا جا سکتا ہے بلکہ ایک مہذب اور شائستہ ماحول بھی برقرار رہتا ہے۔کھانے کے دوران شور و غوغا یا غیر مہذب انداز بھی معاشرتی آداب کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اکثر گھروں میں کھانا ضرورت سے زیادہ پکایا جاتا ہے اور پھر بچ جانے والا کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر کھانا پکانے سے پہلے گھر کے افراد کی تعداد اور ضرورت کا اندازہ کر لیا جائے تو اس مسئلے سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کبھی کھانا بچ جائے تو اسے ضائع کرنے کے بجائے ضرورت مند افراد تک پہنچانا ایک بہتر اور انسانی رویہ ہے۔ معاشرتی روایت میں پڑوسیوں کے ساتھ تعاون اور ہمدردی کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔گھروں میں بچ جانے والا کھانا صفائی اور مناسب طریقے سے پڑوسیوں یا مستحق افراد تک پہنچا دیا جائے تو اس سے نہ صرف خوراک کا ضیاع کم ہو سکتا ہے بلکہ معاشرتی روابط میں بھی گرمجوشی اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ایک چھوٹا سا عمل بھی معاشرتی ہم آہنگی اور انسان دوستی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔تعلیم اور شعور کی بیداری اس مسئلے کے حل میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے نعمتوں کی قدر اور اسراف سے بچنے کی تربیت دی جائے تو وہ بڑے ہو کر ایک ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں۔ اسکولوں، گھروں اور سماجی حلقوں میں اس موضوع پر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ سکے اور عملی طور پر اس سے بچنے کی کوشش کرے۔میڈیا اور سماجی ادارے بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Exit mobile version