ذہنی بیماری ایک خاموش عفریت کی طرح ہماری معاشرتی اور ذاتی زندگی کو نگل رہی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک طرف غربت، معاشی دباؤ، بے روزگاری، تعلیمی محرومی، سماجی ناانصافیاں اور سیاسی عدم استحکام جیسے لاتعداد مسائل درپیش ہیں، وہاں ذہنی تناؤ کا بڑھ جانا ایک قدرتی ردعمل کے طور پر نمایاں ہوا ہے مگر مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ ذہنی دبا بڑھ گیا ہے بلکہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو بیماری نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے کمزور عقیدے، جادو ٹونے، یا وہم کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے۔ اسی غلط تصور نے لاکھوں لوگوں کو وہ علاج میسر نہیں ہونے دیا جس کے وہ حق دار ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا فرد کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔ ان بیماریوں میں ڈپریشن سب سے زیادہ ہے، جس کے بعد اضطراب، گھبراہٹ، نفسیاتی کمزوری، نیند کی کمی، غصہ، معاشرتی خوف، منفی خیالات اور خودکشی کے رجحانات شامل ہیں۔ان بیماریوں سے متاثر ہونے والے افراد کا تعلق معاشرے کے ہر طبقے سے ہے۔ امیر اور غریب دونوں یکساں متاثر ہوتے ہیں۔ بچے، نوجوان یا بوڑھے اس بیماری کی چپیٹ سے کوئی محفوظ نہیں ہے۔ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ متاثر ہوتی ہیں مگر مردوں میں بھی ان علامات کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ خودکشی، گھریلو تشدد، منشیات کی عادت اور مجرمانہ رجحانات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ذہنی بیماری کی سب سے اہم وجہ معاشی پریشانیاں ہیں ۔ پاکستان میں مہنگائی کا بوجھ، بے روزگاری اور آمدن کے ذرائع محدود ہونا انسان کی ذہنی کیفیت کو کمزور کرتا ہے۔
معاشرتی رویے بھی ذہنی بیماری کی شدت کو بڑھاتے ہیں۔ہمارے ہاں لوگ دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔خاندان میں حسد، برتری، غیر ضروری مقابلہ بازی، دوسروں کی کامیابی برداشت نہ کرنا، کسی کی ناکامی پر خوشی منانا، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش، یہ سب اجتماعی اخلاقی تنزلی کے آثار ہیں اور یہی رویے ذہنی دبا کو بڑھاتے ہیں۔ علاوہ ازیں گھریلو جھگڑے، خاندانوں میں عدم برداشت اور کبھی نہ ختم ہونے والی توقعات بھی نوجوان نسل کی ذہنی صحت کو تباہ کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔
نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ ہونے کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی پرتعیش زندگی دیکھ کر لوگ اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ حقیقت میں اکثر خوشی اور کامیابی کے مناظر مصنوعی ہوتے ہیں مگر لوگ انہیں حقیقت سمجھ کر خود کو ناکام تصور کرنے لگتے ہیں۔ یہ احساس خود اعتمادی کو چکناچور کر دیتا ہے اور ڈپریشن کی صورت اختیار کرتا ہے۔ذہنی بیماری میں خاندان کی بے توجہی بھی بڑی وجہ ہے۔ جن گھروں میں پیار، گفتگو، سمجھ، حوصلہ افزائی، محبت، ہمدردی اور تعاون نہ ہو، وہاں ذہنی پریشانی معمول کی بات ہوتی ہے۔ والدین جب بچوں کو وقت نہیں دیتے، شوہر اپنی بیوی کے احساسات نہیں سمجھتا، بہن بھائی آپس میں محبت نہیں کرتے، تو ان گھروں میں خاموش مگر سنگین ذہنی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔ پاکستان میں ذہنی بیماری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ لوگ علاج سے گھبراتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ذہنی مریض کا علاج ممکن نہیں یا وہ علاج کے اہل نہیں۔ اس خوف کی وجہ معاشرے کی بدنامی کا جذبہ ہے۔ہمارے ہاں اگر کوئی جسمانی بیماری کا علاج کروائے تو اسکے لیے دعائیں کی جاتی ہیں لیکن اگر کوئی ذہنی بیماری کا معالجہ کروانا چاہے تو اسے پاگل کہہ دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ذہنی بیماری کے علاج کے کئی موثر طریقے ہیں۔ سب سے پہلے فرد کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ بیماری بھی دیگر بیماریوں کی طرح ہوتی ہے اور اس کا علاج ممکن ہے۔ علاج کا پہلا مرحلہ بات چیت اور مشاورت پر مشتمل ہوتا ہے۔ اچھا ماہر نفسیات مریض کے خیالات، جذبات اور یاداشتوں کا جائزہ لے کر اس کی سوچ میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ کونسلنگ اور سائیکو تھراپی کا عمل کس طرح مریض کے ذہن کو منفی خیالات سے پاک کرکے مثبت سمت لے جاتا ہے، یہ ایک بہت مثر طریقہ ہے۔ اس سے مریض اپنے اندر حوصلہ محسوس کرتا ہے، اسے زندگی کے معنی ملتے ہیں، اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ بے بس نہیں ہے بلکہ حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
دوائیوں کا استعمال بھی ذہنی بیماری کے علاج کا اہم حصہ ہے۔ بعض مریضوں میں ذہنی بیماری کی وجہ دماغ میں کیمیائی نظام کا عدم توازن ہوتا ہے۔ اس توازن کو بحال کرنے کے لیے ماہرین دوائیاں تجویز کرتے ہیں۔ ان دوائیوں سے خواب آلودگی، بے چینی اور ذہنی دبا میں کمی آتی ہے مگر یہ علاج صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ غیر ضروری دوائیں لینا نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے لہذا دوا کا استعمال صرف ماہر کی رہنمائی میں ہونا ضروری ہے۔روزمرہ کی زندگی میں چند بنیادی اصول ذہنی صحت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں۔ سادہ زندگی، صحت مند غذا، مناسب نیند، ورزش، چہل قدمی، سیر و تفریح، مثبت رویہ، اجتماعی میل جول، دینی و اخلاقی سرگرمیاں، دوسروں کی مدد کرنا اور وقت کو منظم انداز میں استعمال کرنا ذہنی صحت کی بنیادیں ہیں۔
قرآن کی تلاوت، نماز، ذکر اور دعا بھی دل و دماغ کو سکون بخشتی ہیں۔ روحانی سکون کے بغیر ذہنی سکون ممکن نہیں اور یہ حقیقت انسان کی فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان میں حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ذہنی بیماری کو بیماری سمجھا جائے۔ ہسپتالوں میں ذہنی صحت کے مخصوص شعبے بنائے جائیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں ماہر نفسیات تعینات کیے جائیں۔ میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کیا جائے۔ دواؤں کی قیمتیں کم کی جائیں۔ خاندانوں کو شعور دیا جائے کہ وہ اپنے قریبی افراد کے احساسات کو سمجھیں۔ ذہنی بیماری کو مذاق بنانے کی بجائے اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔ذہنی بیماری کا علاج صرف دواؤں یا مشاورت سے ممکن نہیں بلکہ معاشرے کے اجتماعی کردار کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر معاشرہ لوگوں کو عزت دے، اگر خاندان اپنے افراد کی بات سنیں، اگر تعلیم تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ہو، اگر لوگ ایک دوسرے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے والے ہوں، اگر کاروباری ماحول میں اعتماد ہو، اگر غریبوں کے لیے مواقع ہوں تو ذہنی بیماری کی شرح خود بخود کم ہو جائے گی۔ اگر ہم ایک دوسرے پر تنقید کم کریں اور تعاون زیادہ کریں تو معاشرے میں ذہنی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔آخر میں حقیقت یہ ہے کہ ذہنی بیماری وہ اندھیرا نہیں جس میں انسان ہمیشہ گم رہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جسے روشنی میں بدلا جاسکتا ہے۔ علاج ممکن ہے، زندگی بدل سکتی ہے، انسان کی سوچ تبدیل ہو سکتی ہے جو جسمانی بیماریوں کا علاج کرواتا ہے وہ ذہنی بیماری کا بھی علاج کروا سکتا ہے۔ اگر فرد اپنے اندر امید پیدا کرے، اگر معاشرہ اسے موقع دے، اگر خاندان اسے محبت دے تو ذہنی بیماری کا خاتمہ ممکن ہے۔ تبدیلی فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے اور اس کا اثر خاندان، معاشرے اور قوم تک جاتا ہے۔ ہمیں اس تبدیلی کی ابتدا کرنی ہے کیونکہ صحتمند ذہن ہی صحتمند معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں
ذہنی مریض ۔۔۔!

