کالم

خوست میں ”جعلی فضائی حملوں کے الزامات ‘۔سچ کیا ؟

یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ کابل حکومت نے ایک بار پھر پاکستان پر خوست کے علاقے میں مبینہ فضائی حملے کا الزام عائد کیا، لیکن نہ حملے کے شواہد پیش کیے، نہ مقام کی نشاندہی کی، نہ ہلاک ہونے والوں کا ریکارڈ دیا اور نہ ہی کسی غیر جانبدار مبصر کو موقع پر بلایا۔ مبصرین کے مطابق کابل کا یہ طرزِ عمل نیا نہیں۔ جب بھی افغانستان کے اندر طالبان گروہوں کی باہمی چپقلش بڑھتی ہے، یا ٹی ٹی پی/جماعت الاحرار کے دھڑے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں، کابل فوری طور پر الزام پاکستان پر دھر دیتا ہے—تاکہ داخلی انتشار کو چھپایا جا سکے۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ **خوست–برمل** کا پورا بیلٹ کئی برس سے ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار (JuA) اور دیگر خوارج گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔مبصرین کے مطابق اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس علاقے میں دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں، رہائش گاہوں اور اسمگلنگ روٹس کی نشاندہی کر چکی ہیں۔ ایسے میں کابل کا یہ کہنا کہ مبینہ حملہ ایک ”سویلین گھر” پر تھا، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کابل جان بوجھ کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ”گھریلو مکان” بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ عالمی ہمدردی سمیٹی جا سکے۔یہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ حالیہ دنوں میں **اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس حملہ، وانا کیڈٹ کالج دھماکہ اور پشاور حملہ**—تینوں واقعات میں ملوث دہشت گرد افغان شہری تھے۔ یہ حملے کابل کے لیے شدید سفارتی دباؤ کا سبب بنے ہیں، خصوصاً ترکیہ، سعودی عرب، روس اور ایران کی جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ کابل سمجھ رہا ہے کہ پاکستان ان حملوں کا **جائز اور قانونی ردعمل** دے سکتا ہے، اس لیے پیشگی طور پر جھوٹے الزامات کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اسے دنیا سے نہیں چھپاتا۔ ریاستِ پاکستان نے ہمیشہ اپنی کاؤنٹر ٹیرر ازم کارروائیوں کا کھلے عام اعتراف کیا ہے—خواہ وہ اکتوبر کی کارروائیاں ہوں یا پہلے کے آپریشنز۔ پاکستان کی روش شفاف رہی ہے: جب جواب دیا جاتا ہے تو دنیا دیکھتی ہے۔ اس کے برعکس کابل کا حال یہ ہے کہ ہر اندرونی دھماکے کو پاکستان پر ڈال کر جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔خوست–برمل میں دھماکوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ واضح کرتا ہے کہ زیادہ تر واقعات **ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے اندرونی جھگڑوں، دھڑوں کی چپقلش یا بارودی مواد کے حادثات** کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جن گھروں کو کابل ”سویلین” ظاہر کرتا ہے، وہ دراصل ایسے ہی خوارج گروہوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں جہاں بارود، راکٹ اور اسلحہ ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی لاشوں اور زخمیوں کی تصاویر بھی یا تو پرانی ہوتی ہیں، یا شام و غزہ کی فوٹیج سے اٹھائی جاتی ہیں، یا پھر واضح طور پر ایڈیٹ شدہ ہوتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان اور بھارت کے پروپیگنڈا اکاؤنٹس ہمیشہ ایک ساتھ فعال ہوتے ہیں۔ جیسے ہی افغانستان کوئی الزام بناتا ہے، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا فوراً اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ تجزیہ کار اسے کابل اور نئی دہلی کی **بیانیاتی شراکت داری** قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد پاکستان پر عالمی دباؤ بڑھانا اور افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کی توجہ ہٹانا ہے۔پاکستان نے بارہا کابل کو **مشترکہ تحقیقات، مشترکہ سروے ٹیمیں اور مشترکہ کاؤنٹر ٹیرر میکانزم** پیش کیے، لیکن کابل ہر پیشکش کو رد کر دیتا ہے۔ وجہ واضح ہے: اگر مشترکہ ٹیم جائے گی تو اس کے سامنے ”سویلین گھروں” کی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی—وہ دراصل دہشت گردوں کے کمپاؤنڈ ہیں، نہ کہ بے گناہ عوام کی رہائش گاہیں۔یہ امر بھی اہم ہے کہ کابل اپنی داخلی سیکیورٹی ناکامیوں، طالبان دھڑوں کی لڑائی، خوارج گروہوں کے حملوں اور TTP کے اندرونی تصادم سے توجہ ہٹانے کے لیے وقتاً فوقتاً ایسے افسانوی واقعات تراشتا ہے۔ اس مرتبہ بھی الزام تراشی کا مقصد وہی ہے—بین الاقوامی تنقید سے بچنا اور پاکستان کے خلاف ایک مصنوعی بحران کھڑا کرنا۔سنجیدہ مبصرین کے مطابق خطے میں امن کا راستہ واضح ہے:* افغانستان کو ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور دیگر خوارج کے ٹھکانے ختم کرنے ہوں گے۔* افغان سرزمین کا استعمال پاکستان پر حملوں کے لیے بند کرنا ہوگا۔* افغان خودکش حملہ آوروں کی سرپرستی اور تحفظ ختم کرنا ہوگا۔* الزام تراشی کے بجائے مشترکہ سیکیورٹی میکنزم قائم کرنا ہوگا۔جب تک کابل یہ بنیادی ذمہ داریاں قبول نہیں کرتا، اس کی جانب سے لگائے گئے ہر الزام کا مقصد صرف ایک ہوگا—زمینی حقیقت سے فرار۔اختتاماً، یہ بات دوبارہ دہرانا ضروری ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے:**الزامات نہیں، شواہد پیش کریں۔ مشترکہ ٹیم بلائیں۔ غیر جانبدار تحقیقات کروائیں۔**اگر کابل کے پاس کوئی سچ ہے تو اس طریقہ کار سے ہی سامنے آئے گا۔لیکن جب تک حقائق چھپائے جائیں، ٹھکانوں کو گھروں کا نام دیا جائے، اور داخلی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جائے، خطے میں امن ممکن نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے