رمضان کے اتے ہی ہر سال کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں اس لیے کہ اس ماہ اشیا خوردونوش کی ڈیمانڈ زیادہ اور سپلائی کم پڑ جاتی ہے۔جو مہنگائی کا سبب بنتی ہے۔ دوسرا وہ لوگ بھی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں جو رمضان کے آنے سے قبل ہی اشیا کی زخیرہ اندوزی کرنی شروع کر دیتے ہیں۔جس سے سپلائی کم ہو اور ڈیمانڈ بڑجاتی ہے۔اگر روزے دار سنت کے مطابق سحری اور افطار کرتے ہوتے تو اشیا کی ڈیمانڈ نہ بڑی ہوتی مگر ہم رمضان میں ہم ہر کام دکھاوے کا کرتے ہیں خدا کی خوشنودی کیلئے نہیں کرتے۔ جس سے رمضان میں سارا نطام الٹ پلٹ ہو جاتا ہے۔ غور کیا جائے تو اس مہنگائی کے زمہ دار روزے دار ہی ہیں اگر ہم خود ہی ۔رمضان میں سنت کے مطابق روزے رکھتے اور افطار کرتے تو مہنگائی نہ ہوتی ہم رمضان میں دکھاوا کرتے ہیں لگثری افطار یاں کرتے ہیں عام دنوں کی نسبت زیادہ کھاتے ہیں۔وہ چیزیں بھی دستر خوان کی زینت بناتے ہیں۔جن کا استعمال ہم پہلے نہیں کر رہے ہوتے۔افطار کے موقع پر ہر قسم کے فروٹ پکوڑے سموسے ، پیزا،میکرونی گوشت اور سویٹس ڈشیں سجاتے ہیں خوب کھاتے ہیں۔۔ ایسا کر کے ہم روزے کے مقاصد کو بھول جاتے ہیں۔غریبوں کو افطاریوں پر روڈ بلاک کرکے افطار کراتے ہیں تانکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ راستہ فلاں شخص کی وجہ سے بند ہے کہ اج وہ غریبوں کو افطاری کرا رہا ہے یعنی خدا کی خوشنودی کے بجائے اپنی شہرت کی خاطر افطاری کے نام کا فنکشن کرتے ہیں ۔ غریبوں میں راشن تقسیم کرتے وقت ان کی وڈیو بناکر اس کی تشہیر کرتے ہیںجبکہ کہا گیا ہے کہ اگر کسی غریب،کی مدد کرو تو ایک ہاتھ سے اسے دو اور دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے ۔ یہ سب کچھ خدا کی خوشنودی کیلئے ہونا چاہیے مگر ہم دکھاوے کیلئے کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ہم روزہ کے مفہوم کو بھول جاتے ہیں ہم مسلمان سنت کے مطابق نہ سحری کرتے ہیں اور نہ افطار۔ لہٰذا رمضان میں خوب انجوائے کرتے ہیں پیسے بناتے ہیں اور عمرہ کرنے چلے جاتے ہیں۔واپس آ کر پھر ویسے کے ویسے ہو جاتے ہیں۔اس لیے کہ ہم عبادات پر عمل نہیں کرتے۔ہم حقوق اللہ اور حقوق الباد کا خیال نہیں رکھتے۔ برے کاموں سے باز نہیں آتے لگتا یہی ہے ہم خدا کو بھی انسان جیسا سمجھنے لگتے ہیں۔رمضان میں مہنگائی اس لئے ہوتی ہے۔کہ ہم روزہ کے مفہوم کو نہیں سمجھتے۔ سنت پر عمل نہیں کرتے۔ ہم سارا دن روزہ نہیں بھوکے رہتے ہیں مگر افطار کے وقت دسترس خواں پر ہر قسم کا فروٹ گوشت پلا، مشروبات، سویٹس ڈشیز سجا لیتے ہیں اور پھر اسے آخری کھانا سمجھ کر کھاتے ہیں جبکہ رمضان میں روزہ اسلام کی ایک بنیادی عبادت ہے، جو ہمیں روحانی، اخلاقی اور سماجی طور پر بہتر انسان بننے کا درس دیتی ہے۔ روزہ کا اصل پیغام یہ ہے۔تقوی یعنی اللہ کا خوف اور شعور پیدا کرنا ہے۔ نماز اور روزہ انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ تنہائی میں بھی غلط کام کرنے سے بچاتا ہے۔ نماز ورزش نہیں ہے روزہ بھوکے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ سارے جسم کا ہوتا ہے یعنی انکھ کان زبان کا بھی روزہ ہوتا ہے۔ روزے سے صبر اور برداشت کا سبق ملتا ہے۔صبح سے شام تک کھانے پینے سے روکے رکھنے سے صبر کی یہ عملی تربیت دیتا ہے اس سے خود احتسابی کا عمل ہوتا ہے۔نماز اور روزے میں انسان اپنے اعمال کا خود جائزہ لیتا ہے، برائیوں سے توبہ کرتا ہے اور اچھے کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ نماز روزہ روحانی پاکیزگی پیدا کرتا ہے۔ نماز، تلاوت، دعا اور ذکر کے ذریعے دل صاف ہوتا ہے اور اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔اگر اپنے اندر یہ تبدیلی محسوس نہیں کرتے ہو تو پھر نماز ورزش اور روزہ بھوک ہے ۔نماز روزہ کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت اور بندگی کا عملی اظہار کریں۔ نفس کی تربیت اور برائیوں پر قابو پائیں۔رمضان کا روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ کردار سازی، صبر، تقوی اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔ رمضان میں آپ ۖ سحری اور افطار میں روایات کے مطابق کھجور کھاتیاور پانی پیتے تھے بعض اوقات جو کی روٹی یا ستو یا کبھی دودھ بھی نوش فرماتے ۔ آپ ۖ نے فرمایا سحری کیا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ سحری دیر سے (فجر سے کچھ پہلے)کرنا آپ ۖ کی سنت تھی۔افطار کے بارے میں واضح حدیث ہے رسول اللہ ۖ نماز سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطار فرماتے، اگر تازہ نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے، اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی سے افطار فرماتے۔افطار میں تازہ یا خشک کھجور پانی دے کرتے۔ افطار جلدی کرنا بھی سنت ہے ۔کہا جاتا ہے جن اور شیطان کو کھجور سے نفرت اس لیے ہے کہ رسولِ اکرم ۖ نے وصیت فرمائی ہے کہ روزانہ کھجور کھایا کرو، یہ بھی فرمایا کہ کھجور کو طاق عدد(یعنی (1,3,5,7میں کھائو، تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ جب انسان کھجور کھاتا ہے تو اس کے جسم میں ایک خاص توانائی پیدا ہوتی ہے جو پورے جسم کو گھیر لیتی ہے اور اس توانائی کی وجہ سے جن، شیطان، جادو اور نظرِبد سے حفاظت ہوتی ہے ۔ لیکن یہ اثر صرف تب ہوتا ہے جب کھجور کو طاق عدد میں کھایا جائے (1,3,5,7,9) ۔ اگر کوئی شخص کھجور کو جفت عدد میں کھائے تو وہ جسم میں شکر کی شکل میں ذخیرہ ہو جاتی ہے اور اس سے شوگر کا مرض کاخطرہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ دنیا کے سائنس دان حیران ہیں کہ نبی کریم ۖ نیصدیوں پہلے جن و شیطان کے اثر سے بچنے کا یہ قدرتی علاج بتایا تھا۔ رسول اللہ ۖ کا فرمان ہے:”کھجور واقعی ایک دوا بھی ہے اور غذا بھی ہے ۔”جیسیاگر کسی کو خون کی کمی ہو تو روزانہ چند کھجوریں کھانے سے خون کی کمی کو وہ دورکر سکتا ہے۔ اگر جگر چربی والا یا بڑا ہوا ہے تو روزانہ صبح کے وقت سات کھجوریں کھائے ان شااللہ چربی ختم ہو جائے گی ۔ کینسر سے بچا کا بہترین علاج بھی کھجور ہی میں ہے۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا: "جس گھر میں کھجور نہیں، وہ گھر یقینا بھوکا ہے۔ اچھی صحت کیلیے بابا کرموں کیکچھ مفید مشورے اپ کی خدمت میں پیش ہیں نمبر جو بھی کام کرو،ہمیشہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم” پڑھ کر شروع کرو، اللہ تمہارے اس کام میں کامیابی عطا کرے گا۔ آپ ہمیشہ پانی اتنا ہی پیو جتنی پیاس لگے۔جدید سائنس یہ کہتی ہے کہ روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے، لیکن حقیقت میں پانی صرف پیاس کے مطابق پیا جائے تو بہتر ہے ۔ورزش کیا کرو ،چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہو ۔ جسم کو ہمیشہ حرکت میں رکھو ۔ کھانا کم کھا ئو۔ حدیث میں بھی ہے "آدمی کیلئے اتنا کھانا کافی ہے جتنا اس کی کمر کو سیدھا رکھے۔لہٰذا کھانے میں اعتدال رکھو۔ یہ کہ جہاں تک ہو، گاڑی سواری کو صرف ضروری موقعوں پر استعمال کریں۔ مسجددکان یا کسی محلے کے عزیز کے گھر جانے کیلئے ممکن ہو تو پیدل جا۔ غصہ نہ کرو۔پریشان مت ہو، درگزر کیا کرو۔ غم اور غصہ صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ رہو جن کے پاس تمہیں سکون ملے۔ زندگی کو اپنے اوپر اور دوسروں پر تنگ نہ کرو۔مال کو زندگی گزارنے کیلئے استعمال کرو ۔اس چیز پر حسرت نہ کرو جو تم حاصل نہیں کر سکتے ہو اگر وہ تمہارے نصیب میں ہے تو تمہارے پاس ضرور آئے گی چاہے تم اپنے بستر پر ہی کیوں نہ ہو اور جو چیز تمہارے لئے بہتر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اسے روکے رکھتا ہے کیونکہ وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔ عاجزی اختیار کرو، غرور اور تکبر مال و طاقت دونوں کو ختم کر دیتا ہے۔دس مثبت سوچ رکھو، دوسروں کے کام آ۔ انسان اور حیوان میں فرق بھی یہ ہے کہ حیوان صرف اپنے مطلق سوچتا ہے اور انسان دوسروں کے مطلق سوچتا ہے۔ سادہ زندگی گزارو سحری اور افطار کو سنت کے مطابق کیا کرو۔
سحری اور افطار سنت کے مطابق کیوں نہیں کرتے

