کالم نگار آصف محمود نے جو سوال اٹھایا تھا وہ محض ایک فقرہ نہیں بلکہ پورے سیاسی منظرنامے کا خلاصہ ہے۔ اگر کل کو Donald Trump یہ پوچھیں کہ مجھے دھکا کس نے دیا؟ تو اس سوال کی گونج صرف واشنگٹن تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کی بازگشت اسلام آباد کی راہداریوں میں بھی سنائی دے گی۔ جنگیں اچانک نہیں ہوتیں، ان کے پیچھے فضا بنائی جاتی ہے، حوصلے بڑھائے جاتے ہیں، بیانیے تراشے جاتے ہیں۔سامے کو دھکا شہباز شریف نے دیا ، یہ جملہ سیاسی طنز ضرور ہے مگر اس کے اندر ایک تلخ حقیقت چھپی ہے۔ شہباز شریف نے جس انداز میں عالمی سطح پر ٹرمپ کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا، حتیٰ کہ امن اور اعزازات کی باتیں کی گئیں، اس نے ایک نفسیاتی برتری کو جنم دیا۔ جب طاقتور کو یہ یقین دلایا جائے کہ وہ امن کا پیامبر ہے، تو وہ طاقت کے استعمال کو بھی اخلاقی جواز سمجھنے لگتا ہے۔امریکہ کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں اتحادیوں کو چھوڑ دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ویتنام میں یہی ہوا، عراق میں یہی ہوا، اور افغانستان اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ بیس برس تک جنگ لڑی گئی، اتحادیوں کو ساتھ رکھا گیا، مگر جب مفاد پورا ہوا تو ایک دن اچانک رخصتی اختیار کر لی گئی۔ پیچھے رہ جانے والوں کا کیا بنا؟ یہ سوال آج بھی تاریخ کے صفحات پر درج ہے۔ امریکہ ٹیکس اپنے عوام سے لیتا ہے، فیصلے اپنے مفاد میں کرتا ہے، اور جب اس کا فائدہ پورا ہو جائے تو وہ خالی جگہ کبھی پر نہیں کرتا۔ وہ صرف اپنے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے منہ کو طاقت کے استعمال کا خون لگ چکا ہے، اور جسے خون لگ جائے وہ بار بار اسی راستے پر چلتا ہے۔آج اگر مشرقِ وسطیٰ میں آگ بھڑکی ہوئی ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کیا ہم نے پھر وہی غلطی دہرائی کہ طاقتور کے ساتھ کھڑے ہو کر خود کو محفوظ سمجھ لیا؟ یا ہم نے وقتی فائدے کے لیے طویل المدت خطرات کو نظر انداز کر دیا؟حقیقت یہ ہے کہ سامے کی چمچوں کی حکومت نے اندرونِ ملک بھی ایک ایسا کھیل کھیلا ہے جس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔عمران خان کو جیل میں بند کر کے جو چند گھڑیاں اپنے لیے مانگی گئی ہیں، وہ گھڑیاں شاید بہت مہنگی پڑیں۔ سیاسی مخالف کو دیوار سے لگا کر وقتی سکون تو حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر اس سے عوامی تقسیم گہری ہوتی ہے، اعتماد کمزور ہوتا ہے اور ریاستی ڈھانچہ دباؤ میں آتا ہے۔یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اقتدار کو طول دینے کے لیے داخلی استحکام کو قربان کیا گیا۔ جب اندرونی محاذ کمزور ہو اور بیرونی محاذ پر غیر متوازن بیانیہ اپنایا جائے تو ریاست دوہری دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی حکومتیں وقتی سہارا تو حاصل کر لیتی ہیں مگر طویل عرصے میں انہیں سیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ہم نے ماضی میں بھی دیکھا کہ بڑی طاقتوں کے ساتھ غیر مشروط وابستگی نے ہمیں کیا دیا۔ افغان جنگ کے بعد دہشت گردی ہمارے شہروں تک پہنچی۔ معیشت کمزور ہوئی۔ سفارتی توازن بگڑا۔ اور آخر میں وہی طاقت اپنے مفاد کے مطابق راستہ بدل گئی۔ کیا ہم پھر اسی راستے پر گامزن ہیں؟اگر کل کو ٹرمپ یہ سوال کریں کہ مجھے دھکا کس نے دیا؟ تو انگلیاں صرف تہران یا کسی اور دارالحکومت کی طرف نہیں اٹھیں گی۔ دنیا یہ بھی دیکھے گی کہ کون ان کے بیانیے کو اخلاقی تقویت دے رہا تھا۔ سفارت کاری میں الفاظ بھی گولی کی طرح اثر رکھتے ہیں۔ ایک جملہ، ایک تعریف، ایک غیر محتاط بیان عالمی سیاست میں دور رس نتائج پیدا کر سکتا ہے۔پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ توازن قائم رکھے۔ نہ اندھی مخالفت، نہ اندھی حمایت۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم کسی عالمی طاقت کے بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے اپنے داخلی استحکام کو مضبوط کریں۔ سیاسی اختلاف کو دباکر اور وقتی فائدے کے لیے عالمی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کر کے شاید چند مہینے نکالے جا سکتے ہیں، مگر تاریخ ایسے فیصلوں کو معاف نہیں کرتی۔ سامے کو دھکا دینا آسان ہے، مگر جب وہ پلٹ کر دیکھے گا تو سوال صرف اس سے نہیں ہو گا، ہم سے بھی ہو گا۔ اور اس وقت شاید جواب دینا سب سے مشکل مرحلہ ہو۔
سامے کو دھکا کس نے دیا

