کچھ دنوں یا ہفتوں سے طبیعت لکھنے کی طرف مائل نہیں ہو رہی ۔ دل و دنیا میں بہت کچھ چل رہا ہے، دل تو چلیں پرانا اور آزمودہ دوست ہے ،پر دنیا کے رنگ اتنے متغیر ہو سکتے ہیں ،اس کا گمان نہیں تھا۔منظر دھندلے سے لگتے ہیں ۔ نہیں جانتا کہ صحیح طریقے سے دکھائی نہیں دے رہا یا درست سلیقے سے سجھائی نہیں دے رہا۔اسی کیفیت میں چند دلچسپ کتابوں کو کنار نگاہ سے دیکھا، قریب کیا اور پھر تھوڑی بات چیت بھی کی۔یہاں چار کتابوں کے ساتھ کئے مختصر راز و نیاز کو یک جا کر رہا ہوں ۔میر تقی میر یاد آ رہے ہیں ،جنہوں نے بجا طور پر کہہ رکھا ہے کہ؛
لکھے دفتر کتابیں کیں تصنیف
پر نہ طالع کا ہم لکھا سمجھے
پہلی کتاب ۔۔۔اردو ناول: کلامیہ اور استعماری تعمیریت ۔۔۔ڈاکٹر محمد نعیم ورک
اردو ناول کی تاریخ ، تعمیر، ترتیب، ترویج، اور اندرون و بیرون کے راز دار ڈاکٹر محمد نعیم ورک کے دس برسوں کے دوران لکھے اور مختلف تحقیقی جراید میں شائع ہونے والے دس منتخب مقالات کا مجموعہ ‘اردو ناول: کلامیہ اور استعماری تعمیریت” کے عنوان سے شائع ہو کر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ اردو ناول کے ہمراز اور آشنا ڈاکٹر محمد نعیم ورک ‘اردو ناول:کلامیہ اور استعماری تعمیریت ‘ میں شامل مضامین کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ؛ ” ان مضامین سے کھلتا ہے کہ استعماریت سے اثر قبول کرنے اور اس کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے میں مرد اگر پیش پیش ہیں، تو خواتین ناول نگار انگریز پسند ہونے کے باوصف اپنی ثقافتی روایات اور عادات پر شرمندہ نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے جاری رکھنے کے لیے عقلی، جذباتی اور تہذہبی دلائل لاتی ہیں۔ ناول کے ذریعے اردو دنیا نے سماجی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کا کام لیا، ثقافتی تبدیلیوں کے زمانے میں قبل جدید ماضی اور استعماری جدیدیت کے درمیان مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے جذبات کی تہذیب کے دوران ان کے اظہار کا موقع بھی تلاش کیا۔ ناول سماجی دنیا اور آئیڈیالوجی کی ترویج ، ترسیل لا تشکیل کا ایک ذریعہ رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں اردو میں تخلیق اور ترجمے کے ذریعے ناول نے اپنی دھاک بٹھالی ہے۔ ان مضامین سے ناول کے سفر کے بعض اہم پڑاو سامنے آئیں گے اور ناولانہ شعور اور فنکارانہ تفصیلات میں مضمر ثقافتی اقدار، سماجی درجہ بندیاں اور صنفی تعصبات کی جھلک بھی نمایاں ہوتی چلی جائیگی۔”مجھے ایسا لگتا ہے کہ؛ استعمار کے نزدیک ہر وہ عمل اور رجحان ” تعمیر”کی ذیل میں آتا ہے ،جو اس کے تصرفات کو مستحکم اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں معاونت کرے ۔سماجیات کی متنوع جہات میں زبان اور ادبیات کے رجحانات و موضوعات تک استعمار کی نگاہ پردہ سوز کا شکار رہتے ہیں۔ایسے میں اردو ناول کے آغاز و ارتقا اور بہ سرعت تمام مقبولیت کا مطالعہ "استعماری تعمیریت” کے چلن کو سمجھنے کیلئے ایک عمدہ مطالعاتی و تجزیاتی نمونہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ استعمار حاضر و موجود سے بے زار اور لاتعلق کر کے نئے اور اپنے مقاصد سے ہم آہنگ اور معاون ماحول کی تشکیل کی راہیں سجھاتا ہے ۔
دوسری کتاب۔۔۔۔۔قسم ہے کفارے کی ۔۔۔سلیم شہزاد
ایک آزاد شاعر کی حد درجہ آزاد نظموں کے بلند آہنگ مجموعے ‘قسم ہے کفارے کی’ کی اشاعت دوم (2026) اس بات کا ثبوت ہے کہ ؛ سلیم شہزاد کا نظمیاتی طلسم اپنا دائرہ اثر و نفوذ بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ شاعر سلیم شہزاد رواں نثر کی طرح سے تیز تیز چلتی، مچلتی ، محو پرواز ، سراسر آزاد اور بہتی ندی کی مانند پرشور نظمیں تخلیق کرتا ہے۔ سلیم شہزاد غزل کے رسیا کانوں کو نثری نظموں کے گیت سناتا ہے۔ وہ رسمی و رواجی شاعر نہیں ہے ،وہ دل اور درد کی آمیزش سے نظم لکھتا ہے ۔ مجھے عندلیب شادانی کے 4اپریل 1945 کو ڈھاکہ میں "دور حاضر کی غزل گوئی” کے عنوان سے لکھے مضمون کا آخری پیراگراف یاد آ رہا ہے، جس میں حضرت عندلیب شادانی لکھتے ہیں کہ؛ "….جو لوگ فقط موزونی طبع کے بل پر رسمی غزل کہتے ہیں وہ اپنا وقت عزیز بھی رائیگاں کھوتے ہیں اور دوسروں کیلئے بھی دردسر کا باعث ہوتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ شعر گوئی ترک کرکے کوئی دوسرا مفید کام کریں اور کسی کام کی اہلیت نہ رکھتے ہوں تو فوج میں بھرتی ہو کر لڑائی پر چلے جائیں ،خس کم جہاں پاک ۔”سلیم شہزاد چونکہ رسمی شاعری کے قائل نہیں ہیں ، اس لیے انہیں کہیں بھرتی ہو کر کسی دیگر محاذ پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ غزل کی بجائے نثری اور آزاد نظم کی طرف مائل ہیں۔وہ احساس ، جذبات ، خیالات ، تاثرات اور لفظیات کی تخلیق ، ترتیب اور ترویج میں کامل مہارت رکھتے ہیں۔ ‘نظم بولتی ہے’ اس مجموعے کی پہلی نظم ہے؛
نظم بولتی ہے
بوٹوں کی چاپ سے
مرتی چیونٹیوں کی
آہ پرنظم بولتی ہے
سماعت کی استطاعت پہ لٹکے
ہجوموں کے سروں پرتڑتڑاتی گولیوں پہ
نظم بولتی ہے
تیسری کتاب ۔ڈرپوک(حسین شاہد کے پنجابی ناول ڈراکل کا اردو ترجمہ )ڈاکٹر مشتاق عادل
سچی بات تو ہے کہ پنجابی دانش کو اردو زبان نے ایک طرح سے ڈھانپ رکھا ہے۔پاکستان کے پنجابی دانشور سوچتے ، سمجھتے اور محسوس پنجابی میں کرتے، جبکہ لکھتے پڑھتے اردو زبان میں ہیں ۔ایک دوست نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ پنجابی رورل اردو ہے اور اردو اربن پنجابی۔لسانی یک جہتی اور ہمارے ہاں رائج حب الوطنی کے تصورات کے مطابق تو یہ اچھی بات ہے ۔لیکن پنجابی زبان کے حقیقی اور فطری ابلاغ کی شان ہی دوسری ہے ۔ زمین سے لے کر آسمان تک اور زمین سے جڑی ہر شے ، ہر جذبے اور ہر نوع کے ساتھ پنجابی فراست کی قربت ایک الگ ہی مقام رکھتی ہے۔ڈاکٹر مشتاق عادل اردو زبان و ادب کے استاد ہیں ،پنجابی فکشن کے مداح اور پنجابی زبان کی قوت ابلاغ کے معترف ہیں ،اور چاہتے ہیں کہ پنجابی ابلاغ اور معنی آفرینی کو اردو دنیا کے سامنے لایا جائے۔(…جاری ہے)
لکھے دفتر کتابیں کیں تصنیف

