پاکستان میں عدالتِ عالیہ جسے انگریزی میں ہائی کورٹ کہتے ہیں۔ پاکستان بننے کے فورا بعد 1947 میں مختلف صوبوں میں عدالتِ عالیہ نے کام شروع کر دیا تھا مگر یہ ادارے اصل میں برطانوی دور سے موجود تھے اور پاکستان میں نئی ریاست کے تحت کام کرنا جاری رکھا ۔ لاہور ہائی کورٹ: پہلے سے قائم تھی۔ پاکستان بننے کے بعد 14اگست 1947سے پاکستان کی عدالت کے طور پر اس نے کام شروع کیا۔ ڈھاکہ ہائی کورٹ (سابق مشرقی پاکستان): 1947 سے کام کرنا شروع کیا تھا اسی طرح سندھ چیف کورٹ کو 1955 میں سندھ ہائی کورٹ کا درجہ ملا۔ پشاور ہائی کورٹ 1955میں بنی ۔ بلوچستان ہائی کورٹ پاکستان بننے کے کافی عرصے بعد 1976 میں قائم ہوئی ۔ابتدا میں فیڈرل کورٹ آف پاکستان (1947) سب سے اعلی عدالت تھی پہلا آئین 1956 نافذ ہونے کے بعد فیڈرل کورٹ کو ختم کر کے سپریم کورٹ آف پاکستان قائم کی گئی۔
پہلا چیف جسٹس: جسٹس اے آر کارنیلیئس تھے جبکہ عدالتِ عالیہ 1947 سے (مختلف صوبوں میں اس نے کام کرنا شروع کیا ) جبکہ عدالتِ عظمی نے 23 مارچ 1956 سے کام کرنا شروع کیا۔ عمر میں عالیہ بڑی ہے مگر کام میں اعظمی بڑی ہے۔ اب تیسری بہن 26 ترمیم کے آنے سے جسے انگریزی میں ایف سی سی کورٹ کہتے ہیں ۔ یہ عمر میں دونوں بہنوں سے چھوٹی ہے مگر قد گھاٹ سے ان دونوں سے بڑی ہے۔ اس کے فیصلے دونوں پر لاگو ہیں ۔ اس کا نام اردو میں نہیں ہے مگر سپریم کورٹ کے ٹی ٹاک کارنر کے وکلا نے اس کا اب تیسری بہن کا نام کبرا تجویز کیا ہے۔ باقی دو بہنوں کی طرح اسے بھی گھر مل چکا ہے اب کام کرنا بھی شروع کر دیا ہے ۔ یہ عمر میں یوں تو تینوں بہنوں سے چھوٹی ہے لیکن اپنی دونوں بہنوں سے طاقت ور ان سے زیادہ ہے اس کے انے سے لوگ خوش بھی ہیں اور کچھ ناراض بھی۔ لیکن اب اس نے کام شروع کر دیا ہے۔ یہ اب ملک کی سب سے بڑی عدالت بن کر سامنے آئی ہے۔جب تک نیا نام سامنے نہیں اتا ادے ہم کبراکے نام سے پکارا کریں گے۔اس کے فیصلے اعظمی اور عالیہ دونوں پر لاگو ہونگے لہٰذا یہ بہن اب سب سے بڑی بہن بن چکی ہے۔ جلدی میں انے کی وجہ سے اس بچاری کبرا بہن کا اپنا کوئی گھر پہلے سے نہیں تھا۔ لہذا عالیہ بہن نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھر میں اس بہن کو کام کرنے کی جگہ دی۔ لیکن بڑے نام کی وجہ سے عالیہ کے ساتھ شیئر کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ عالیہ کی کزن دو تین گھر چھوڑ کر شریعت کورٹ کے نام کی بلڈنگ میں کام کر رہی تھی۔ اس کا گھر کافی بڑا تھا لیکن اس کے پاس کام بہت کم تھا۔ جس کی وجہ سے سب کی نظریں اس پر تھیں۔ شروع میں عالیہ کے کیزن سے بات ہوئی کہ اپ کے پاس کام کم ہے۔ لہذا اپ عالیہ کے گھر میں شفٹ ہو جا۔ کیونکہ یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ بڑی بہن چھوٹی بہن کے گھر میں رہے۔ پھر کچھ رشتہ داروں نے عالیہ کی کزن کو سمجھایا کہ تیرے پاس کام بھی بہت کم ہے۔لہذا تم اتنے بڑے گھر میں اچھی نہیں لگتی ہو۔ یہ بات اس کی سمجھ میں آ گئی اور یہ اپنی کزن عالیہ کے گھر شفٹ ہو گء جہاں پہلے بڑی بہن کبرا شرمندہ شرمندہ مجبوری کے تحت رہ رہی تھی۔ عالیہ کے کزن کے مان جانے پر گھر کو رنگ و روغن کر کے نیا فرنیچر دیا گیاجس کے بعد گھر کے سربراہ کے ساتھ وزیر قانون، اٹارنی جنرل اف پاکستان سپریم کورٹ بار کے صدر نے نقاب کشائی کرتے ہوئے کبرا کو یقین دلایا کہ یہ گھر پہلے گھر سے بہت بہتر ہے۔اسی میں گزارا کریں۔ وکلا بھی خوش تھے جو ایک دن میں کبرا اور اعظمی میں پیش ہوتے تھے۔خاص کر آے او آر خوش تھے کہ دونوں گھر امنے سامنے ہونے سے انے جانے میں اسانی ہو گی۔ ہم بھی سید منظور گیلانی سردار عاشق رند کے ساتھ کبرا کے گھر کو دیکھنے گئے تھے ۔ وہاں اس کی لمبی عمر کی دعا بھی کی لیکن دیکھ کر دل خوش نہیں ہوا کہ کبرا کی وہ شان نہ تھی جو اعظمی کی ہوا کرتی تھی ۔ کبرا کے ہاں گھر آئے ہوئے مہمانوں کے لیے کار پارکنگ کی جگہ تک نہیں ہے۔ بار روم نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں ابھی وکلا کی بار نہیں بنی ۔ امید ہے جلد بار بن جائے گی اور اس کے الیکشن ہونگے۔ فی الحال عارضی بار کا وجود بنا دیا جائے تو رونق لگ سکتی ہے اور وکلا کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل بھی کر سکتے ہیں۔ بات ہو رہی تھی کہ کبرا کا گھر تو مل گیا ہے مگر یہ گھر اس کے شان شایان نہیں۔ اس سے بہتر چھوٹی بہن عطمی کے ساتھ شیرنگ فارمولے کے تحت پہ ان کے ساتھ رہ لیتی تو اچھا ہوتا ۔ امید ہے اس سے ملتا جلتا گھر اعطمی کے پچھواڑے میں بنایا جائے گا۔ کبرا کا نئے گھر میں شفٹ ہونے سے اعطمی کے گھر میں گاڑیوں کا رش بڑھ گیا ہے۔ پارکنگ کم پڑ گئی ہے۔ عظمیٰ میں آنے والے وکلا خواہش رکھتے ہیں کہ جس طرح عظمیٰ کے ملازمین کو باعزت گھر کے اندر بس سے اتارہ جاتا ہے۔ ایسے وکلا کو بھی مین گیٹ سے ڈراب کرنے کی اجازت دی جائے جیسے پہلے کبھی ہوا کرتی تھی ۔ یہاں سینیر وکلا کے لیے ویلے پارکنگ کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے عظمیٰ کے چیف جسٹس یحییٰ افریدی صاحب اس پر فوری عمل کرائیں گے۔ ویسے بھی عظمی کے سربراہ چیف جسٹس یحیی افریدی سپریم کورٹ کے وکلا کے دلوں میں بستے ہیں۔ آپ نے ثابت کیا ہے کہ بنچ اور بار ایک گاڑی کے دو پہہ ایک جیسے ہیں۔ اس سے پہلے ایک پہیہ ٹریکٹر کا اور دوسرا سکوٹر کا ہوا کرتا تھا۔ اب چیف صاحب بار روم میں اتے ہیں۔وکلا سے گپ شپ کرتے ہیں ۔ وکلا کی سنتے ہیں۔ اس ہفتے ٹی ٹاک کارنر پر وکلا کے درمیان یہ ڈسکشن تھی کہ جیسے ایک عدالت کا نام عالیہ ہے اس سے بڑی بہن کا نام عظمیٰ ہے۔ اب ایک 26 آئنی ترمیم سے پیدا ہونے والی بہن ایف سی سی کورٹ کا نام بھی کچھ نہ کچھ اردو میں ہونا چاہیے۔ ایک وکیل صاحب جو اس ترمیم کے خلاف ہیں کہا اس کا نام کوبرا رکھا جائے۔ جبکہ اس ترمیم کے حامی وکلا نے کہا کوبرا نہیں کبرا رکھ لیتے ہیں ۔پھر انہیں بتایا گیا کہ کبرا عربی لفظ ہے، جو کبیر (بڑا) سے نکلا ہے۔اس کے معنی سب سے بڑی عظیم ، برتر لہٰذا کبرا کورٹ کا نام مناسب رہے گا اس طرح ان تینوں بہنوں کے نام عالیہ، عظمیٰ اور کبرا ہو جائیں گے ۔ ٹی ٹاک کانر پر بیٹھے وکلا دوستوں نے کہا کہ اس پر اپ کالم لکھو لہٰذا اج یہ انہی دوستوں کی خواہش پر کالم ہے۔ چیف جسٹس اعظمیٰ،چیف جسٹس آئینی عدالت اور آپ بھی کبرا نام کے حوالے سے اپنی رائے سے نوازیں۔ ابھی اس ترمیم کی مہندی خشک نہیں ہوتی کچھ وکلا نے میں نہ مانو کی رٹ شروع کر دی ہے۔ وکلا کی باتیں اس ترمیم کیخلاف اور حق میں جاری ہیں پاکستان بار کونسل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن چاروں صوبوں کی بار کونسلز بڑی ضلعی اور ہائی کورٹ بارز کا نمایاں مقف یہ ہیکہ آئین میں ایسی ترمیم وکلا کی مشاورت کے بغیر نہیں کرنی چاہیے تھی۔ان کا کہنا ہے ایف سی سی کورٹ نے عدلیہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ اسی لیے بار قیادت نے ہڑتالیں کنونشنز اور کوبرا کورٹ نامنظور جیسے نعرے دیے جبکہ وہ وکلا جو اس ترمیم کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایف سی سی کورٹ کا مقصد آئینی مقدمات کو تیز منظم اور سپریم کورٹ کے مقدمات کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔علیحدہ آئینی عدالت سے فیصلے جلد ہونگے ۔ سیاسی مقدمات الگ ہوں گے اس کا کسی فرد یا ادارے کو فائدہ دینا مقصد نہیں۔یہاں عدالتی اصلاحات ناگزیر ہو چکی تھیں۔ دنیا میں آئینی عدالتوں کی مثالیں پہلے سے موجود ہیں، جرمنی میں فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ بہت مضبوط ہے ، ترکی میں آئینی عدالت رہی مگر سیاسی دبا کی وجہ سے متنازع بنی ۔ چند افریقی ممالک آئینی عدالتیں بنیں مگر حکومتوں نے انہیں اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا۔جس سے عوامی اعتماد ختم ہو گیا اصل فرق قانون نہیں، نیت اور شفافیت ہوتی ہے ۔ وکلا کا خوف یہ نہیں کہآئینی عدالت کیوں بنی ہے ؟ بلکہ یہ ہے کہ کہیں یہ عدالت طاقتور لوگوں کیلئے ڈھال نہ بن جائے۔ آئنی عدالت بن چکی ہے اور انشااللہ رہے گی۔ کبرا کورٹ زندہ باد۔
عدلیہ کی تین بہنیں تین نام عالیہ،عظمیٰ اور کبریٰ

