پاکستان ایک بار پھر داخلی سلامتی کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے ۔ اگرچہ گزشتہ دہائی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں، مگر حالیہ برسوں میں شدت پسند کارروائیوں میں اضافہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور بعض اوقات شہری اہداف پر حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دشمن نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور ریاست کو بھی اسی نوعیت کی جامع اور ہمہ جہت حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کسی ایک دن یا ایک واقعے سے منسلک نہیں۔ اس کی جڑیں 2001 کے بعد کے علاقائی حالات میں پیوست ہیں، جب خطے میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ پاکستان نے اس دوران ستر ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان قربانیوں کے نتیجے میں ریاست نے فیصلہ کن اقدامات کیے۔ پاک فوج کی قیادت میں شروع ہونے والا آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ایک بھرپور کارروائی تھی، جس نے شدت پسند نیٹ ورکس کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اس کے بعد آپریشن رالفسادکے ذریعے ملک بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کا سلسلہ شروع ہوا، جس سے شہری مراکز میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔اعداد و شمار اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ 2014 کے بعد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں واضح کمی آئی تھی۔ تاہم حالیہ عرصے میں دوبارہ حملوں میں اضافہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم صرف عسکری کامیابیوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ مسئلے کی تہہ تک جائیں۔ خاص طور پر افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی چیلنجز پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں، غیر منظم نقل و حرکت اور کالعدم تنظیموں کی ازسرنو تنظیم سازی کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔دہشت گردی کا مسئلہ محض بندوق اور بارود کا نہیں بلکہ نظریے اور بیانیے کا بھی ہے۔ 16 دسمبر 2014کے سانحے کے بعد ریاست نے نیشنل ایکشن پلان متعارف کرایا، جس کا مقصد دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ایک جامع حکمت عملی اختیار کرنا تھا۔ اس میں مدارس کی رجسٹریشن، نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام، کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت بند کرنے اور فوجی عدالتوں کے قیام جیسے اقدامات شامل تھے۔ بلاشبہ کئی نکات پر پیش رفت ہوئی، مگر مکمل اور یکساں عملدرآمد آج بھی ایک چیلنج ہے۔ بعض صوبوں میں قوانین پر سختی سے عمل کیا گیا جبکہ کہیں سیاسی مصلحتوں نے رفتار سست کر دی۔ بلوچستان کی صورتحال داخلی سلامتی کے تناظر میں خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہاں سیکیورٹی چیلنجز کے ساتھ ساتھ احساسِ محرومی، معاشی پسماندگی اور سیاسی شمولیت کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبے مقامی آبادی کی شرکت اور اعتماد کے بغیر آگے بڑھیں گے تو بداعتمادی بڑھے گی۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ترقی اور سیکیورٹی کو ساتھ ساتھ چلایا جائے۔ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے بغیر محض طاقت کے استعمال سے دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع، جو سابقہ فاٹا کے نام سے جانے جاتے تھے، انضمام کے بعد ایک عبوری مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ یہاں عدالتی، انتظامی اور پولیس نظام کی مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوگا تو شدت پسند عناصر خلا کو پر کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس لیے گورننس کی بہتری، مقامی نمائندوں کو اختیارات کی منتقلی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی داخلی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔دوسری جانب، شہری مراکز میں دہشت گردی کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی ہے۔ چھوٹے مگر ہائی پروفائل حملے، ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی اہلکاروں پر گھات لگا کر حملے اس نئی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ، ٹیکنالوجی کا استعمال اور پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت ضروری ہے۔ نیکٹا جیسے اداروں کو فعال اور بااختیار بنانا بھی ناگزیر ہے تاکہ معلومات کا تبادلہ بروقت اور مثر ہو سکے۔ڈیجیٹل دنیا ایک نیا محاذ بن چکی ہے۔ شدت پسند تنظیمیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آن لائن پروپیگنڈا، گمراہ کن مذہبی تعبیرات اور جذباتی بیانیے نوجوان ذہنوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کا توڑ صرف پابندیوں سے نہیں بلکہ مثبت اور مدلل بیانیے سے ممکن ہے۔ ریاستی اداروں، علما، اساتذہ اور میڈیا کو مل کر ایسا قومی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو امن، رواداری اور آئینی بالادستی کو فروغ دے۔داخلی سلامتی کا ایک اہم پہلو عدالتی نظام کی کارکردگی بھی ہے۔ اگر دہشت گردی کے مقدمات برسوں لٹکے رہیں یا شواہد کی کمی کے باعث ملزمان رہا ہو جائیں تو سیکیورٹی فورسز کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ پراسیکیوشن کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، فرانزک سہولیات کو بہتر بنانا اور گواہوں کے تحفظ کا نظام مضبوط کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی استحکام بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہوں تو قومی سلامتی کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ داخلی سلامتی کے معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل اپنائے اور اسے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے بالا رکھے۔ قومی اتفاقِ رائے ہی وہ طاقت ہے جو ریاست کو مضبوط بناتی ہے۔پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی داخلی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ خطے میں بڑی طاقتوں کی کشمکش، سرحدی تنازعات اور عالمی سیاست کے بدلتے رخ براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے خارجہ پالیسی اور داخلی سلامتی کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنا، قانونی تجارت کو فروغ دینا اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے۔ عسکری کارروائیاں فوری نتائج دے سکتی ہیں، مگر پائیدار امن کے لیے سماجی، تعلیمی اور معاشی اصلاحات لازم ہیں۔ نوجوانوں کو اگر تعلیم، روزگار اور امید ملے گی تو شدت پسند بیانیہ اپنی کشش کھو دے گا۔ اسی طرح مذہبی ہم آہنگی اور بین المسالک مکالمہ بھی معاشرتی استحکام کو مضبوط کرتا ہے۔آج پاکستان کو ایک ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں سیکیورٹی، سیاست، معیشت اور سماج سب شامل ہوں۔ ہمیں ماضی کی کامیابیوں پر فخر ضرور کرنا چاہیے، مگر بدلتے حالات کے مطابق پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنا بھی ضروری ہے۔ سرحدی نگرانی کو مثر بنانا، انٹیلی جنس کے نظام کو جدید بنانا، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کرنا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دیرپا امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔داخلی سلامتی کا چیلنج سنگین ضرور ہے، مگر ناقابلِ حل نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اسے وقتی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ ایک مسلسل قومی ذمہ داری کے طور پر قبول کریں۔ جب ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام ایک صفحے پر آ جائیں تو کوئی قوت پاکستان کے امن کو یرغمال نہیں بنا سکتی۔ یہی وہ عزم ہے جو ہمیں دہشت گردی کے اندھیروں سے نکال کر استحکام اور ترقی کی روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
دہشت گردی کی نئی لہر اور داخلی سلامتی کا چیلنج

