پاکستان اس نکتے پر کھڑا ہے جہاں فیصلوں کی سمت بدلنا محض ایک انتخاب نہیں بلکہ بقا کی شرط بن چکا ہے۔ برسوں سے ہم وسائل بیچنے کو اصلاحات کا نام دیتے آئے ہیں حالانکہ وسائل بیجنا کبھی کمال نہیں رہا۔ کمال یہ ہے کہ وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کیا جائے، انہیں لوٹ مار سے بچایا جائے اور قومی دولت کو چند ہاتھوں کی آسائش کے بجائے اجتماعی فلاح میں بدلا جائے۔ نجکاری کو ہر مرض کا علاج سمجھ لینا ایک آسان مگر سطحی راستہ ہے، اصل مسئلہ کرپشن، پروٹوکول اور مراعات کی وہ ثقافت ہے جو ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر چکی ہے۔پاکستان میں ریاستی نظم و نسق کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام ٹیکس دیتے ہیں اور مراعات اشرافیہ سمیٹ لیتی ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے قافلے، مفت پٹرول، مفت بجلی، مفت گیس، مفت ٹیلی فون، سرکاری گھروں کی فراوانی، غیر ملکی دوروں کی بے جا نمود اور پروٹوکول کے نام پر عوامی زندگی میں مداخلت، یہ سب وہ بوجھ ہیں جو خزانے پر نہیں بلکہ عوام کے کندھوں پر رکھے گئے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں عام آدمی بجلی کے بل، گیس کے نرخ، علاج کے اخراجات اور تعلیم کی فیس سے نبرد آزما ہو، وہاں اقتدار کے ایوانوں میں مفت کی آسائشیں انصاف کے تصور پر سوالیہ نشان بن جاتی ہیں۔یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلام کی روح انصاف، مساوات اور امانت ہے۔ ریاست کا منصب یہ نہیں کہ وہ چند افراد کو خصوصی مراعات دے بلکہ یہ ہے کہ وہ سب کے لیے یکساں مواقع پیدا کرے۔ جب ایک صدر یا وزیر اعظم سمیت کوئی بھی عہدہ عوام کے ٹیکسوں پر خصوصی مراعات کا حق دار سمجھا جائے تو مساوات کی بنیاد ہی متزلزل ہو جاتی ہے۔ اسلامی ریاست کا تصور سادگی، جواب دہی اور عوامی خدمت سے عبارت ہے، نہ کہ قافلوں، پروٹوکول اور بے حساب سہولتوں سے ۔مسئلہ صرف مراعات کا نہیں، مسئلہ ذہنیت کا ہے۔ جب اقتدار کو خدمت کے بجائے استحقاق سمجھا جائے تو کرپشن جنم لیتی ہے۔ کرپشن محض رشوت کا نام نہیں، یہ اختیارات کے غلط استعمال، اقربا پروری، میرٹ کی پامالی اور فیصلوں میں ذاتی مفاد کی شمولیت کا مجموعہ ہے۔ یہی وہ زہر ہے جو قومی اداروں کو ناکارہ بناتا ہے اور پھر انہی اداروں کی ناکامی کو جواز بنا کر نجکاری کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔پی آئی اے سمیت متعدد سرکاری ادارے اس تلخ حقیقت کی مثال ہیں۔ یہ ادارے اس لیے ناکام نہیں ہوئے کہ ریاست انہیں چلا نہیں سکتی بلکہ اس لیے ناکام کیے گئے کہ میرٹ کو مسلسل روندھا گیا۔ سیاسی بھرتیاں، غیر پیشہ ورانہ فیصلے، ناقص نگرانی اور مالی بدانتظامی نے ان اداروں کو خسارے میں دھکیل دیا۔ پھر جب خسارہ حد سے بڑھا تو نجکاری کو واحد حل بنا کر پیش کیا گیا حالانکہ سوال یہ نہیں کہ ادارے سرکاری ہیں یا نجی، سوال یہ ہے کہ کیا وہ دیانت، پیشہ ورانہ مہارت اور شفافیت کے ساتھ چل رہے ہیں یا نہیں۔دنیا کی کامیاب معیشتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ادارے تب پھلتے پھولتے ہیں جب ان کی قیادت اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔ میرٹ پر تقرری، واضح اہداف، سخت احتساب اور کارکردگی پر انعام و سزا کا نظام ،یہ وہ ستون ہیں جن پر مضبوط ادارے کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر یہی اصول پاکستان میں نافذ کر دیے جائیں تو کسی ادارے کو بیچنے کی نوبت نہ آئے۔ نجکاری وقتی طور پر خسارہ کم کر سکتی ہے مگر یہ قومی خود مختاری، روزگار کے مواقع اور اسٹریٹجک مفادات پر سوالات بھی اٹھاتی ہے۔پاکستان کے مالی بحران کی جڑیں بجٹ خسارے سے زیادہ اخراجات کی غلط ترجیحات میں پیوست ہیں۔ جب قومی خزانہ پروٹوکول، مراعات اور غیر ترقیاتی اخراجات میں بہتا رہے تو تعلیم، صحت اور تحقیق کیلئے وسائل کہاں سے آئیں گے ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے برسوں تک انسانی ترقی کو نظر انداز کیا۔ اصلاحات کا پہلا قدم یہی ہونا چاہیے کہ ریاست اپنے اوپر لگے بوجھ کو خود اتارے۔ سرکاری گاڑیوں کی تعداد محدود کی جائے، پٹرول اور یوٹیلیٹیز کی مفت فراہمی ختم کی جائے، سرکاری گھروں کو ختم کیاجائے اور پروٹوکول کو 100فیصد ختم کیا جائے۔یہ اقدامات صرف خزانے کو ریلیف نہیں دیں گے بلکہ ایک اخلاقی پیغام بھی دیں گے کہ حکمران اور عوام ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔احتساب کا نظام اگر کمزور ہو تو بہترین پالیسیاں بھی کاغذوں میں دفن ہو جاتی ہیں۔ احتساب کو سیاسی انتقام کے بجائے قومی تطہیر کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ بڑے سے بڑا عہدہ دار بھی قانون کے سامنے برابر ہو، یہی وہ اصول ہے جو اعتماد بحال کرتا ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ طاقتور کو بھی جواب دینا پڑتا ہے تو وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ٹیکس دیتے ہیں اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔ اس کے بغیر اصلاحات محض نعروں تک محدود رہتی ہیں۔میرٹ کی بحالی محض ایک نعرہ نہیں، یہ ایک جامع نظام کا تقاضا کرتی ہے۔ بھرتیوں سے لیکر ترقیوں تک، ٹھیکوں سے لیکر پالیسی سازی تک، ہر سطح پر شفاف طریقہ کار اپنانا ہوگا ۔ ٹیکنالوجی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام نہ صرف انسانی مداخلت کم کرتے ہیں بلکہ ریکارڈ کو شفاف اور قابلِ جانچ بناتے ہیں۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات، سرکاری خریداری کے شفاف پلیٹ فارمز اور کارکردگی کی ڈیجیٹل نگرانی، یہ سب وہ اقدامات ہیں جو کرپشن کے دروازے بند کر سکتے ہیں۔پاکستان کے نوجوان اس ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ اگر انہیں میرٹ پر آگے بڑھنے کا یقین مل جائے تو یہی نوجوان معیشت کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ ہنر مند افرادی قوت، جدت اور محنت وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قوم کو ایشیائی ٹائیگر بناتے ہیں مگر یہ تب ممکن ہے جب نوجوان یہ محسوس کریں کہ محنت کا صلہ ملے گا، سفارش نہیں چلے گی اور قابلیت کی قدر ہوگی۔معیشت کی بحالی کا راستہ کفایت شعاری اور انصاف سے ہو کر گزرتا ہے۔ ریاست جب خود سادگی اختیار کرے گی تو عوام بھی قربانی دینے پر آمادہ ہوں گے۔ ٹیکس نیٹ میں توسیع اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکس دینے والے کو یہ اعتماد ہو کہ اس کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا۔ شفافیت، جواب دہی اور مساوات ، یہ وہ ستون ہیں جن پر پائیدار معیشت کھڑی ہوتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اصلاحات آسان نہیں ہوتیں۔ مراعات یافتہ طبقہ کبھی خوشی سے اپنی سہولتیں نہیں چھوڑتا مگر قیادت کا امتحان یہی ہے کہ وہ مشکل فیصلے کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھیں جنہوں نے وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدت مفاد کو ترجیح دی۔ پاکستان کو بھی اسی جرات کی ضرورت ہے۔پی آئی اے اور دیگر اداروں کی مثال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ اگر ادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں، پیشہ ورانہ قیادت لائی جائے اور سیاسی مداخلت ختم کی جائے تو یہی ادارے منافع بخش بن سکتے ہیں۔ دنیا میں کئی قومی ایئرلائنز اور سرکاری کمپنیاں اس کی مثال ہیں۔ سوال نیت اور نظام کا ہے، ملکیت کا نہیں۔اسلامی ریاست کے تصور میں حکمران خادم ہوتا ہے، مالک نہیں۔ اس تصور کو عملی جامہ پہنانا ہی اصل انقلاب ہے۔ جب اقتدار خدمت بن جائے، مراعات ذمہ داری میں بدل جائیں اور طاقت جواب دہی سے جڑ جائے تو قومیں خود بخود درست سمت میں چل پڑتی ہیں۔ پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ نجات کا راستہ ہے۔ وسائل بیچنا مسائل کا حل نہیں، مسائل کا حل خود کو بدلنا ہے پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکتا ہے بلکہ ترقی کی دوڑ میں نمایاں مقام بھی حاصل کر سکتا ہے ۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں بشرطیکہ نیت صاف اور سمت درست ہو۔
شفافیت، جواب دہی اور مساوات۔۔۔!

