کالم

عزیز فیصل کی غلط پارکنگ

درد کی حد سے گزرنے کے ساتھ ہی اقلیم شگفتہ بیانی کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے ۔ مزاحیہ شاعری ایک نہایت درجہ سنجیدہ کام ہے ، اس فن میں خلوص شرط اول اور درد آشنائی شرط دوم خیال کی جاسکتی ہے۔ان شرائط پر پورا اترنے والا جب شگفتہ گوئی کا آغاز کرتا ہے تو اس کا رنگ و آہنگ دیگر سے بالکل جدا اورمنفرد نظر آتا ہے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ سب سے دقیق اور سنجیدہ معنی اپنی نقاب کشائی کےلئے شگفتگی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ لیکن ہمارے یہاں جس طرح سنجیدہ شاعری بالکل مزاحیہ انداز سے کی جاتی ہے ، بالکل اسی طرح مزاحیہ شاعری کے نام پر درناک قسم کا پھکڑ پن بھی رقم کیا جا رہا ہے ۔یہ اعتراف بہرحال کرنا ہی چاہیئے کہ ہمارے بعض مزاحیہ شاعری کے دعوے دار اپنے حال حلیے اور شکل و صورت سے دور ہی سے پہچانے جاتے ہیں کہ ہو نہ ہو ، یہ مزاحیہ شعر کہنے پر بالکل تیار نظر آرہا ہے۔بیشتر سخن طلب تو ایسوں کو دیکھ کر ہی ہنسنا شروع کر دیتے ہیں ،محض اس گمان پر کہ ابھی مزاحیہ شاعری کے پھول کھلیں گے ، لیکن جیسے ہی شاعر منہ کھول کر مصرع ثانی کہ طرف گریز کا عندیہ دیتا ہے ،سخن شناس خود کو اداسی کی وادی میں اترتا محسوس کرنے لگتے ہیں۔اسی طرح ایک مشاعرے میں بند گلے کا کوٹ پہن کر مزاحیہ شاعری کرنےوالے ایک بڑے شاعر کو جب حسب دل خواہ داد نہ ملی ، بلکہ کچھ دبی دبی سی آوازوں نے بھی ان کا گلا دبا دیا تو مشاعرے سے بے مزا ہو کر نکلتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک بستہ بردار معتمد سے کہا”ہن کوئی نواں بندا لبھو مذاقیہ شعر کہن لئی، ایدے دانے مک گئے نیں“یعنی اب مزاحیہ شعر لکھوانے کے لیے کوئی نیا بندہ تلاش کریں،اسکی صلاحیت ختم ہو چکی ہے ۔ ایسے افسوس ناک منظر اور پس منظر میں مزاحیہ شاعری کا ایک مجموعہ ہاتھ لگا۔شاعر ایک شریف استاد اور پرامن شگفتہ گو ہے۔ ہر صنف ادب میں طبع آزمائی کرتے ہیں، لیکن اپنی مزاحیہ شاعری کی گاڑی کھڑی کرنے کےلئے معاصر اردو مزاحیہ شاعری کے پارکنگ ایریا میں جب انہیں انتہا درجے کا انتشار اور بے ترتیبی نظر آئی ،تو وہ گھبرائے بالکل نہیں ،انہوں نے پہلے دائیں دیکھا، پھر بائیں اور یہ جاننے کے بعد کہ اس ملک میں اب بایاں بازو اور دایاں بازو والا سلسلہ تمام ہو چکا ہے، مجبورا ، مگر اعتماد کے ساتھ ”غلط پارکنگ“کر کے اطمینان کا سانس لیا۔شاید انہیں یہ گیان حاصل ہو چکا تھا کہ؛پارکنگ اگر ہو جائے ،تو وہ غلط نہیں رہتی۔اسی طرح باوجود کوشش کے، اگر صحیح مقام پر پارکنگ کرنے میں کامیابی نہ ہو رہی ہو ،تو پھر چلتی گاڑی پر زمانے کی سیر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ہمارے ہاں شاعری کے کسی بھی مجموعہ پر ”مزاحیہ شاعری“کا اعلان زائد از ضرورت معلوم ہوتا ہے ۔وجہ یہ ہے کہ مدت ہوئی ، ہماری سنجیدہ اور رنجیدہ اردو شاعری مکمل طور پر مزاحیہ ہو چکی ہے جبکہ تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کے بیشتر بزعم خود مزاحیہ شاعر طنزو مزاح سے نوری سالوں کے فاصلے پر رہتے ہوئے اپنے سطحی پھکڑ پن کو بہ اصرار مزاحیہ شاعری قرار دینے میں مصروف ہیں ۔جس طرح راہزنوں کے گروہ ہوتے ہیں ،یا گرہ کٹ غول بنا کر پھرتے ہیں ،اسی طرح آج کل کے بزعم خود مزاحیہ شاعروں نے بھی ناپختہ نفوس پر مشتمل جتھے بنا رکھے ہیں ۔ یہ بس اسی سطح کے تخلیق کار کہے جا سکتے ہیں کہ ہمہ وقت اپنے بیان عظمت کے مفروضے تخلیق کرکے پھیلاتے رہتے ہیں۔اس فضا میں شاعری سہم کر ایک طرف عالم حیرت میں کھڑی نت نئے تماشے دیکھ رہی ہے۔ سخن کے بے ترتیب اور الجھے ہوئے پارکنگ ایریا میں ،جہاں آج کل صحیح پارکنگ کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ، ایک”غلط پارکنگ“نے شگفتہ شاعری کی خوابیدہ اقلیم میں بیداری اور ارتعاش پیدا کر دیا ہے ۔یہ کون سخن شناس ہے کہ لفظ و خیال اسکے حامی معلوم ہو رہے ہیں۔ یہ عزیز فیصل ہیں ، جنہوں نے ڈاکٹریٹ کا مرصع گاو¿ن پہن رکھا ہے،جنہوں نے دائیں ہاتھ میں استاد کا منصب اور بائیں ہاتھ میں شگفتہ شاعری کے تازہ مجموعہ بہ عنوان غلط پارکنگ تھام رکھا ہے۔آج اگر خواجہ الطاف حسین حالی حیات ہوتے تو وہ عزیز فیصل کے شعری مجموعے غلط پارکنگ سے مقدمہ شعر و شاعری کا آغاز یہ کہتے ہوئے کرتے کہ ؛ عصر حاضر میں اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کرام کو اپنی وارفتگی کے میدان منتخب کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے ،لیکن اگر کسی محقق استاد کو شعرو شاعری سے شغف ہو ہی جائے تو اس کا واحد علاج اسکے فن کی بے ساختہ تحسین ہوتی ہے۔یہ وہ علاج ہے جس کا اہتمام مریض کا فن کرتا ہے اور خوب کرتا ہے۔عزیز فیصل شاعر ہیں،جملہ اصناف ادب پر طبع آزمائی کرتے ہیں ، عمدہ نثر نگار اور مقبول جادو گفتار استاد بھی ہیں۔وہ اردو میں مزاحیہ شاعری کی موجودہ سطح اور صورت حال کا گہرا ادراک رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مجموعہ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ؛فی زمانہ مزاحیہ شاعری پر بہت سے جائز و ناجائز اعتراضات سننے کو ملتے ہیں۔ مزاحیہ شعر کےلئے ضروری ہے کہ وہ شعر ہو، شعریت اور دیگر فنی تقاضے بھی اس میں بدرجہ اتم موجود ہوں ۔ اسکے علاوہ مزاح ، طنز، شگفتگی، فکاہ یا چہل شرارت بھی لازما موجود ہوں۔ مضامین کا تنوع، نیا پن اور وارفتگی اظہار کے علاوہ سماجیات کا شعور ، مقصدیت اور عصر موجود سے جڑت مزاحیہ شاعری کو قابل ذکر”شعری صنف بنا دیتے ہیں یہی ادراک اور یہی شعور عزیز فیصل کو ارزاں گوئی سے روکتا ہے ۔ان کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ؛وہ لکھنے کے بعد نہیں ، پہلے سوچتے ہیں ۔اردو نظم کے تاجدار وحید احمد نے غلط پارکنگ کا عمل انگیز کے عنوان سے ایک نہایت عمدہ تعارف رقم کیا ہے۔وحید احمد نظم نگاری کے اسرار و رموز سے بے خودی کی حد تک واقف و آگاہ ہیں ۔وہ شعر کہنے کا سلیقہ، شعر پڑھنے کا طریقہ اور شعر سننے کی جملہ شرائط کے رمز شناس بھی ہیں۔عصر حاضر میں اردو کی مزاحیہ شاعری پر چھایا خزاں کا موسم انہیں بھی اداس کرتا ہے ۔وہ اپنے تعارف عمل انگیز میں لکھتے ہیں کہ؛ سوائے معدودے چند شعرا کی طبع زاد شاعری کے موجودہ ظریفانہ شاعری کا منظر نامہ فنی یکسانیت اور فکری یک رنگی سے عبارت ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ مزاحیہ شاعری میں موضوعات کا تنوع ہوگا مگر سہل انگاری کا یہ عالم ہے کہ طنز و مزاح کے موضوعات کو بہت محدود کر دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بیگم اور پڑوسن پر شاعر کی خاصی نظر ہے۔ اسی طرح ایک بدعت یہ ہے کہ مستند استاد کے کسی مشہور و معروف مصرعے کے اوپر چند سطحی سطریں لکھنے کا رواج عام ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی قدیم قلعے کی چوڑی چکلی بنیاد پر ایک کٹیا اٹھائی جارہی ہو۔ خستہ ورفتہ مزاح اور بازاری فقرے بازی کے درمیان حد فاصل مٹتی جا رہی ہے۔ اس قحط الرجال میں عزیز فیصل کی طویل مزاحیہ نظم عشق انداز شاعری میں خوش آئند تبدیلی ہے“۔امر واقعہ یہ ہے کہ مزاحیہ نظم عشق اندازمیں۔ عزیزفیصل شاعر کی بجائے ایک ایسے تیر انداز کی طرح سے نظر آ رہے ہیں ،جو آراستہ مصرعوں کو فن کی کمان پر کس کر نہایت ہنر مندی سے معنی آفرینی کے ہدف کی نظر کیے چلے جا رہے ہیں۔ میں تو سخن شناس نہیں ہوں ،پر اس طویل مزاحیہ نظم ‘عشق اںدازکو جب وحید احمد جیسا سخنور اور سخن فہم سراہتا ہے ،تو مجھ جیسے عامی کو یوں لگتا ہے جیسے واقعتا کوئی اہم ،نادر اور مختلف سخن آرائی ہوئی ہے ۔غلط پارکنگ کے ڈیڑھ سو کے قریب مزاحیہ قطعات ہمارے شاعر کے رجحان طبع اور موضوعات سخن کی ندرت کو نمایاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ قطعات بازار سخن میں پھیری لگانے والے بزعم خود مزاحیہ شاعروں سے مختلف معلوم ہو رہے ہیں۔ یہ دو بیتی دیکھئے،عنوان ہے ‘استاد شاعر کا شکوہ’ تحصیل شاعری کی معلم نواز خو افسوس، ذرہ بھر بھی مثالی نہیں رہی استاد شاعرات نے روتے ہوئے کہا:
کوئی بھی اب تو سیکھنے والی نہیں رہی
اسی طرح ‘چودھویں محبت’ دیکھیے؛
اس نئی مہ جبیں کو کیا معلوم
عشق کتنی مری ضرورت ہے
سال کے دوسرے سمسٹر میں
یہ مری چودھویں محبت ہے
عزیز فیصل پاکستانی جامعات کی تحقیق نگاری کے بھی محرم راز درون خانہ ہیں ۔مقالہ کے عنوان کا یہ قطعہ دیکھئے؛اس پر بھی ہونی چاہیے تحقیق بالضرور، کالا لکھا گیا کہ حوالہ لکھا گیا
تھی شاعری وہ چوری کی لے کر الف سے ے اک جامعہ میں جس پر مقالہ لکھا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے