پریس کانفرنسوں میں وزراء اور بعض سرکاری علما قومی بیانیے کا کافی ذکرِ خیر کرنے لگے ہیں میں نے سوچا اس قومی بیانئے کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا کیوں نہ مکمل پوسٹ مارٹم کیا جائے۔ پاکستان کو وجود میں آئے سات دہائیاں گزر چکی ہیں آج بھی یہ سوال پوری شدت کے ساتھ کھڑا ہے کہ کیا پاکستان کا کوئی قومی بیانیہ ہے؟
اگر ہے تو کہاں ہے؟ کس کتاب میں درج ہے؟ کس پالیسی میں جھلکتا ہے؟ کس ادارے کی زبان پر ہے؟
سچ یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحران معیشت، سیاست یا سلامتی نہیں بلکہ شناخت، سمت اور مقصد کا بحران ہے۔ ہم ایک ریاست تو ہیں مگر قوم بننے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔قومی بیانیہ محض ایک نعرہ نہیں ہوتا یہ ریاست کی روح ہوتا ہے۔ یہ وہ مشترکہ سوچ ہوتی ہے جو عوام، اداروں، تعلیمی نظام، خارجہ پالیسی اور میڈیا کو ایک ہی سمت میں لے کر چلتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہر طاقتور طبقے نے اپنا الگ بیانیہ گھڑ رکھا ہے۔سیاست اقتدار کو قومی مفاد کہتی ہے ادارے سلامتی کو سب کچھ سمجھتے ہیں میڈیا ریٹنگ اور اشتہارات کو سچ بنا کر پیش کرتا ہے جبکہ عوام روزی روٹی کی جنگ میں قومی سوچ سے بہت دور نکل چکے ہیں۔ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر کیا ہم نے کبھی ایمانداری سے یہ طے کیا کہ اسلامی ریاست سے ہماری مراد کیا ہے؟
اگر اسلام صرف نعروں، تقاریر، بینرز اور نصاب کے چند ابواب تک محدود ہے تو پھر انصاف کہاں ہے؟
مساوات کہاں ہے؟ احتساب کہاں ہے؟
اگر اسلام واقعی ریاستی بیانیہ ہے تو قانون طاقتور کیخلاف کیوں خاموش اور کمزور کیخلاف بے رحم نظر آتا ہے؟
سچ یہ ہے کہ اسلام کو ہم نے نظام نہیں بنایا محض سیاسی ڈھال اور جذباتی ہتھیار بنا لیا ہے۔آئینِ پاکستان ہمارے قومی بیانیے کی بنیاد ہو سکتا تھا مگر آئین کو بھی ہم نے سہولت کے مطابق استعمال کیا ہے اور کر رہے ہیں جب اقتدار میں آئے تو آئین یاد آیا جب اقتدار خطرے میں پڑا تو آئین بوجھ بن گیا نتیجہ یہ ہے کہ آج عام شہری کے ذہن میں آئین ایک مقدس دستاویز نہیں بلکہ طاقتوروں کی مرضی کا کاغذ بن چکا ہے۔ جس قوم کا آئین متنازع ہو جائے وہاں قومی بیانیہ محض ایک فریب رہ جاتا ہے۔تعلیم کسی بھی قوم کے بیانیے کی نرسری ہوتی ہے، مگر پاکستان کا تعلیمی نظام خود کئی حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک نصاب امیر کیلئے دوسرا غریب کیلئے۔ تیسرا مذہبی طبقے کیلئے۔ ایک ہی ملک میں تین مختلف ذہن تیار ہو رہے ہیں جن کا نہ مستقبل مشترک ہے نہ سوچ۔ ہم بچوں کو سبق رٹا تو سکھاتے ہیں مگر سوال کرنا نہیں سکھاتے بولنے کی اجازت نہیں دیتے ہم تاریخ پڑھاتے ہیں مگر سچ نہیں۔ ہم حب الوطنی سکھاتے ہیں مگر شہری ذمہ داری نہیں۔ ایسے میں قومی بیانیہ کیسے جنم لے؟
میڈیا جو جدید دور میں بیانیہ سازی کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے پاکستان میں خود بحران کا شکار ہے۔ یہاں خبر کم اور بیانیہ زیادہ بیچا جاتا ہے۔ ہر چینل کا اپنا پاکستان ہے ہر اینکر کا اپنا اپنا سچ ہے آجکل تو سچ وہی ہے جو سرکاری طور پر ٹھونسا جاتا ہے۔ کسی دن ہم دنیا کی عظیم قوم ہوتے ہیں اگلے دن ناکام ریاست۔ یہ کنفیوژن عوام میں نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ہے۔ جب میڈیا ریاست کی ترجیحات نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کی ترجیحات دکھائے تو قومی بیانیہ نہیں بنتا انتشار پھیلتا ہے۔خارجہ پالیسی بھی قومی بیانیے کا آئینہ ہوتی ہے مگر پاکستان کی خارجہ پالیسی اکثر ردعمل پر مبنی رہی ہے۔ ہم دنیا کو یہ نہیں بتا سکے کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بتاتے رہے کہ ہم کیا نہیں چاہتے۔ کبھی ہم فرنٹ لائن اسٹیٹ بنے کبھی تنہا کھڑے رہے کبھی ایک بلاک تو کبھی دوسرے بلاک کی طرف جھکتے رہے۔ خودداری، تسلسل اور اصول پر مبنی خارجہ بیانیہ کبھی تشکیل ہی نہیں پا سکا۔سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس وسائل ہیں یا نہیں سوال یہ ہے کہ ہم انہیں کس مقصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں؟
کیا ہمارا ہدف ایک طاقتور فوجی ریاست ہے یا ایک خوشحال عوامی ریاست؟ کیا ہم طاقت کو قانون پر فوقیت دیتے ہیں یا قانون کو طاقت پر؟ جب تک ان سوالوں کے واضح جواب نہیں ہوں گے، قومی بیانیہ محض سیمیناروں پریس کانفرنسوں اور کالموں کی زینت رہے گا۔اصل المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں قومی بیانیہ بنانے کی ذمہ داری انہی طبقوں کے پاس رہی جن کا مفاد غیر واضح بیانیے میں ہے۔ کنفیوژن میں اقتدار آسان ہوتا ہے سوال کرنے والی قوم مشکل ہوتی ہے۔ اسی لیے یہاں شعور سے زیادہ جذبات، دلیل سے زیادہ خوف، اور نظام سے زیادہ شخصیات کو فروغ دیا گیا۔اگر پاکستان کو واقعی آگے بڑھنا ہے تو ایک سخت، واضح اور غیر مبہم قومی بیانیہ ناگزیر ہے۔ ایسا بیانیہ جو یہ طے کرے کہ ریاست طاقتور نہیں ہے بلکہ جوابدہ ہوگی ۔ قانون کمزور نہیں بلکہ سب پر برابر لاگو ہوگا۔
اسلام نعرہ نہیں، عدل کا نظام ہوگا۔تعلیم روزگار نہیں، شعور پیدا کرے گی۔جب تک ہم اس سچ کا سامنا نہیں کریں گے کہ قومی بیانیہ کے بغیر کوئی ریاست زیادہ دیر نہیں چل سکتی، ہم ہر بحران کو عارضی کہہ کر ٹالتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن باہر نہیں، اندر ہے وہ کنفیوژن وہ خوف، وہ مفاد جو ایک قوم کو سوچنے نہیں دیتا۔یہ وقت سوال پوچھنے کا ہے، خاموش رہنے کا نہیں کیونکہ جس دن قوم نے اجتماعی طور پر سوال کرنا سیکھ لیا اس دن قومی بیانیہ خود جنم لے لے گا۔
قومی بیانیہ یا پاکستان کی گمشدہ دستاویز؟؟

