Site icon Daily Pakistan

طلبا میں چیٹ جی پی ٹی کا بڑھتا استعمال ایچ ای سی کے لیے دردسر بن گیا

چیٹ جی پی ٹی نے امریکی جوڑے کی شادی کروادی

چیٹ جی پی ٹی نے امریکی جوڑے کی شادی کروادی

کراچی: انسانی طرز پر رد عمل دینے والے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے نئے پروگرام ”جی پی ٹی ماڈل“نے سائنسی و غیرسائنسی شعبوں میں تہلکہ مچادیا ہے اور اس کے بعض منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان نے سرجوڑلیے ہیں۔اس ماڈل میں سوالات کے جوابات دینے،موضوعات پر تبصرہ کرنے اور آرٹیکل، خلاصوں اور ترجمے میں مہارت رکھنے سمیت ماہرانہ طرزکے وہ عوامل بھی شامل ہیں جو معروف سرچ انجن گوگل پیش کرنے سے قاصر ہے۔اسی بنیاد پراس ماڈل نے ایک جانب آئی ٹی سمیت دیگرپیشوں سے وابستہ ماہرین کوحیرت میں ڈال دیا ہے جبکہ دوسری جانب طلبا اور بالخصوص جامعات کی سطح پر جی پی ٹی ماڈل متعارف ہونے سے طلبا کی چاندی ہوگئی ہے۔جامعات کی سطح پر طلباء و طالبات میں اس کااستعمال اس قدر عام ہوگیا ہے کہ مختلف ضابطوں اورشعبوں میں پڑھنے والے طلباء وطالبات اس ماڈل سے تھیسز رائٹنگ کروارہے ہیں اور اپنے اسائنمنٹس بنوارہے ہیں۔اطلاع یہ ہے کہ تھیسزرائٹنگ میں سرقہ نویسی کی شناخت کے لیے ایچ ای سی کے پاس دستیاب سوفٹ ویئر بھی جی پی ٹی ماڈل سے لکھوائی گئی تحریر کی شناخت نہیں کرسکتا، جبکہ اس ماڈل کا کسی بھی سوال کے جواب میں ردعمل اس قدر تیز ہے کہ تھیسز رائیٹنگ یا کسی بھی قسم کے اسائنمنٹس میں گوگل کے استعمال کی ضرورت ہی پیش نہیں آرہی۔

Exit mobile version