Site icon Daily Pakistan

ریت پہ امن کے چراغ دبئی سے ایک چشم دید کالم

میں اس وقت دبئی کی سرزمین پر بیٹھا ہوں۔ شام کا سنہرا اجالا آہستہ آہستہ نیلگوں تاریکی میں ڈھل رہا ہے۔ سامنے ٹیلی ویژن کی اسکرین پرایک نیوز چل رہا ہے اور اس پر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی روایتی بڑھکوں اور بے سروپا گفتگو کے ساتھ عالمِ سیاست کو نئی سمت دینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ مگر اس شور و غوغا سے بے نیاز، میرے اردگرد کی فضا میں ایک عجیب سا اطمینان ہے ایسا اطمینان جو بندوقوں سے نہیں، دلوں کی تسکین سے پیدا ہوتا ہے۔ تیس کلومیٹر دور میرا بیٹا دلدار اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک بڑے ہوٹل میں افطار پارٹی میں شریک ہے۔ میں خود ایک عزیز کے ہاں افطار کر کے لوٹا ہوں۔ نہ سائرن کی آواز، نہ خوف کی پرچھائیاں، نہ غیر یقینی کی گھٹن۔ یہ منظر خود گواہی دے رہا ہے کہ اس خطے کے حکمرانوں نے کم از کم اپنی سرزمین کو عوام کے لیے محفوظ اور پرسکون رکھنے کی تدبیر کی ہے۔ یہاں کے ایوانوں نے اگرچہ سیاست کے کھیل کھیلے ہوں گے، مگر عام آدمی کے دل میں خوف کا چراغ نہیں جلایا۔چند روز قبل متحدہ عرب امارات کی قیادت نے یہ واضح اعلان کیا کہ ان کی سرزمین کسی ملک، خصوصاً ایران، کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ یہ اعلان محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک عملی پیغام تھا کہ ہم اپنی زمین کو جنگ کا اکھاڑا نہیں بننے دیں گے۔ یہی وہ حکمت ہے جو دلوں میں علاج کرتی ہے، گردنوں پر تلوار نہیں رکھتی۔میں موازنہ کرنے بیٹھوں تو دل کڑھتا ہے۔پاکستان میں ہماری اسٹیبلشمنٹ اکثر ایسا بوجھ ڈال دیتی ہے جو عوام کی گردنوں کو جھکا دیتا ہے۔ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، قیمت کوئی اور چکاتا ہے۔ یہاں، اس ریتلی سرزمین پر، حکمرانوں نے کم از کم یہ شعور دکھایا کہ امن ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: الذِی طعمہم مِن جوع وآمنہم مِن خوف (قریش: 4 )وہی ہے جس نے انہیں بھوک سے بچایا اور خوف سے امن دیا۔ بھوک اور خوف، یہی دو آزمائشیں قوموں کو توڑ دیتی ہیں جس نے ان دونوں کا مداوا کر لیا، اس نے دل جیت لیے۔یہاں لوگوں نے ویزے ایکسٹینڈ کروا لیے۔ کسی نے باقاعدہ فیس ادا کر کے، کسی نے مقررہ طریقہ کار پورا کر کے۔ میں نے بھی اپنا ویزہ فیس ادا کر کے بڑھوا لیا ہے۔ سب کچھ قانون کے دائرے میں، شفاف انداز میں۔ نہ سفارش کی دوڑ، نہ کسی در پر حاضری۔انسان کو عزت اسی وقت ملتی ہے جب نظام واضح اور یکساں ہو اور ہر شخص کیلئے ایک جیسا ہو۔ لاکھوں لوگوں کو روزگار کی فکر، یہ پاکستانی اپنے گھروں کا جھولا جلائے ہوئے اور کئی ایک پاکستانی اس ملک کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ہم نے خلیج کی جنگ میں 1990 میں جدہ کے ٹیلی گرام آفس میں شاہ فہد بن عبدالعزیز صاحب کو ایک مراسلہ بھیجا تھا کہ ہم 600 سے زائد پاکستانی سعودی عرب کی حکومت کے لیے مفت خدمات دینے کے لیے تیار ،ساڑھے چار ہزار ریال کا ایک اشتہار بھی اخبار میں دیا تھا جب ہندوستان کی طرف سے ایک فلم بنائی گئی جس میں سعودی عرب کے لوگوں کو ولن دکھایا گیا تو میں نے پردیس میں رہتے ہوئے اپنی تنظیم حلقہ یاران وطن کے پلیٹ فارم سے اشتہار بھی چھاپہ۔ اللہ ان ملکوں کو سلامت رکھے اور اللہ ایران کو بھی اور پاکستان کو بھی سلامت رکھے اور شیطان کو منہ کی کھانی پڑے۔ مجھے ان لوگوں کا فکر ہے جو پردیس میں رہ کر اپنے والدین اپنے بیوی بچوں کو رزق حلال کا ذریعہ بن رہے ہیں۔قوموں کی بقا کا راز بھی اسی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ اگر ریاست اپنے شہری کو تحفظ دے، اس کے کاروبار کو استحکام دے، اس کے بچوں کو محفوظ فضا دے، تو وہ شہری ریاست کے لیے ڈھال بن جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کی گردن پر ہر لمحہ عدمِ استحکام کی تلوار لٹکتی رہے تو وہ دل سے ریاست کا ساتھ کیسے دے گا؟میں ان شا اللہ ڈیڑھ مہینے کے اندر پاکستان واپس لوٹنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میرا وطن میری پہچان ہے، میرا فخر ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ میں یہاں بیٹھ کر ایک فرق کو شدت سے محسوس کر رہا ہوں: وہاں اکثر فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں اور ان کا بوجھ گلی کوچوں میں بکھر جاتا ہے؛ یہاں فیصلے کم از کم اس انداز سے کیے جاتے ہیں کہ بازار آباد رہیں، ہوٹل روشن رہیں، اور افطار کی میزوں پر بچوں کی ہنسی گونجتی رہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں سب کچھ مثالی ہے اور وہاں سب کچھ تاریک۔ نہیں، ہر ملک کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ مگر حکمرانی کا اصل امتحان یہی ہے کہ آپ خوف کم کریں اور اعتماد بڑھائیں۔ دلوں میں جگہ بنائیں، گردنوں پر بوجھ نہ رکھیں۔ جب عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ ریاست ان کی محافظ ہے، تو وہ خود ریاست کے محافظ بن جاتے ہیں۔ٹی وی اسکرین پر اب بھی عالمی سیاست کے دعوے اور دھمکیاں جاری ہیں۔ مگر میرے سامنے حقیقت یہ ہے کہ میرا بچہ محفوظ ہے، میرا خاندان مطمئن ہے، اور میں ایک پرسکون شہر میں بیٹھ کر اپنے وطن کے لیے بہتر کل کی دعا کر رہا ہوں۔ شاید یہی سب سے بڑی کامیابی ہیامن کا تسلسل۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ پاکستان بھی آسانی کی طرف جا سکتا ہے، اگر وہاں کے اربابِ اختیار یہ طے کر لیں کہ عوام کی خوشی اور تحفظ ہی اصل سرمایہ ہے۔دبئی کی اس خاموش رات میں، جب دور کہیں مسجد سے عشا کی اذان کی آواز ابھرتی ہے، میں یہی سوچتا ہوں کہ قوموں کی عظمت ٹینکوں اور توپوں سے نہیں، امن، انصاف اور اعتماد سے بنتی ہے۔ اگر ہم نے یہ سبق سیکھ لیا تو نہ ہمیں کسی ٹرمپ کی بڑھکوں سے خوف آئے گا، نہ کسی عالمی دبا سے۔ تب ہم بھی سر اٹھا کر کہہ سکیں گے: ہماری زمین امن کے لیے ہے، ہمارے دل امید کے لیے۔

Exit mobile version