آج پوری دنیا میں میڈیا اور صحافیوں کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں مگر پاکستان میں معاملہ اس سے کہیں آگے نکل چکا ہے یہاں سچ بولنا خطرہ بن چکا ہے سوشل میڈیا نے صحافت کی تعریف بگاڑ دی ہے ہر ہاتھ میں موبائل ہے ہر زبان پر رائے ہے مگر سچ بولنے کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو چکا ہے کہ صحافی آخر ہوتا کون ہے؟
صحافی وہ نہیں جو طاقتور کے ساتھ کھڑا ہو جو پروٹوکول، اور مراعات کے عوض خاموشی اختیار کر لے ،صحافی وہ ہے جو اندھیرے میں چراغ جلائے جو عوام کی آواز بنے۔ صحافت کوئی نوکری نہیں یہ ایک عہد ہے۔ مگر افسوس کہ آج شور و غل چیخ و پکار اور سنسنی بیچنے والے اپنی روٹی روزی تو کما رہے ہیں مگر صحافت نہیں کر رہے ہیں۔میڈیا اور صحافت کو ایک ہی معنی میں استعمال کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ میڈیا ایک صنعت ہے صحافت ایک ذمہ داری۔ ہر اینکر ہر یوٹیوبر ہر کانٹینٹ کریئیٹر صحافی نہیں ہوتا صحافی وہ ہے جو تحقیق کرتا ہے خبر کی تصدیق کرتا ہے اخلاقی حدود کا خیال رکھتا ہے اور نتائج کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔
میں فخر سے یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے جنرل ضیا الحق جیسے آمر کے خلاف لکھا اور بولا۔ میں نے نواز شریف کے حق میں بھی لکھا اس کے اچھے کاموں کی تحسین کی اور اس کی پالیسیوں کے خلاف بھی اپنا بھرپور قلمی جہاد کیا۔ اسی طرح بینظیر بھٹو کی حمایت بھی کی اور اختلاف بھی کیا میں نے جنرل پرویز مشرف کے اقدامات کے خلاف لمبا قلمی جہاد کیا مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا بلکہ سچ ماننا ہوگا کہ ایک فوجی آمر ہونے کے باوجود جنرل مشرف میں یہ ظرف کم از کم ضرور تھا کہ وہ تنقید اور اختلافِ رائے کو برداشت کرتا تھا آج یہ برداشت ناپید ہو چکی ہے۔
آج اگر کوئی زیرِ عتاب ہے تو میں اور ہم میں سے بہت سے سارے اسے ظلم، زیادتی اور سیاسی انتقام سمجھتے اور گردانتے ہیں اس لیے نہیں کہ ہم کسی جماعت کے ترجمان ہیں، بلکہ اس لیے کہ ناانصافی جہاں بھی ہو اس کے خلاف بولنا صحافت کا اولین فرض ہے۔پاکستان میں آج بھی چند اخبارات اور ٹی وی چینلز ایسے ہیں جو آزاد آواز بلند رکھنا چاہتے ہیں لیکن جب جینا محال ہو جائے سانس لینا دشوار ہو جائے ،پیکا جیسے کالے قوانین اور پیمرا کی تلوار ہر وقت لٹکتی ر ہے تو اخبارات اور مڈیا مالکان کیا کریں نہ خبر آزاد ہے، نہ تبصرہ نہ رائے۔جمہوری آئینی اور مہذب معاشروں میں حکومتیں دو کام ضرور درست کرتی ہیں،ایک، میڈیا کو آزاد رکھتی ہیں تاکہ سچ زندہ رہے اور عوام کی پلس چیک ہوتی رہی ۔دوسرا، عدالتوں اور ججوں کو آزادی دیتی ہیں تاکہ انصاف کسی کا غلام نہ بنے چونکہ انہیں پتہ ہے کہ آج ہم حکمران ہیں تو کل نہیں ہونگے تو ہمیں بھی انصاف عدالتوں سے درکار ہوگا ۔مگر بدقسمتی سے آج ہمارے ملک میں میڈیا اور عدلیہ دونوں دباؤ میں ہیں ۔ میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ یہ میری زندگی میں سب سے زیادہ بھیانک دور ہے۔پچھلے دنوں لندن میں ہمارے دوست نسیم صدیقی نے صحافیوں کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا، جہاں مرحومین صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جو اب اس دنیا میں نہیں رہے انہیں اچھے القابات سے یاد کیا گیا اس فنکش میں میرے استاد لندن جنگ کے سابق ایڈیٹر ظہور نیازی، دی نیشن اخبار کے مالک محمد سرور جنگ جیو کے سابق ایڈیٹر افتخار قیصر اور دیگر بزرگ موجود تھے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صحافت کو عزت دی پاکستان اور کشمیر کے لیے آواز اٹھائی لوگوں کا دیار غیر میں جزبہ اپنے ملک کے ساتھ جوڑے رکھا انہیں پاکستان کی خوشبوں کے تازہ جھونکے دستیاب کرتے رہے اور جن کا احترام سیاست دان اور تاجر بھی کرتے تھے۔ میں نے خود یوکے سے چلنے والے ایک ٹی وی چینل سے برطانیہ یورپ کے شہروں سے پروگرامات کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے کیے کہ ہمارا تعلق پاکستان اور کشمیر کی تحریک آزادی سے جڑا رہے استحکام پاکستان کے لئے کی جانیوالی کوششوں اور کام کی وجہ سے پزیرائی ملی۔ عزت ملی۔ آج صحافی خود اپنی عزت سے غافل ہو چکا ہے۔ سینئر اور جونیئر کی تمیز ختم ہو چکی ہے احترام ناپید ہو چکا ہے۔پاکستان میں صحافیوں کی سینکڑوں تنظیمیں ہیں مگر صحافی تنہا ہے۔ یہ تنظیمیں اب حقوق کی جنگ نہیں لڑتیں بلکہ قربتوں کی سیاست کرتی ہیں ،ہمارے پیشے کی بے عزتی اور بے توقیری کا یہ ِحال ہے کہ کسی نے حال ہی میں مجھ سے کہا یار صحافی کی کیا حیثیت ہے؟
بس روٹی کی ہی مار ہے۔یہ جملہ میرے سینے میں تیر بن کر لگا۔میں حال ہی میں پاکستان میں تھا ایک جگہ اپنا تعارف صحافی کے طور پر کروایا تو ایک قریبی عزیز نے مشورہ دیا کہ خود کو صحافی نہ کہو، اینکر یا تجزیہ کار کہو بزنس مین کہو۔ صحافی تو بدنام ہو چکے ہیں، یہ سن کر میں اندر سے ٹوٹ گیا، ہم نے خود اس کی لاج نہیں رکھی۔ سچ دبانا بھی عارضی ہوتا ہے خوف وقتی ہتھیار ہوتا ہے۔ سچ کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔
یہ وقت یادوں کا نہیں۔یہ وقت مفاہمت کا نہیں، موقف کا ہے پاکستان اور آئین پاکستان کے تحت آزادی اظہار رائے حاصل کرنے کا وقت ہے۔ یاد دہانی رہے کہ طاقتور بدل جاتے ہیں اقتدار ختم ہو جاتا ہے۔مگر قلم کا حساب باقی رہتا ہے۔اللہ حامی و ناصر پاکستان زندہ باد
صحافی،صحافت، خوف اور انجام

