Site icon Daily Pakistan

سینیٹ قرار داد ! الیکشن ملتوی سازش

ملک بھر میں انتخابی سر گرمیاں تیزی سے جاری ہیں کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے الیکشن کمیشن نے انتخابی نشانات کی فہرست بھی جاری کر دی۔ بلے کے نشان کے لے پی ٹی آی اور الیکشن کمیشن کے درمیان عدالتی جنگ جاری ہیے۔ پی پی پی مسلم لیگ ن پی ٹی آی جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی اور ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں نے مل کر انتخابی مہم شروع کر رکھی ہیے۔ بلاول بھٹو بہت زیادہ متحرک ہیں وہ ہر جلسے میں ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بنا رہیے ہیں۔ تمام جماعتیں اپنے اپنے انداز میں الیکشن مہم چلا رہی ہیں ایسے میں اچانک سینٹ سے انتخابات ملتوی کرانے کی قرار داد منظور ہونا اور الیکشن کمشن سمیت جلدی میں تمام اداروں کو اس کی کاپیاں بجھوا نے سے لگتا ہیے کہ یہ آٹھ فروری کو ہونے والے الیکشن کےخلاف بہت بڑی سازش ہو رہی ہیے۔ پس پردہ کچھ نادیدہ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ الیکشن ہوں اور ملک جمہوریت کی راہ پر گامزن ہو جایے۔ پی پی ہر صورت الیکشن آٹھ فروری کو ہی چاہتی ہے۔ ن لیگ نے کہا سینٹ قرار داد کے آگے پیچھے کوی بھی ہو شیڈول پر عمل ہو گا۔ جماعت اسلامی کے سینٹر مشتاق نے ایک اور قرار داد سینٹ میں جمع کروای ہیے جس میں الیکشن مخالف قرار داد پاس کرنے والوں کے خلاف غداری کے مقدمے کی بات کی ہیے۔ الیکشن وقت پر نہ ہونا آین کی خلاف ورزی۔ قرار داد پاس کرنے والوں کے خلاف سپریم کورٹ سے کاروای کی استدا ۔ ایک نامور صحافی نے اسے پر اسرار قرار داد کہا ہیے ۔ سینٹر دلاور خان نے قرار داد پاس کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ مولا نا فضل الرحمن کی جانب سے انتخابات ملتوی کروانے کی تجویز اور سینٹ سے انتخابات ملتوی کروانے کی قرار داد کا پاس ہونا ایک ہی سلسلے کی کڑی لگتی ہیے ۔ سینٹ سے انتخابات ملتوی کرانے کی قرار داد پاس ہوے ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ ایک اور سینٹر نے انتخابات ملتوی کرانے کی دوسری قرار داد سینٹ میں پیش کر دی۔ الیکشن کمشن کے ارباب اختیار کو سوچنا ہوگا کہ اب جبکہ آٹھ فروری کو الیکشن کروانے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں آی ای ایم ایف کی مقروض قوم کے پیسے الیکشن تیاریوں پر لگ چکے ایسے میں ایوان بالا سے الیکشن ملتوی کروانے کی قرار داد کا منظور ہونا اور الیکشن ملتوی کرانے کی دوسری قرار داد کا پیش ہونا ایک سوالیہ نشان ہیے کہ آخر انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے سینٹ کا پلیٹ فارم ہی کیوں استعمال کیا جا رہا ہیے۔ ہمیں یہ کاروای تمام انتخابی عمل کو سبوتاز کرنے کی کوشش لگتی ہیے اور اس سے گھناونی سازش کی بو آ رہی ہیے۔ الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کو اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہویے اس سازش کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ جسٹس فاز عیسی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سالوں سے پینڈنگ کیسوں کو سننا شروع کر دیا اور ان کے فیصلے بڑی تیز رفتاری سے کر رہیے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کی کاروای ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھانے کی روایت ڈالی۔ انہوں نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا فیصلہ سنایا حال ہی میں ایک فیصلے میں سپریم کورٹ نے اپنے ہی ایک فیصلے کو کل عدم قرار دیتے ہویے سیاست دانوں کی تا حیات نااہلی ختم کر دی۔ ماہرین قانون اور سیاسی تجزیہ نگار اسے ایک تاریخ ساز فیصہ قرار دے رہیے ہیں کہا جا رہا ہیے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے میاں نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہو جاے گی ۔ اس فیصلے سے سیاست دانوں کو بہت بڑا ریلیف ملا ہیے اور مستقبل میں بھی انہیں فادہ ہو گا۔ مسلم لیگی حلقے بہت خوش نظر آ رہیے ہیں جبکہ پی ٹی آی اس فیصلے پر تنقید کر رہی ہیے۔ سن دو ہزار گیارہ میں اس وقت کے صدد آصف زرداری نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بارے میں ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا تھا جو کی سالوں سے پڑا تھا اس ریفرنس میں بھٹو کی پھانسی کی سزا کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی گی ہیے۔ دراصل پی پی پی اسے عدالتی قتل قرار دیتی ہیے سپریم کورٹ میں بڑی تیز رفتاری سے اس کی سماعت جاری ہیے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ اس کیس کے فیصلے کے وقت ان پر دباو تھا۔ ان کا یہ انٹرویو عدالت میں چلایا گیا ۔ عدالتی معاونین اور وکلا نے دلال کا سلسلہ شروع کر رکھا ہیے ایک بین الاقوامی طور پر شہرت یافتہ سیاست دان کو صرف ایک ایف آی آر کی بنیاد پر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا لیکن اس لیڈر کو عوام کے دلوں سے نکالا نہ جا سکا۔ دیکھیں اعلی عدلیہ اس ریفرنس پر کیا فیصلہ سناتی ہے۔
ایک طرف عدالتی جنگ جاری ہیے دوسری طرف سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نجفی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنے خلاف الزامات کا سامنا کرنے کی بجاے اپنے عہدے سے استیفی دے دیا انہوں نے سپریم جوڈیشیل کونسل میں تحریری جواب بھی جمع کروایا۔ سپریم کورٹ کے سینیر جج جسٹس اعجاز الحسن جو نواز شریف کیس میں مانیٹرنگ جج تھے نے پہلے سپریم جوڈیشل کونسل میں بطور ممبر بیٹھنے سے معزرت کی اس کے بعد بطور سپریم کورٹ کے جج اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ۔ صدر عارف علوی نے دونوں ججوں کے استعفے منظور کر لئے ۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے استعفے قوم کے لے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہیں ۔ اس وقت جب سپریم کورٹ کی مداخلت سے انتخابات ہونے جا رہیے ہیں پوری قوم اس پر بہت خوش ہے ملک بھر کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں یکجا ہو کر انتخابی عمل کا حصہ بننے جا رہی ہیں ایسے میں انتخابات ملتوی کروانے کے لے سینٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے میں کچھ نادیدہ طاقتوں کے ہاتھ نظر آ رہیے ہیں سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ارباب اختیار کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔
٭٭٭٭٭

Exit mobile version