Site icon Daily Pakistan

سانحہ گل پلازہ کراچی۔ ملبے تلے دبے سوالات

سانحہ گل پلازہ کراچی ایک ایسی حقیقت ہے جسے محض ایک حادثے کے خانے میں ڈال کر آگے بڑھ جانا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک عمارت کے گرنے کا نام ہے بلکہ اس پورے شہری نظام پر ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے جس کے سائے میں لاکھوں زندگیاں روزانہ سانس لیتی ہیں۔ جب ایک بھری ہوئی عمارت اچانک ملبے کا ڈھیر بن جائے تو پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا ہمارے شہروں میں انسان واقعی محفوظ ہے یا وہ محض حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے؟اس سانحے میں سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا پہلو انسانی جان کا ضائع ہونا ہے۔ وہ جانیں جو کسی تنازع کا حصہ نہیں تھیں، کسی احتجاج میں شامل نہیں تھیں، کسی محاذ پر نہیں تھیںوہ محض اپنی روزمرہ زندگی گزار رہی تھیں۔ کوئی روزگار کے لیے آیا تھا۔کوئی خرید و فروخت میں مصروف تھا۔ کوئی کسی عزیز کا انتظار کر رہا تھا۔ لمحوں میں سب کچھ ختم ہو گیا اور یہ سوال رہ گیا کہ کیا ہماری اجتماعی منصوبہ بندی میں انسان واقعی مرکزی حیثیت میں ہے یا وہ فہرست کے آخری نمبر پر آتا ہے؟گل پلازہ کا وجود خود اس شہری پھیلاؤ کی علامت تھا جس میں عمارتیں تیزی سے کھڑی ہو جاتی ہیںمگر ان کے اندر موجود زندگیوں پر کم ہی غور کیا جاتا ہے۔ بڑے شہروں میں تجارتی و رہائشی تعمیرات ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہیں لیکن اس رفتار کے ساتھ تحفظ، معیار اور نگرانی جیسے پہلو اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سانحہ ایک سوال بن جاتا ہے کہ کیا ہمارا شہری نظام صرف وسعت پر توجہ دیتا ہے یا پائیداری اور سلامتی پر بھی؟س موقع پر ادارہ جاتی نظم و نسق کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔ ہر شہر میں عمارتوں سے متعلق قوانین، ضابطے اور طریقہِ کار موجود ہوتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے مختلف سطحوں پر ذمہ داریاں بھی متعین کی جاتی ہیں مگر جب کوئی سانحہ رونما ہو جائے تو یہ سوال فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ کیا یہ نظام محض کاغذوں تک محدود ہے یا واقعی زمینی حقیقت میں بھی موجود ہے؟ سانحے کے بعد کی سرگرمیاں اپنی جگہ مگر اصل توجہ ہمیشہ اس سوال پر رہنی چاہیے کہ ایسے واقعات پیش آنے سے پہلے روک تھام کیوں ممکن نہ ہو سکی؟قانون کا تصور بھی اس بحث میں ایک حساس مگر اہم پہلو ہے۔ قانون کی روح یہ ہے کہ وہ سب کے لیے یکساں ہو اور شہری کو تحفظ فراہم کرے مگر جب مختلف نوعیت کی تعمیرات کے ساتھ مختلف سلوک دیکھنے میں آئے تو عوامی ذہن میں شکوک پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ شکوک الزام نہیں بلکہ احساس ہیںوہ احساسات جو اس وقت جنم لیتے ہیں جب عام آدمی خود کو غیر محفوظ اور کمزور محسوس کرتا ہے۔میڈیا کا کردار بھی اس سانحے میں سوالوں سے بری نہیں۔ پہلے دن کیمرے، بریکنگ نیوز، اینکرز کی لرزتی آوازیں اور انسانی ہمدردی کے دعوے مگر جیسے ہی ملبہ ہٹا، خبر بھی دفن ہو گئی۔ نہ فالو اپ، نہ ذمہ داروں کے نام، نہ نظام پر سوال۔ یوں محسوس ہوا جیسے میڈیا کا فرض صرف دکھ دکھانا ہے اس کی جڑ تک پہنچنا نہیں۔ یہ رویہ بھی اجتماعی جرم کی ایک شکل ہے کیونکہ سوال نہ پوچھنا طاقتور کو مزید طاقتور بناتا ہے۔سب سے گہرا زخم ان خاندانوں کو لگا جو اس سانحے سے براہ راست متاثر ہوئے۔ ان کیلئے یہ واقعہ کسی تجزئیے یا بحث کا موضوع نہیںبلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے ساتھ انہیں پوری زندگی گزارنی ہے۔ ان کی خاموشی، ان کا صبراور ان کی بے بسی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر سانحے کے پیچھے صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے گھر، بکھرے خواب اور ادھورے رشتے ہوتے ہیں۔یہاں ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی زیرِ بحث آتی ہے۔ ایک معاشرہ صرف اداروں سے نہیں بنتا بلکہ عوامی شعور سے تشکیل پاتا ہے۔ ہم کب تک ہر سانحے کو وقتی دکھ سمجھ کر فراموش کرتے رہیں گے؟ کب تک ہم یہ کہہ کر آگے بڑھتے رہیں گے کہ”یہ تو ہوتا رہتا ہے”؟ یہی رویہ آہستہ آہستہ ایک بے حس معاشرے کو جنم دیتا ہے جہاں المیے معمول بن جاتے ہیں۔احتساب کا تصور کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانے کا نام نہیںبلکہ نظام کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ جب بھی کوئی بڑا سانحہ پیش آتا ہے تو عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آئندہ اس سے بچنے کے لیے کیا سیکھا گیا؟ کیا بدلا گیا؟ کیا بہتر کیا گیا؟ اگر جواب واضح نہ ہو تو بے چینی جنم لیتی ہے اور یہی بے چینی کسی بھی صحت مند معاشرے کی علامت ہوتی ہے ۔ سب سے اہم سوال مستقبل کا ہے۔ کراچی جیسے گنجان شہر میں لاتعداد عمارتیں ہیں جن میں روزانہ ہزاروں زندگیاں گردش کرتی ہیں۔ گل پلازہ کا سانحہ ہمیں خوف زدہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ متوجہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ ہم شہری منصوبہ بندی، حفاظتی معیارات اور اجتماعی شعور پر سنجیدگی سے غور کریں کیونکہ اگر ہم نے اس لمحے کو بھی نظر انداز کر دیا تو آنے والا وقت شاید ہمیں مزید مہلت نہ دے۔یہ سانحہ چیخ چیخ کر الزام نہیں لگاتابلکہ خاموشی سے سوال کرتا ہے اور بعض اوقات سوال الزام سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

Exit mobile version