پاکستان اس وقت ماحولیاتی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ فضائی، زمینی اور آبی آلودگی کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے، اور قدرتی وسائل کا زوال ہمارے قومی مستقبل پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ جنگلات کی تیزی سے کٹائی، غیر قانونی شکار، زہریلے صنعتی اخراج، اور پلاسٹک فضلہ کے بے ہنگم پھیلا نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جہاں نہ صرف انسانوں بلکہ حیاتیاتی تنوع کے وجود کو بھی خطرات لاحق ہیں۔گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج، کوئلہ اور کھلی آگوں کے استعمال کی وجہ سے سموگ اور کاربن گیسوں کا اخراج بڑھ رہا ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور جیسے شہروں میں آلودگی خطرناک سطح پر پہنچتی ہے۔اس پیچیدہ صورت حال کے باوجود کچھ مثبت پیش رفتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ماحولیاتی تحفظ کے سلسلے میں چند اہم قوانین اور پالیسیاں متعارف کروائی ہیں۔ نیشنل کلین ایئر پالیسی 2023 اس ضمن میں ایک اہم اقدام ہے، جس کا مقصد ہوا کے معیار کو بہتر بنانا، صنعت، ٹرانسپورٹ، زراعت، رہائشی شعبہ سے آلودگی کیاخراج کو کم کرنا، اور صوبائی سطح پر عملی اقدامات کو تقویت دینا ہے۔ پلاسٹک کے سامان وغیرہ کے استعمال، درآمد، فروخت پر پابندی لگا دی گئی۔اسلام آباد میں PakEPA نے شاپنگ بیگز اور دیگر ممنوعہ آئٹمز کی ضبطی کے متعدد آپریشنز کیے۔وفاقی سرکاری محکموں اور وزارتوں کو غیر degradable plastic استعمال سے پاک کرنے کی ہدایت کی گئی۔ پنجاب حکومت نے AntiSmog پلان متعارف کروایا، آلودگی کی شدت کم کرنے کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ کی جانچ، برِک کلنز کو بہتر ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کرنا شامل، اسی طرح سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کرنے کے لیے Single-Use Plastics Prohibition Regulations 2023 بھی ایک اہم قدم ہے، جس میں درآمد، پیداوار اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی پر جرمانے بھی متعین کیے گئے۔تاہم قوانین کا ہونا کافی نہیں، ان پر موثر عمل درآمد ضروری ہے۔ مقامی سطح پر ماحولیاتی افسران کی کمی، فنڈز کی قلت، اور نگرانی کے موثر نظام کا فقدان بھی ان پالیسیوں کو بے اثر کر رہا ہے۔ عوامی سطح پر شعور کی کمی اور ماحول دوست متبادل مصنوعات کی عدم دستیابی کی وجہ سے قوانین کی خلاف ورزی عام ہے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر ہم بار بار ان ہی مسائل کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں جن سے نکلنے کے لیے قوانین بنائے گئے تھے۔
عالمی ادارے بھی پاکستان کی ماحولیاتی صورت حال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ UNFCCC کی رپورٹ 2024 اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان نے گرین ہاس گیسوں کے اخراجات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی رپورٹنگ میں شفافیت کا مظاہرہ کیا ہے۔اس رپورٹ میں National Adaptation Plan جیسے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان ہر سال تقریبا 2 ملین ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا کرتا ہے، جن میں سے صرف 10 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے۔ باقی فضلہ یا تو زمین میں دفن کیا جاتا ہے یا کھلے نالوں اور دریاں میں بہا دیا جاتا ہے، جو ماحولیاتی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ صرف پلاسٹک بیگز کی سالانہ پیداوار 55 ارب ہے، اور استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ صرف 3 فیصد صنعتی پلاسٹک مواد ری سائیکلڈ ہوتا ہے۔ فضائی آلودگی سے لاہور، کراچی اور پشاور جیسے بڑے شہر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔حقیقی تبدیلی کے لیے کچھ بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، موجودہ قوانین کو مکمل قانونی تحفظ دیا جائے تاکہ صوبائی و مقامی سطح پر عمل درآمد میں کوئی ابہام نہ رہے۔ Extended Producer Responsibility جیسے ماڈلز کو متعارف کرایا جائے تاکہ پلاسٹک صنعت کاروں کو ان کے فضلہ کے انتظام کا پابند بنایا جا سکے۔ متبادل مواد جیسے بایوڈیگریڈیبل بیگز، کپڑا اور جیوٹ کے فروغ کے لیے مراعات دی جائیں۔ صنعتی شعبے میں پوسٹ ٹریٹمنٹ اور فضائی فلٹرز کی تنصیب کو لازمی قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی، صنعتی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی ہو تاکہ خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ، عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا لازمی ہے۔ میڈیا، جامعات اور سول سوسائٹی کو ماحولیاتی تعلیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔ توانائی کے میدان میں شمسی، بائیو اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے، اور کوئلہ پر مبنی توانائی سے مرحلہ وار نجات حاصل کی جائے۔ جنگلات کی بحالی، مقامی درختوں کا تحفظ، اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کو ترجیح دی جائے۔ اس کے لیے کمیونٹی کی شمولیت لازمی ہے تاکہ وہ خود اپنے ماحول کے تحفظ کا ضامن بنے۔پاکستان ماحولیاتی بہتری کے سفر پر اگرچہ روانہ ہو چکا ہے، مگر اصل منزل کے لیے رفتار، عزم اور تسلسل ناگزیر ہے۔ قانون سازی صرف پہلا قدم ہے، اصل چیلنج اس کا بااختیار نفاذ ہے۔ ہم عالمی امداد کے بغیر بھی ایک ماحولیاتی طور پر پائیدار ملک بن سکتے ہیں بشرطیکہ خود انحصاری، شفاف حکمرانی اور عوامی شرکت پر انحصار کیا جائے۔ ایک صاف، محفوظ اور متوازن ماحول ہماری آنے والی نسلوں کا حق ہے، اور اس کے حصول میں ہر فرد کا کردار بنیادی ہے۔ ماحولیاتی بقا اب کوئی انتخاب نہیں، قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے اور اس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔
کالم
ماحولیاتی آلودگی کا چیلنج،حکومتی اقدامات ،مستقل حل
- by web desk
- اکتوبر 7, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 146 Views
- 8 مہینے ago

