پاکستان کو طویل عرصے سے محدود ٹیکس بیس کے مسئلے کا سامنا ہے جو مالی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ مختلف اصلاحاتی اقدامات اور پالیسیوں کے باوجود معیشت کا ایک بڑا حصہ، خصوصاً ریٹیل سیکٹر اب بھی مکمل طور پر ٹیکس نظام کا حصہ نہیں بن سکا۔ ایسے میں وفاقی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ "ٹیکس سہولت اسکیم برائے چھوٹے دکاندار”ایک اہم پیشرفت ہے ، جس کا مقصد چھوٹے تاجروں کو آسان شرائط کے ذریعے ٹیکس نظام میں شامل کرنا ہے۔وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام نے اس اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور رضاکارانہ ٹیکس رجسٹریشن کو فروغ دینے کیلئے تجویز کیاجا رہا ہے۔ یہ اسکیم ایسے ریٹیلرز کیلئے ہے جن کا سالانہ سیلز 20 کروڑ روپے تک ہے، ان کو سالانہ سیلز کا ایک فیصد انکم ٹیکس جس کی کم ازکم حد 25 ہزار روپے ہو گی، ادا کرنا پڑے گا۔اس اسکیم کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی سادگی ہے۔ اہل دکاندار صرف ایک صفحہ پر مشتمل اعلامیہ فارم جمع کرا کے اور اپنے سالانہ کاروبار کا ایک فیصد بطور ٹیکس ادا کر کے اس نظام کا حصہ بن سکیں گے۔ اس طریقہ کار سے چھوٹے کاروباری افراد کو پیچیدہ ٹیکس قوانین اور اضافی کاغذی کارروائی سے نجات ملے گی، جو اکثر رجسٹریشن کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔حکومت نے تاجروں کو اس اسکیم کی جانب راغب کرنے کیلئے متعدد سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ رجسٹرڈ دکانداروں کو پوائنٹ آف سیل سسٹم کی لازمی شرط، معمول کے ٹیکس آڈٹ اور ودہولڈنگ ایجنٹ کی ذمہ داریوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ مزید برآں، یوٹیلٹی بلوں اور دیگر ذرائع سے پہلے ہی کٹوتی شدہ ٹیکس ان کی مجموعی ٹیکس واجبات کے خلاف ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔ ان اقدامات سے نہ صرف کاروباری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ تاجروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔اسکیم کا ایک اور اہم پہلو خصوصی تعمیلی شناختی پلیٹ کا اجرا ہے جس پر کیو آر کوڈ درج ہوگا ۔ اس کے ذریعے متعلقہ ادارے اور صارفین دکاندار کی رجسٹریشن کی تصدیق کر سکیں گے جبکہ رجسٹرڈ تاجروں کو غیر ضروری معائنوں اور ہراسانی سے بھی تحفظ ملے گا۔ ڈیجیٹل تصدیق کا یہ نظام شفافیت اور اعتماد کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔اس اسکیم کی اصل اہمیت پاکستان کے ٹیکس بیس میں اضافے کے امکانات سے وابستہ ہے۔ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اب بھی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے جس کے باعث حکومت کو ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کیلئے مطلوبہ وسائل میسر نہیں آتے۔ اگر ریٹیل سیکٹر کا ایک قابلِ ذکر حصہ بھی ٹیکس نظام میں شامل ہو جاتا ہے تو اس سے قومی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اس تناظر میں ماضی کے تجربات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مختلف حکومتوں نے تاجروں اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے متعدد اقدامات کیے جن میں فکسڈ ٹیکس اسکیمیں، تاجروں کی رجسٹریشن سکیم اور پوائنٹ آف سیل نظام کا نفاذ شامل تھا۔ تاہم ان میں سے اکثر اقدامات مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے کیونکہ تاجروں اور ٹیکس حکام کے درمیان اعتماد کا فقدان اور پیچیدہ طریقہ کار بڑی رکاوٹ بنے رہے۔ موجودہ اسکیم کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایک سادہ، شفاف اور پائیدار نظام فراہم کر پاتی ہے یا نہیں۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تقریبا ہر سال تنخواہ دار طبقہ اور دستاویزی شعبے ٹیکس وصولیوں کا بڑا بوجھ اٹھاتے ہیں جبکہ ریٹیل، ہول سیل اور بعض دیگر غیر دستاویزی شعبوں کی شمولیت نسبتا محدود رہتی ہے۔ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم ٹیکس دہندگان کی تعداد اور معیشت کے حجم کے درمیان اب بھی ایک واضح فرق موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور غیر رسمی معیشت کو دستاویزی شکل دینے پر زور دیتے رہے ہیں ۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ترکی، ملائیشیا اور کئی خلیجی ممالک نے چھوٹے کاروباروں کیلئے آسان ٹیکس نظام، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور کم شرحِ ٹیکس کے ذریعے کاروباری برادری کو رضاکارانہ طور پر ٹیکس نظام کا حصہ بنایا۔ ان ممالک نے سختی کے بجائے سہولت اور اعتماد کو بنیاد بنا کر ریونیو میں نمایاں اضافہ کیا۔ پاکستان کی نئی ٹیکس سہولت اسکیم بھی اسی سوچ کی عکاس ہے۔ اگر اس کے نتیجے میں لاکھوں چھوٹے دکاندار رسمی معیشت کا حصہ بن جاتے ہیں تو نہ صرف قومی محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ بینکاری، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کاروباری فنانسنگ تک ان کی رسائی بھی بہتر ہو سکے گی ۔ تاہم اس اسکیم کی کامیابی کا انحصار مثر عمل درآمد پر ہوگا۔ حکومت اور ایف بی آر کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تاجروں کے ساتھ سہولت کار کا رویہ اختیار کیا جائے اور انہیں مستقبل میں غیر ضروری پیچیدگیوں یا انتظامی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لہٰذا حکومت کو موثر آگاہی مہمات، آسان رجسٹریشن کے طریقہ کار اور بروقت معاونت کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق یہ اسکیم پاکستان کی وسیع تر معاشی اصلاحات اور اقتصادی بحالی کے سفر کا حصہ ہے۔ملک نے حالیہ برسوں میں سیلابی اخراجات اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بڑھتے ہوئے تیل درآمدی بل جیسے چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام کی جانب قابلِ ذکر پیشرفت کی ہے۔ تاہم اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کیلئے اندرونی محصولات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ درحقیقت ٹیکس سہولت اسکیم کو محض ایک ریونیو اقدام کے طور پر نہیں بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل، بہتر طرزِ حکمرانی اور منصفانہ ٹیکس نظام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر اس پر شفافیت، تسلسل اور تمام متعلقہ فریقوں کے تعاون کے ساتھ عمل کیا گیا تو یہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

