آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق میں عبرتناک شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکاربھارت اب چھپ کراورپاکستان کے خارجیوں اورگودی افغان طالبان کے ذریعے پاکستا ن میں دہشتگردی پھیلانے کی ناکام کوشش کرہاہے۔ لیکن۔ الحمداللہ جہاں پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج،حکومت پاکستان ،پاکستانی قوم نے یکجاں ہوکردُشمن کوعبرتناک شکست دی اِسی طرح دہشتگردی کی جنگ میں بھی بھارتی حمایت یافتہ اورافغان طالبان کی پراکسی فتنتہ الخوارج کاقلع قمع جاری ہے۔گزشتہ روزہی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران بھارتی حمایت یافتہ اورافغان طالبان کی پراکسی فتنتہ الخوارج کے دہشتگردوںکے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا او22 خوارج کوجہنم واصل کیا۔رواں ماہ ہی بھارتی حمایت یافتہ اورافغان طالبان کی پراکسی فتنتہ الخوارج کے دہشتگردوں نے ایک دفعہ پھرپاکستان میں سانحہ اے پی ایس پشاورکی طرح چھپ کروانا میں پاکستان کے معصوم بچوں پرحملے کی ناکام کوشش کی لیکن الحمداللہ پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج نے دہشتگردوں کوموقع پرہی جہنم واصل کردیا ۔ گزشتہ روزدہشتگردوں نے پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹرپربھی حملے کی ناکام کوشش کی اورتینوں دہشتگردوں کوموقع پر ہی واصل جہنم کر دیا گیا جبکہ 3ایف سی جوان شہید اور11زخمی ہوئے ۔اسلام آباد کچہری خودکش دھماکہ،واناکیڈٹ کالج،پشاورایف سی ہیڈکوارٹرحملے کے مکمل تانے بانے افغانستان اور بھارت سے مل رہے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق دہشتگردمسلسل افغانستان میں رابطے میں تھے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکی کچہری کے باہرخودکش بمبارکے ذریعے دُشمن بہت بڑانقصان کرناچاہتاتھا لیکن وہ کسی مین ٹارگٹ کو ہٹ نہیں کر سکے اور بیچ سڑک میں ہی خودکش دھماکہ ہوا اوراللہ کے فضل و کرم سے ملک بڑے سانحہ سے محفوظ رہا، واقعے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس بیورو نے خودکش دھماکے میں ملوث چاروں ملزمان کو گرفتارکیا،گرفتارکئے گئے دہشتگردوں میں سے ساجد اللہ عرف شینا نے افغانستان سے تعلق، افغانستان سے خودکش بمبار کے آنے، وہاں ٹریننگ لینے اور دیگر معاملات کامکمل اعتراف کرلیاہے جوکہ ٹھوس شواہد ہیں کہ یہ خودکش دھماکہ ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی نے مل کر کیا اورخودکش بمبار بھی افغانستان کا رہائشی تھا۔پاکستان اورافغانستان کے مذاکرات ختم ہوچکے ہیں اورپاکستان نے دوست ممالک سمیت سب کوآگاہ بھی کردیاہے کہ کئی بارافغانستان کوثبوت دینے کے باوجود افغانستان میں پاکستان کے خارجیوں اورٹی ٹی پی کی محفوظ کمین گاہیں ہیں اوراب توافغان طالبان مکمل طورپربھارت کی گود میں بیٹھ چکے ہیں اورپاکستان میں حالیہ دہشتگردی میں مکمل طورپرملوث بھی ہیں ۔ گزشتہ ماہ افغانستان نے پاکستان میں دراندازی کی بھی ناکام کوشش کی لیکن افواج پاکستان کے دندان شکن جواب کے بعدفوراًہی جنگ بندی کی اپیل بھی کردی۔ گزشتہ روز افغان طالبان نے ایک دفعہ پھرپاکستان پر فضائی حملے کا الزام لگایاجسے نہ صرف عالمی میڈیانے بھی مستردکردیابلکہ ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان طالبان کا الزام مسترد کرتے ہوئے بڑاخوبصورت جواب دیاکہ ” پاکستان حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے اور ہم سویلین پر حملہ نہیں کرتے”گزشتہ روزصحافیوں کوبریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ہم ریاست ہیں، ریاست کے طور پر ہی ردعمل دیتے ہیں، خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں، ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشتگردی کیخلاف ہیں ۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج اور ایف سی بارڈر منیجمنٹ کررہی ہے، دوحہ اور استنبول مذاکرات میں ہم نے سب کو کچھ سمجھایا ہے، وہ لوگ کبھی کہتے ہیں ٹی ٹی پی کے 6 ہزار دہشت گرد پاکستان میں داخل کردیں گے۔ وہ لوگ اپنے بچوں کو غلط سبق سکھا رہے ہیں، وہ لوگ گریٹر پشتونستان کی بات کرتے ہیں، افغان حکومت میں شامل اعلی عہدیدار خود بیان دے رہے ہیں کہ ہم حملہ کریں گے، امریکی اسلحہ میانوالی میں دہشتگردی کے حملے میں بھی نکلا ہے، یہ میزائل اور اسلحہ پوری دنیا کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ فوج اور پاکستان کی عوام نے جیتنی ہے، دہشتگردی کیخلاف جو بھی جنگ ہے پاکستان جیتے گا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت فیڈرل ایپکس کمیٹی کے وژن عزمِ اور استحکام کے تحت پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری ہے ۔وطن عزیزسے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشتگردوں کامکمل صفایاکیاجائے گا ۔ دہشتگردی کی جنگ میں پوری پاکستانی قوم حکومت پاکستان ،افواج پاکستان اورسیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔
دہشتگردی کاجڑ سے خاتمہ جاری!

