Site icon Daily Pakistan

محض سندھ طاس منصوبہ پر انحصار نہ کیا جائے

وطن عزیز کو بے شمار مسائل درپیش ہیں، مثلا ایک طرف لسانی ، سیاسی اور مذہبی دہشت گردی ہماری مشکلات میں اضافہ کررہی ہے تو وہی دیگر بڑے اور پیچیدہ مسائل کی موجودگی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا، ایک بنیادی مسلہ یہ ہے کہ خبیر تا کراچی ملک میں پانی کے زیر زمین زخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں، افسوس قومی سطح پر اس حوالے سے خاطر خواہ تشویش نہیں پائی جاتی ،ماہرین کے مطابق پاکستان میں پانی کی عدم دستیابی کی ایک بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہیاگرچہ حکومت عوام کو یہ سمجھانے کیلئے کوشاں ہے کہ کیسے زیادہ بچے ان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ملکی تعمیر وترقی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں ،پانی کے بحران کی نمایاں وجہ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونا ہے ، مثلا خلاف معمول بارشیں جانی نقصان کے علاوہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ کرنے کا باعث بھی بن رہی ہیں ، اس پس منظر میں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہے کہ پاکستان کو پانی کے بحران سے دوچار کرنے میں ہمارے پڑوسی ملک کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے، گذشتہ سال پہلگام میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد مودی سرکار نے اعلانیہ طور پر سندھ طاس کا معاہدہ یک طرفہ طور پر مسنوخ کرتے ہوئے پاکستان کو ایک بوند پانی نہ دینے کی پالیسی کا اعلان کیا ،تشویشناک بات یہ ہوئی کہ مودی سرکار محض زبانی جمع خرچ تک ہی محدود نہ رہی بلکہ اس نے عملی طور پر پاکستان کا پانی بند کرنیکی پالیسی پر عمل شروع کردیا، ان حالات نے پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے بھرپور سفارتی مہم سے کام لینے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد نے عالمی اداروں کو باور کروایا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی ایک فریق کے دستبرار ہونے سے کسی طور ختم یا تعطل کا شکار نہیں ہوسکتا، پاکستان میں اس حوالے سے قانونی کاروائی کرنیپر بھی پیش رفت دکھائی تاکہ نئی دہلی کے مذموم مقاصد کو پوری طرح سے بے نقاب کیا جائے ، یقینا اسے بین الاقوامی قوانین کی کمزوری سے تعبیر کیاجانا چاہے کہ عالمی برداری نے پاکستانی موقف کو قابل زکر اہمیت نہ دی ، پاکستان خشک سالی کے ساتھ ساتھ گلیئشیر پگھلنے کے تغیرات اور موسمی تبدیلی کا سامنا کررہا ہے جس کے نتیجے میں پانی کے بہاو میں غیرمعمولی صورت حال پیدا ہورہی ، یقینا اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ ماضی کی حکومتوں نے پانی کے زخائر پر خاطر خواہ توجہ نہ دی جس کے سبب درپیش چیلج خاصا گھبیر ہوچکا ، سچ تو یہ ہے کہ گزشتہ چالیس سال میں پاکستان میں نئے آبی زخائر نہیں بنا سکے اگرچہ موجودہ حکومت آبی وسائل کی توسیع کے حوالے سے اقدمات اٹھا رہی مگر سرکار تن تنہا درپیش صورت حال کا مقابلہ نہیں کرسکتی، یقینا یہ خوش آئند ہے کہ حکومت پانی زخیرہ کرنے کے مختلف منصوبوں پرکام کررہی ہے ، ڈیموں کی تعداد بڑھانے کے علاوہ یہ کوشش بھی جاری ہے کہ عوام میں پانی کے ضیاع کے حوالے سے شعور بیدار کیا جائے ۔ اس سچائی سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں ختم ہوتے پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے کی بنیادی زمہ داری ماضی کی حکومتوں کی تھی ، بھارت کو حالات کا زمہ دار قرار دینے کی بجائے سوچنا ہوگا کہ ہم بھارت سے پاکستان دوستی کی امید ہی کیوں رکھتے رہے۔ بلاشبہ پاکستان اور بھارت میں پائی جانیوالی کشیدگی کے پس منظر میں نئی دہلی یہ گمان رکھنا کہ وہ اسلام آباد کے حق میں کسی قسم کی پیش رفت دکھائے گا فریب کے سوا کچھ نہیں، آج پاکستان کو اپنی آبی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدمات اٹھانے ہونگے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان میں پانی کا زخیرہ محض ایک مہینے کا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک کئی ماہ کا آبی کا زخیرہ رکھتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو تربیلا ڈیم کی توسیع کی فوری ضرورت ہے جبکہ منگلا ڈیم کی اپ گریڈیشن لازم ہے ، دیامیربھاشا ڈیم کی جلد تعمیر کیلئے بھی حکومت کو فوری اقدمات اٹھانے ہونگے ۔ مزید یہ کہ مہمند ڈیم جلد بنا کر کئی چھوٹے اور بڑے ڈیمز بنا کر بارش کے پانی کا ضیاع روکا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کا 90 فیصد پانی زراعت کیلئے استعمال کیاجاتا ہے مگر جس طریقہ کار پر عمل ہوتا ہے وہ کسی طور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ زرعی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو زیادہ پانی لینے والی فصلیں مثلا چاول اور گنا کی بجائے کم پانی لینے والی فصلوں کو کاشت کرنا ہوگا۔ادھر شہری علاقوں میں پانی کے ناقص نظام کی وجہ سے اس نعمت کا ضائع بھی ہے ، یوں ایک طرف پانی کی پائپ لائنوں کی مرمت کرنا ہوگی تو دوسری جانب واٹر میٹر کے نظام کا نفاذ یقینی بنانا ہوگا، حکومت کو پانی چوری کی روک تھام کرنے کے علاوہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے محفوظ کرنے منصوبے۔ پاکستان کو شجر کاری کو موثر طور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ نقطہ بھی کسی طور پر فراموش نہیں کرنا چاہے کہ پانی بحران سے نمٹنا محض حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ خبیر تا کراچی ہر عام وخاص پاکستانی کو اگے بڑھ کر بہتری کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا نہیں بھولنا چاہے کہ پانی حقیقی معنوں میں زندگی ہے جب پانی کی عدم دسیتابی موت سے کم نہیں۔

Exit mobile version