کالم

صحت کا شعبہ مسائل کا شکار

پاکستان میں دیگر شعبوں کی طرح صحت کا شعبہ بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے دیہاتوں کو تو چھوڑیے،بڑے بڑے شہروں میں صحت کا مسئلہ سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے مہنگا علاج عوام کے بس سے باہر ہو گیا ہے صحت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ایک تو سرکاری ہسپتال کم ہیں اور دوسرا سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں عام پاکستانی علاج کرنے سے کتراتا ہے کیونکہ اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ علاج کرا سکے بڑی بڑی بیماریوں کے علاج کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے وجہ یہ کہ مہنگاعلاج کرنا بس سے باہر ہو چکا ہے لاعلمی بھی علاج کرانے سے روکتی ہے کہ ایک فرد علاج کرنے سےاس لیے بھی کتراتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ بیماری اتنی سنگین نوعیت کی نہیں وہ ٹونے ٹوٹکےاور جھاڑ پھونک کے ذریعے صحت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اگر علاج کرانے کی نیت ہو بھی جائے تو وہ اتائی ڈاکٹر کے پاس جانا پسند کرتا ہے ایک تو اتائی ڈاکٹر اس کو آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے دوسرا وہ سستا ہوتا ہے یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات اتائی ڈاکٹر کا علاج بھی مہنگا ہوتا ہے اتائی ڈاکٹروں کی اکثریت معمولی تعلیم یافتہ ہوتی ہےاور وہ علاج”تکے”سے کرتے ہیں حکومت جب تک اتائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت قسم کا ایکشن نہیں لیتی اس وقت تک اس قسم کے ڈاکٹر عوام کا خون نچوڑتے رہیں گے تحصیل سلانوالی کے پسماندہ علاقے میں ہیلتھ یونٹ کی نجاری اور دیگر علاقہ جات میں اتائی ڈاکٹروں کی کثرت پائی جاتی ہے ان اتائی ڈاکٹروں کی کل قابلیت چند دن کسی ڈاکٹر کے ساتھ کھڑا ہونا ہے بعض اتائی ڈاکٹروں کی تعلیم کم ہے پورے پاکستان میں بھی اتائی ڈاکٹرکثرت سے پائےجاتے ہیں یہ ایک المیہ ہے کہ حقیقی ڈاکٹرکی اکثریت بھی لالچ کا شکار ہو جاتی ہے مہنگے اور غیر ضروری ٹیسٹ لکھ دیے جاتے ہیں اور ایسی ادویات تجویز کر دی جاتی ہیں جو مہنگی ہوتی ہیں حالانکہ اس کے متبادل مارکیٹ میں دوا موجود ہوتی ہے لیکن کمیشن اور مفاد کے لیےمخصوص کمپنی کی دوائیں لکھی جاتی ہیں میڈیکلی استعمال ہونے والے اوزار بھی آلودہ ہوتے ہیں اور یہ آلودہ اوزار بعض اوقات خطرناک اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں عوام کو خود بھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ اتائی ڈاکٹر سے علاج نہیں کرانا ڈگری یافتہ ڈاکٹروں کو بھی چاہیے کہ مریض کو وہی ٹیسٹ اور ادویات تجویز کریں جو انتہائی ضروری ہوں بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ادویات جعلی ہوتی ہیں یا ایکسپائری ہوتی ہیں ظاہر ہے ان کا نقصان مریض کو تو ہونا ہی ہے چیکنگ بھی کی جاتی ہے،چیکنگ کے باوجود بھی جعلی ادویات کا فروخت ہونا تشویش ناک بات ہے عوام کو خود چاہیے کہ اتائی ڈاکٹروں کے پاس علاج کروانے کےلئے نہ جائیں صحت کے شعبے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اب صحت کے شعبے کو بھی پرائیویٹ کیا جا رہا ہے،پرائیویٹ کرنے کی بجائے بہتر کرنے کی ضرورت ہے سلانوالی کے علاقوں میں صحت کے مسائل بھی بہت زیادہ پائے جاتے ہیں،لیکن بیسک ہیلتھ یونٹ تک موجود نہیں یونین کونسل و نجاری میں چنف بیسک ہیلتھ یونٹ ہیں اور اس میں بھی ادویات سمیت سہولیات کی کمی ہے صحت ایک اہم مسئلہ ہے اس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اگر کسی معاشرے میں صحت مند افراد رہتے ہیں تو وہ معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔حکومت اگر پرائیویٹ کر ہی رہی ہےتو صحت کارڈ جیسی سہولت عوام کو ملنی چاہیے بہتر صحت ہر شہری کا حق ہےاور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہری کی صحت کےمسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے