Site icon Daily Pakistan

محنت اور اختیار کا معکوس سفر!

انسانی معاشرے کی تشکیل ایک سادہ اصول پر ہوئی تھی: جو محنت کرے گا وہ زندگی کی بنیاد رکھے گا، اور جو نظم، تحفظ اور انصاف کی ذمہ داری سنبھالے گا وہ اس محنت کا نگہبان ہوگا۔ یہ توازن فطری بھی تھا اور ضروری بھی، مگر وقت کے ساتھ یہ بگڑتا چلا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محنت پیچھے رہ گئی اور اختیار آگے بڑھ گیا، اور معاشرتی ارتقا ایک ایسے موڑ پر آ پہنچا جہاں پیدا کرنے والا کمزور اور حکم چلانے والا طاقتور ہو گیا۔ ابتدائی معاشروں میں پیداوار کا عمل واضح اور محدود تھا۔ زراعت، گلہ بانی اور دستکاری انسانی بقا کا ذریعہ تھیں۔ جیسے جیسے اجتماعی زندگی پیچیدہ ہوتی گئی، تحفظ، انتظام اور انصاف کیلئے مخصوص کردار سامنے آئے۔ یہ کردار بالادستی کے نہیں بلکہ ذمہ داری کے تھے۔ ان افراد کی روزی روٹی اس لیے طے کی گئی کہ وہ سماج کی خدمت انجام دے سکیں، نہ کہ اس پر فوقیت حاصل کریں۔ مگر تاریخ کے مختلف ادوار میں خدمت اور اقتدار کے درمیان فرق دھندلا ہوتا چلا گیا۔رفتہ رفتہ اختیار نے خود کو محنت سے بالا تر سمجھنا شروع کر دیا۔ کسان، مزدور اور دیگر محنت کش طبقات فیصلہ سازی کے دائرے سے باہر ہوتے گئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کسان اناج پیدا کرتا ہے مگر غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، مزدور صنعت کو رواں رکھتا ہے مگر بنیادی سہولتوں سے محروم رہتا ہے، اور مویشی پالنے والا سماج کیلئے ناگزیر ہونے کے باوجود سماجی سطح پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔برصغیر میں اس عدم توازن کو برطانوی نوآبادیاتی دور نے باضابطہ شکل دی۔ اس نظام کا مقصد پیداوار کا زیادہ سے زیادہ حصول اور اختیار کا مکمل ارتکاز تھا۔ محنت کش طبقات کو معاشی طور پر کمزور اور سماجی طور پر کمتر بنا کر پیش کیا گیا۔ پیشے عزت کا پیمانہ بنے اور محنت کو کمتر درجہ دیا گیا۔ افسوس کہ آزادی کے بعد بھی یہ سوچ پوری طرح ختم نہ ہو سکی۔قیامِ پاکستان کے بعد توقع تھی کہ ریاست عوامی فلاح اور سماجی انصاف کو اپنی بنیاد بنائے گی، مگر عملی طور پر نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ ادارے عوام کے خادم کہلائے، مگر وقت کے ساتھ ان کا مزاج بالا دست ہوتا گیا۔ عوام کو نظام کا مرکز کہا گیا، مگر فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت محدود رہی، جس سے ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا گیا۔عصرِ حاضر میں سرمایہ دارانہ نظام نے اس معکوس سفر کو مزید تقویت دی ہے۔ پیداوار کسان اور مزدور کرتے ہیں، مگر منافع کا بڑا حصہ سرمایہ دار اور کارپوریٹ ادارے سمیٹ لیتے ہیں۔ ریاست اکثر ثالث کے بجائے سرمایہ کے تحفظ کا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ زرعی شعبے میں بیج، کھاد اور زرعی ادویات بڑی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ قیمتیں عالمی منڈی سے جڑی ہیں، جبکہ کسان کی آمدن مقامی حالات اور غیر یقینی منڈی کے رحم و کرم پر ہے، جس کے نتیجے میں وہ قرض اور عدم تحفظ کے دائرے میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ مزدور کی حالت بھی اسی عدم توازن کی عکاس ہے۔ صنعتی ترقی کے دعوؤں کے باوجود اجرتیں بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ کنٹریکٹ سسٹم نے روزگار کے تحفظ کو کمزور کر دیا ہے اور اجتماعی آواز محدود ہو گئی ہے۔ یوں محنت کی اہمیت تسلیم تو کی جاتی ہے، مگر محنت کرنے والے کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔زرعی معیشت میں جاگیرداری اور سرمایہ دارانہ اجارہ داری آج بھی نمایاں ہے۔ زمین چند ہاتھوں میں مرکوز ہے، جبکہ اکثریت محدود اختیارات کے ساتھ اسی زمین پر کام کر رہی ہے۔ چینی ملوں کا نظام اس حقیقت کی واضح مثال ہے جہاں گنا کسان اگاتا ہے مگر قیمت اور ادائیگی کا اختیار کسی اور کے پاس ہوتا ہے۔ تاخیر معمول بن چکی ہے، جبکہ مراعات طاقتور طبقے کو بروقت میسر آتی ہیں۔آڑھتی نظام نے کسان کو مزید بے اختیار بنا دیا ہے۔ فصل اس کی ہوتی ہے مگر منڈی میں اس کی قیمت طے کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں۔ آلو اور ٹماٹر جیسی فصلیں کبھی ضائع ہو جاتی ہیں اور کبھی قلت کا شکار، مگر نقصان اور فائدے کی تقسیم متوازن نہیں ہوتی۔ صارف مہنگائی کا شکوہ کرتا ہے اور کسان خسارے کا سامنا کرتا ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کے بے جا استعمال نے زمین کی زرخیزی اور انسانی صحت دونوں کو متاثر کیا ہے۔ لاگت میں اضافہ اور ماحولیاتی مسائل کسان اور معاشرے کے حصے میں آتے ہیںجبکہ منافع چند کمپنیوں تک محدود رہتا ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ کے بڑھتے رجحان نے چھوٹے کسان کے وجود کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔چائے جیسی فصل، جس کی مقامی کاشت ممکن ہے ، پالیسی کی عدم توجہی اور درآمدی مفادات کے باعث ترقی نہیں کر پا رہی۔ یہ محض زرعی نہیں بلکہ معاشی خود مختاری کا سوال ہے، اور اس نظر اندازی کے اثرات طویل المدت ہوتے ہیں۔ان معاشی حقائق کے ساتھ سیاسی نظام بھی جڑا ہوا ہے۔ جمہوریت عوام کی شمولیت پر مبنی تصور ہے، مگر عملی طور پر انتخابی عمل وسائل کا محتاج بنتا جا رہا ہے۔ عوام ووٹ ڈالنے میں شریک ہوتے ہیں، مگر نتائج کے تعین میں ان کا کردار محدود محسوس ہوتا ہے، جس سے سیاسی عمل پر اعتماد متاثر ہو رہا ہے ۔یہ تمام عوامل ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا ریاستی اختیار واقعی عوامی خدمت کیلئے ہے یا محض طاقت کے استحکام کیلئے؟ جب محنت کرنے والا خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اور اختیار رکھنے والا جواب دہی سے بالا تر نظر آئے تو یہ سماجی معاہدے کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ محنت اور اختیار کے درمیان یہ معکوس رشتہ کبھی مستقل نہیں رہتا۔ جب محنت کرنے والا سوال اٹھانا شروع کر دے اور اختیار رکھنے والا جواب دینے پر مجبور ہو جائے تو نظام بدلنے لگتا ہے(ویسے آج کل سوال پوچھنے والا اٹھا دیا جاتا ہے)۔ ریاست اگر واقعی قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے یاد رکھنا ہوگا کہ اختیار وراثت نہیں، امانت ہے، اور محنت کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیاد ہے۔ بصورتِ دیگر وہ دن بھی آ سکتا ہے جب فیصلے عدالتوں، ایوانوں یا دفتروں میں نہیں بلکہ کھیتوں، فیکٹریوں اور سڑکوں پر ہونگے اور تاریخ جو ہمیشہ خاموش اکثریت کی گواہ رہی ہے۔

Exit mobile version