Site icon Daily Pakistan

دہشتگردی اور قومی پیغام امن کمیٹی کی کاوشیں

تمام مکاتب فکر کے علما پر مشتمل قومی پیغامِ امن کمیٹی نے آئینِ پاکستان، قانون کی بالادستی اور ریاستی رِٹ کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے،علما و مشائخ نے دہشتگردی کیخلاف قربانیاں دینے والے سکیورٹی اداروں کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں قوم کا فخر قرار دیا۔پاکستان کو درپیش سب سے سنگین چیلنجز میں دہشتگردی، انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ تشدد سرفہرست رہے ہیں۔ ان عناصر نے نہ صرف ہزاروں معصوم جانیں نگلیں بلکہ اسلام کی اصل، پرامن اور معتدل تعلیمات کو بھی مسخ کرنے کی دانستہ کوشش کی۔ ایسے نازک حالات میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ نظریاتی و فکری محاذ پر بھی اشد محنت کی ضرورت ہے ۔ ایک مضبوط، متفقہ اور مستند دینی و فکری بیانیہ ہی دشمن کے عزائم کو خاک آلود کرے گا۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر قومی پیغامِ امن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔پیغامِ امن کمیٹی دراصل ملک بھر کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علما، مشائخِ عظام اور دینی رہنمائوں پر مشتمل ایک قومی فورم ہے، جسے ریاستی سطح پر اس مقصد کے تحت منظم کیا گیا کہ مذہب کے نام پر کی جانیوالی دہشتگردی، تکفیر اور مسلح بغاوت کیخلاف ایک متفقہ اسلامی موقف سامنے لایا جا سکے۔یہ کمیٹی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی زیرِ نگرانی کام کرتی ہے اور وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اس کی سربراہی کر رہے ہیںجبکہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اس کمیٹی کے کوآرڈینیٹر ہیں دیگر اراکین میں مکاتب فکر کے جید علما، مشائخ ، اقلیتوں کے نمائندگان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شامل کیے گئے ہیں۔ جن میں سینیٹر حافظ عبدالکریم، مفتی عبدالرحیم، علامہ عارف حسین واحدی، پیر نقیب الرحمان، علامہ محمد حسین اکبر ، ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی ، مولانا طیب پنج پیری اور علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری شامل ہیں ۔ اقلیتوں کی نمائندگی کیلئے بشپ آزاد مارشل، راجیش کمار ہرداسانی اور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کمیٹی میں شامل ہیں۔ یہ کمیٹی پیغامِ پاکستان جیسے تاریخی قومی بیانیے کی عملی توسیع سمجھی جاتی ہے، جس پر تمام مکاتبِ فکر کے ہزاروںعلما نے دستخط کر کے دہشتگردی ، خودکش حملوں اور ریاست کیخلاف مسلح جدو جہد کو صراحتا غیر اسلامی اور حرام قرار دیا ہے ۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی کا سب سے اہم کردار دہشتگردی کے خلاف فکری محاذ قائم کرنا ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اسلام میں کسی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود ساختہ تعبیرات کی بنیاد پر ریاست، سکیورٹی فورسز، عوام ، علما، مساجد یا مدارس کو نشانہ بنائے۔علماء کا متفقہ موقف ہے کہ بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور جو عناصر یہ جرائم اسلام کے نام پر کر رہے ہیں وہ درحقیقت اسلام، پاکستان اور امتِ مسلمہ کے بدترین دشمن ہیں ۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کمیٹی نے اپنے قیام کے بعد سے کچھ اہم حکومتی و سکیورٹی اداروں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی، جس میں داخلی سلامتی، کالعدم تنظیموں کیخلاف مشترکہ موقف اور قومی بیانیہ کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔بعد ازاںقومی پیغامِ امن کمیٹی نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعظم ہائوس میں ملاقات کی ۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کے اراکین نے پاکستان میں امن کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات کو سراہا اور اس قومی ایجنڈے کے نفاذ میں صوبائی حکومتوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ۔ ملاقات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ، بلوچ لبریشن آرمی اوردیگر دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئندبات ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی ایک ایسا کردار ادا کرنے جا رہی ہے جس کی اس وقت بہت ضرورت ہے۔ قومی پیغام امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جس اعتماد کا اظہار وزیراعظم نے کیا ہے ہم اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے، خیبر پختونخواکے تمام علما کرام کی دو روزہ علما مشائخ کانفرنس بلائی جائیگی جس میں مشاورت سے فیصلے کئے جائینگے اوران کے تمام تحفظات کو دور کیا جائیگا ،16جنوری کو قومی پیغام امن کمیٹی کی اپیل پر ملک بھر میں یوم پیغام پاکستان منایا گیا ۔ کراچی سے خیبر تک تمام مکاتب فکر کے علما ومشائخ ، ائمہ و خطبا ، ذاکرین وواعظین نے خطبات جمعہ میں عوام الناس کو پیغام پاکستان فتوی و بیانیہ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کا دہشتگردوں اور دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ، جو لوگ اسلام کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں وہ اسلام کے باغی ، جہنم کا ایندھن اور خارجی ہیں ۔ ایسے باغیوں اور خارجیوں کیخلاف جنگ میں تمام مکاتب فکر کے علما اپنی ریاست، عوام اور مسلح افواج کیساتھ کھڑے تھے ، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ریاست کے امن و استحکام کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں ، خیر کے ہر معاملے میں دین اور وطن کیلئے ہم ریاست ، حکومت ، افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Exit mobile version