Site icon Daily Pakistan

سی پیک ، پاکستان کے روشن مستقبل کی نوید

دیکھا جائے توپاک چین اقتصادی راہداری محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی، سماجی اور جغرافیائی مستقبل کو نئی سمت دینے والا ایک ہمہ جہت وژن ہے۔ یہ منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ سلسلے کا اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے ایشیا، یورپ اور افریقہ کو زمینی و بحری راستوں سے جوڑنے کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اس منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سی پیک کو پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے والا منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت، بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ اور سماجی ترقی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا سب سے نمایاں مثبت اثر توانائی کے بحران میں واضح کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ گزشتہ دہائی میں پاکستان کو شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا جس نے صنعتی پیداوار، کاروبار اور عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ سی پیک کے تحت لگنے والے بجلی گھروں نے ہزاروں میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی، جس سے نہ صرف لوڈشیڈنگ میں کمی آئی بلکہ صنعتوں کو بھی دوبارہ فعال ہونے کا موقع ملا۔انفراسٹرکچر کی ترقی سی پیک کا دوسرا بڑا ثمر ہے۔ ملک بھر میں موٹرویز، ایکسپریس ویز، ریلوے لائنوں اور پلوں کی تعمیر نے نہ صرف شہروں کو آپس میں جوڑا بلکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو بھی قومی دھارے میں شامل کیا۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے صوبے، جو ماضی میں نظرانداز ہوتے رہے، اب ترقی کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بہتر سڑکوں اور نقل و حمل کے نظام نے تجارت کے اخراجات کم کیے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی پیدا کی۔گوادر بندرگاہ سی پیک کا دل سمجھی جاتی ہے۔ یہ بندرگاہ پاکستان کو عالمی تجارتی نقشے پر ایک اہم مقام دلا سکتی ہے جس کی ترقی سے نہ صرف بلوچستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ پاکستان کو وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ کے ساتھ تجارت کے نئے راستے بھی میسر آئے۔ مستقبل میں گوادر ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز بننے کا رہا ہے جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔سی پیک کے مثبت اثرات میں صنعتی ترقی بھی نمایاں ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان زونز میں صنعتوں کے قیام سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہو سکے گی۔ یہ عمل پاکستان کو محض صارف نہیں بلکہ پیداواری معیشت کی طرف لے جانے میں مدد دے گا۔روزگار کے مواقع سی پیک کا ایک اور اہم فائدہ ہیں۔ تعمیراتی منصوبوں، توانائی کے شعبے، ٹرانسپورٹ اور صنعتوں میں لاکھوں افراد کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار ملا۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئی بلکہ ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کا عمل بھی تیز ہوا۔ نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔علاقائی روابط کے فروغ میں بھی سی پیک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک سے جوڑتا ہے، جس سے علاقائی تجارت، امن اور تعاون کو فروغ مل سکتا ہے۔ چین، پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون نہ صرف معاشی استحکام بلکہ سیاسی ہم آہنگی کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔سماجی شعبے پر بھی سی پیک کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صحت، تعلیم اور پانی جیسے بنیادی شعبوں میں مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ بہتر انفراسٹرکچر اور معاشی سرگرمیوں سے عوام کا معیارِ زندگی بلند ہونے کی توقع ہے۔ پسماندہ علاقوں میں ترقی کے ثمرات پہنچنے سے احساسِ محرومی میں کمی آئے گی، جو قومی یکجہتی کیلئے نہایت اہم ہے ۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے، جس کے مکمل ثمرات وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ اس کے لیے شفافیت، بہتر حکمرانی اور مقامی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اگر منصوبوں کی نگرانی موثر انداز میں کی جائے اور قومی ترجیحات کو مدنظر رکھا جائے تو سی پیک پاکستان کو معاشی خود انحصاری کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔علاہ ازیں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کی عملی تصویر ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف دو ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے لیے ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی راہیں بھی کھول رہا ہے۔ اگر ہم دانشمندی، دیانت اور قومی مفاد کو پیشِ نظر رکھ کر اس منصوبے سے فائدہ اٹھائیں تو سی پیک واقعی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔پاک چائنا کوریڈور مسلم لیگ ن کے سابقہ دور حکومت میں شروع ہوا تھا جس کے افتتاح کے لئے چینی صدر اسلام آباد تشریف لائے ، منصوبے پر پورے زور و شور سے کام شروع ہوا مگر 2018 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو یہ عظیم منصوبہ دانستہ سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ،ہمیں یاد ہے اچھی طرح کی پی ٹی آئی دور حکومت کے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید سے جب چینی حکام اس عظیم منصوبے کے سلسلے میں ملاقات کے لئے آتے تو مراد سعید انہیں گھنٹوں گھنٹوں انتظار کرواتے اور اس طویل انتظار کے بعد ان سے ملاقات بھی نہ کرتے جس سے پی ٹی آئی کی ملکی ترقی میں دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگانا مشکل نہیں ، یہ سب باتیں حقائق ریکارڈ پر ہیں تاہم جب پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمی ہوا اور ن لیگ کے میاں شہباز شریف نے نگراں حکومت کا سیٹ اپ سنبھالا تو سی پیک پر دوبارہ زور و شور سی اسی رفتار سے کام شروع کر دیا گیا جس رفتار سے منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا ۔ منصوبے پر تا وقت کام جاری ہے تاہم پاک افغان تعلقات میں بہتری آنے پر اس منصوبے کے جلد مکمل ہونے کے امکانات روشن ہیں۔

Exit mobile version