مضامین اور اپنی تصنیف ” دُخترِ مشرق” میں کرتی رہی ہیں۔
کتاب کے مطالعے ہی سے معلوم ہوا کہ ایک روسی دانشور خاتون محترمہ آنانا سوووروا (Anna Suvorova) نے روسی زبان میں BENAZIR BHUTTO A Multidimensional Portraitتحریر کی ، جس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انگریزی زبان میں بھی ترجمہ کرکے شائع کیا گیا۔ روسی دانشور کی اس کتاب میں اسلام میں خواتین کے عملی سیاست میں فعال ہونے پر مذہبی پیشوائوں کے اعتراض کاجواب اس غیر مسلم خاتون نے اسلامی تاریخ کے حوالوں سے دیا ۔ جس میں ملکہء صباسے کے کر حضرت ِخدیجة الکبری تک خواتین کارِ سرکار اور کاروبار ِ دنیا میں بھرپور کردار پر خوب روشنی ڈالی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ ام المومنین حضرتِِ خدیجة الکبری کی سیرت اور کردار سے سمجھا اور اپنی کتاب Reconciliation: Islam, Democracy and West میں سمجھایا بھی۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے بے نظیر صاحبہ کے علم و دانش پر بھی خوب روشنی ڈالی ہے ۔ بے نظیر اصلاح نسواں ترقی نسواں کے لیے کوشاں رہی ہیں۔جدیدت اور جمہوریت کی علم بردار اپنی دینی اور قومی شناخت پر نہایت فخر کے ساتھ مغربی اور مشرقی تہذیبوں کے تصادم کی بجائے مفاہمت اور تعاون کی نہ صرف بہترین وکیل رہیں بلکہ عملی طور پر بھی سرگرم رہیں۔
بی بی کی تصنیف Reconciliation: Islam, Democracy and Westاس موضوع پر ان کی بے مثال تصنیف ہے۔جس میں وہ مشرقی اور مغربی تہذیبوں کے مابین تعاون کے ساتھ ساتھ قومی و ملّی زوال کے اسباب سے بھی خوب واقف تھیں۔ انہوں نے طالبان کی جنگ و جدل کو اسلام کے اصولوں سے انحراف قرار دیا۔اپنے والد سے جہاں سیاسی بصیرت ورثے میں ملی وہاں کتاب بینی کا شوق اور جستجو بھی پائی۔کتاب میں بی بی کے چچازاد بھائی جناب طارق اسلام کی یادوں سے ایک حوالہ
درج ہے کہ ” کھانے کی میز پر بیٹھے اپنی گفتگو کے درمیان بے نظیر نے سیاست کے ساتھ شاعری کی کتابوں کا تذکرہ بھی شروع کردیا ۔ ایسے میں اچانک پوچھا : کیا تم نے روسی شاعرہ اینا خماتوا کو پڑھا ہے؟ ” اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دنیا کے انقلابی شعراء کے ناموں سے واقف تھیں بلکہ ان کے مجموعہ ہائے کلام پڑھ بھی چُکی تھیں۔ ایک طرف اتنی باشعور اور وسیع المطالعہ قیادت پیپلز پارٹی کا مقدر رہی اور چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک ایسا شخص بھی پیپلز پارٹی کی حکومت میں پہلے وفاقی وزیر پانی و بجلی رہا اور بعد میں وزیر اعظم کے منصب پر بھی فائز ہوا جسے پارٹی کے ابتدائی اور بنیادی ترجمان ہفت روزہ رسالے ”نصرت” سے بھی واقفیت نہیں تھی۔ یہ واقعہ دانشور اور رسالہ نصرت کے ایڈیٹر جناب علی جعفر زیدی صاحب نے اپنی سیاسی خودنوشت ” باہر جنگل اندر آگ ” میں بیان کیا ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد اور بے تعصب ہو کر لکھی گئی تصنیف ہے ۔ زیدی صاحب بتاتے ہیںکہ 2007 ء میں جب بے نظیر بھٹو واپس جانے کی تیاری کررہی تھی تو انھیں ایک محفل میں شرکت کاموقع ملا جس کے مہمان خصوصی مخدوم امین فہیم تھے۔ دوران گفتگو کئی بار ” نصرت” اور ایڈیٹر ”نصرت” کا ذکر بھی ہوا۔امین فہیم صاحب کچھ دیر کے لیے گئے تو ایک صاحب نے اُن سے سوال کیا” زیدی صاحب آپ نصرت بھٹو صاحبہ کے ایڈیٹر تھے؟” زیدی صاحب کو اپنی سماعت پر یقین نہ آیالیکن جب موصوف نے سوال دہرایا تو زیدی صاحب کو انتہائی افسوس ہواکہ یہ صاحب جو پارٹی کے مرکزی عہدیدار اور ”اہم لیڈر” کہلاتے ہیں انھیں جہاں یہ معلوم نہیں کہ وہ بیگم نصرت بھٹو نہیں بلکہ ہفت روزہ ”نصرت” پارٹی کا ترجمان تھے وہاں انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایڈیٹر کسی شخص کا نہیں اخبار یارسالے کا ہوا کرتا ہے۔عقلی زوال کی گہرائی میں رہنے والا اور بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی کی تاریخ سے اس بے بہرہ شخص کانام راجہ پرویز اشرف تھا۔ کیسی بلندی اور ایسی پستی۔پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی کتاب میں بے نظیر شہید کے خُطبات و مقالات پر مشتمل دو کتابوں WHITHER PAKISTAN: Dictatorship or Democracy اور Fatih in Peopleکا بھی مختصر تعارف موجود ہے۔ ان خطبات اور مقالات میں بی بی شہید اپنی سرزمین پر بسنے والوں کے سرداری و جاگیرداری نظاموں سے عوامی جمہوری عہد تک کے ارتقائ، آمریت کی نفی اور جمہوریت کے حق میں پُرزور اور مئوثر دلائل دیتی ہیں ، جو ان کی علمی قابلیت، وسیع مطالعے اور سیاسی بصیرت کی معراج کی عکاسی کرتے ہیں۔
دُخترِ ملّت بے نظیر شہید: فکر وعمل

