پورے دنیا کے ساتھ ساتھ ایک طرف روس اور یوکرین کا مسئلہ حل ہوتانظر آرہا ہے تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اس تیزی سے بدل رہی ہے بلکہ بگڑتے چلے جا رہے ہیں، اس کی وجہ یہ کہ اسرائیل معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے اور فلسطین پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔۔ اس دوران گزشتہ ہفتے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی ملاقات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہوئی۔ برسوں سے واشنگٹن سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا مشورہ دیتا رہا ہے، مگر اس بار جو ردعمل سامنے آیا وہ عرب دنیا کے لیے بھی غیر معمولی تھا حیران کن تھا۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد پر ملاقات کے دوران شدید دباؤ ڈالا، لیکن محمد بن سلمان نے نہ صرف دوٹوک انداز میں جواب دیا کہ سعودی عرب کسی بھی قیمت پر اپنی قومی ترجیحات قربان نہیں کرے گا۔بین الاقوامی اخبارات کے مطابق اس ملاقات میں موجود امریکی اہلکاروں نے بھی اعتراف کیا کہ”سعودی ولی عہد ایک مضبوط اور خودمختار لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں”۔ یہ ردعمل نہ صرف حیران کن تھا بلکہ اس نے واضح کر دیا کہ سعودی قیادت اب واشنگٹن کے سامنے اپنی حکمت عملی اور ترجیحات پر مستحکم ہے۔سعودی عرب کے فیصلے کے پیچھے کئی سالوں کی خاموش تبدیلی کارفرما ہے۔ ماضی میں ریاض واشنگٹن پر انحصار کرتا رہا، لیکن محمد بن سلمان نے اس انحصار کو بتدریج خودمختاری میں تبدیل کر دیا۔ آج سعودی عرب کے تعلقات کا محور صرف امریکہ نہیں بلکہ چین، روس، یورپی یونین اور خطے کی دیگر طاقتیں بھی ہیں۔ اسی اسٹریٹجک تبدیلی نے ریاض کو عالمی دباؤ کے باوجود اپنے فیصلے خود کرنے کا اعتماد دیا اور اسے خطے کی سیاست میں فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے۔سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لانے کی وجہ صرف مذہبی جذبات یا تاثر نہیں۔ اس کا بنیادی تعلق فلسطینی ریاست کے مسئلے، عرب دنیا کی قیادت، عوامی رائے اور خطے کے حساس توازن سے ہے۔ فلسطینی ریاست کا قیام نہ صرف سعودی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے بلکہ خلیج میں سعودی کردار کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت بھی اسی مؤقف سے جڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض نے واضح کر دیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے بغیر کوئی بھی معمول سازی ممکن نہیں۔یہ صورتحال امریکہ کے لیے بھی نئی ہے۔ دفاعی تعاون، جدید اسلحہ، سیکورٹی گارنٹیز، جوہری تعاون اور بڑے معاشی منصوبوں کے باوجود سعودی عرب نے واشنگٹن کے مطالبات قبول نہیں کیے۔ اس سے یہ حقیقت نمایاں ہو گئی کہ سعودی–امریکی تعلقات اب روایتی انحصار کے بجائے برابری اور باہمی مفادات پر استوار ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف خلیج کی سیاست بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اسٹریٹجک دفاعی تعاون کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب نے 2025 میں باہمی دفاعی معاہدہ دستخط کیا، جس کے تحت”اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا”۔ یہ محض رسمی بیان نہیں بلکہ خطے کی بدلتی حقیقت میں پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن اور باوقار مقام مقرر کرنے کا اعلان ہے۔ اس معاہدے سے پاکستان کی دفاعی قابلیت میں اضافہ اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔تاہم سعودی عرب کی خودمختاری کی اس پالیسی کے اثرات پیچیدہ ہیں۔ سب سے پہلے، سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لانا ایک مضبوط اسلامی اور عرب موقف کی تصدیق ہے، مگر خطے میں طاقت کے توازن پر اس کے اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ بعض ممالک جو اسرائیل یا مغربی اثر و رسوخ کے قریب ہیں، سعودی فیصلے کو چیلنج کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کی شمولیت اس دفاعی اتحاد میں اس کی ساکھ اور دفاعی قوت بڑھاتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ خطرہ بھی ہے کہ اسلام آباد عملی طور پر کسی کشیدگی یا مسلح تصادم میں پھنس سکتا ہے۔ پاکستان کو اپنے فوجی اور سفارتی توازن کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی ایک جانب جھکاؤ اسے نقصان نہ پہنچائے۔سعودی عرب کی خودمختاری کی پالیسی خطے میں نئی عالمی شراکت داریوں کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ چین، روس اور دیگر عالمی طاقتیں بھی سعودی فیصلوں کے اثرات کو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں، جس میں پاکستان کو سوچ سمجھ کر قدم رکھنا ہوگا۔ اس سے دفاعی، معاشی اور سیاسی تعلقات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، مگر پیچیدہ سفارتی ماحول میں پاکستان کو چوکنا رہنا ہوگا۔ٹرمپ کے ”فلسطین سے متعلق بیس نکات”، جن کی پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نے بھی حمایت کی، اب سعودی موقف کے سامنے زیادہ عملی شکل اختیار نہیں کر پائیں گے۔ سعودی عرب نے واضح کر دیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کے ساتھ معمول سازی قبول نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی تجاویز عملی دائرے میں محدود رہ سکتی ہیں۔ پاکستان کے لیے حقیقت یہ ہے کہ سعودی موقف کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی ترتیب دینا لازمی ہے اور سعودی–پاکستان دفاعی و اقتصادی تعلقات کو ترجیح دینا قومی مفاد میں ہے۔مستقبل کے ممکنہ منظرناموں میں شامل ہیں: اگر سعودی – امریکی تعلقات مضبوط ہوئے تو پاکستان کو دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ اگر خطے میں کشیدگی یا مسلح تصادم ہوا تو سعودی – پاکستان دفاعی معاہدہ فوری ردعمل کے لیے تیار رکھے گا، مگر سفارتی خطرات بڑھ جائیں گے۔ اگر پاکستان نے متوازن پالیسی اپنائی تو سعودی اور امریکی تعلقات کے باوجود اسلام آباد کی خارجہ پالیسی مستحکم اور دور اندیش ہوگی۔ خطے میں نئی صف بندی کے تحت چین اور روس کی بڑھتی موجودگی کے باعث پاکستان کو عالمی طاقتوں کے ساتھ روابط مضبوط کرنا ہوں گے تاکہ دفاعی، اقتصادی اور سیاسی مواقع ضائع نہ ہوں۔پاکستان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دفاعی توازن برقرار رکھے، امریکی تعلقات مستحکم رکھے، خطے میں سفارتی فعال کردار اپنائے، سعودی سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو ترجیح دے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کو بنیاد بنائے۔محمد بن سلمان کا ٹرمپ کو”برابری سے جواب”دینا مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کی خودمختاری کی علامت ہے۔ پاکستان کے لیے یہ تبدیلی امکانات سے بھرپور ہے بشرطیکہ اسلام آباد سنجیدگی سے نئے اتحاد اور ذمہ داریوں کے لیے خود کو تیار کرے۔ اگر پاکستان محتاط اور متوازن پالیسی اپنائے تو پاک، سعودی معاہدہ اسے خطے کی نئی صف بندی میں باوقار مقام دے سکتا ہے، مگر اگر سفارتی بھول چوک یا بے توازن فیصلے ہوئے تو بیچ میں پھنسنے اور نقصان اٹھانے کا خطرہ بھی ہے۔ سیاست بدل چکی ہے، طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے، اور اب وہی ریاست آگے بڑھے گی جو اپنی خودمختاری کو پوری دنیا کے سامنے منوا سکے۔ سعودی عرب نے یہ قدم اٹھایا — اب پاکستان کی باری ہے کہ وہ اپنے عہد اور ذمہ داری کو پہچانے۔
سعودی عرب کا امریکہ کودو ٹوک جواب

