ایران کے خلاف امریکی اقدامات سے مسلم امہ کو اتحاد کا سنہری موقع مل گیا، مسلم ممالک عسکری اتحاد قائم کریں جس کا مقصد باطل قوتوں کا خاتمہ اور اسلام کا غلبہ ہو۔ ابلیسی اتحادِ ثلاثہ یعنی اسرائیل، امریکہ اور بھارت فلسطین اور عالمِ عرب سے آگے بڑھ کر اب عالمِ عجم پر مختلف طریقوں سے حملہ آور ہے۔ حال ہی میں ایران کو خانہ جنگی میں ملوث کرنے اور ایرانی کرنسی کو بے وقعت کرنے کی سازش کی گئی، جس کا نہ صرف ایرانی قوم مل کر مقابلہ کر رہی ہے بلکہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے بھی ایران کی بھرپور مدد کی۔ مغربی میڈیا کی دوغلی پالیسی کا یہ حال ہے کہ ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرین کی تو بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کی جا رہی ہے۔جبکہ ایرانی حکومت کے حق میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ اْنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس بیان کی شدید مذمت کی کہ ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرین جمے رہیں،امریکہ اْن کی بھرپور مدد کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف ممالک میں رجیم چینج کرنا امریکہ کی پالیسی کا اہم ستون ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جس دوران ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق 201 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 747 سے زائد زخمی ہیں جبکہ حملوں میں ایران کے کئی سینئر فوجی افسران اور رہنماؤں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا جارہاہے لیکن ایران کی جانب سے ایسی خبروں کی تردید کی گئی ہے۔ اسرائیل نے ایران کیخلاف اپنی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی حملہ کرنے کا دعویٰ کر دیاہے اور کہا کہ آپریشن میں 200 طیاروں نے حصہ لیا جس دوران 500 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے صدارتی آفس، آرمی چیف ، وزراء ، دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیاہے، اس کے علاوہ پارچین ملٹری کمپلیکس اور وزارت انٹیلی جنس کو بھی نشانہ بنایا گیا، تہران پر فضا اور سمندر سے میزائل داغے گئے۔ایران کے سپریم لیڈر خامنہ کی کی رہائشگاہ کے قریب 7 میزائل گرے، ایرانی صدر اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای محفوظ رہے ، پینٹاگون نے ایران کیخلاف آپریشن کو ‘ ایپک فیوری’ کا نام دیاہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اب تک اسرائیل کی جانب میزائلوں کی تین لہریں فائر کی جاچکی ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر تل ابیب سمیت اسرائیل کے کئی شہروں میں میزائل گرنے کی ویڈیوز شیئر کی جارہی ہیں تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کے میزائلوں کو ہوا میں ہی ناکارہ بنا رہاہے۔ ایران کی جانب سے قطر ، بحرین، ابو ظہبی ، کویت اور سعودی عرب میں موجود امریکی فضائی اڈوں پر میزائل داغے گئے ہیں، ایران کے میزائل حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں فضائی آپریشن بند کر دیا گیاہے ، متحد ہ عرب امارت میں میزائل کا ملبہ لگنے سے ایک پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اسرائیل کے ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر کیئے گئے حملے میں 85 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر شدید بمباری کی گئی جس دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 85 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں زیادہ تر طالبات شامل ہیں۔ حملے کے وقت سکول میں 170 سے زائد بچیاں موجود تھیں۔ ایران کے صوبے فارس میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 15 شہری شہید ہو گئے ہیں ، اسرائیلی حملے کے وقت جمنزیم کے پارک میں بچے کھیل رہے اور شہری ورزش میں مصروف تھے۔ اسرائیل نے ایران کے شہر ابیک میں بھی اسکول پر اسرائیلی حملہ کر دیاہے، امام رضا اسکول میں متعدد طلبہ جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں،زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ اسرائیلی حکام کاکہنا ہے کہ ایران پراسرائیلی حملے کوامریکی معاونت حاصل ہے،حملے کا منصوبہ کئی ماہ پہلے بنایا گیا تھا،ایران پر حملے کی تاریخ ہفتوں پہلے طے کی گئی تھی،ایران کے خلاف کارروائی کئی دنوں پر محیط ہوسکتی ہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہماری فوج اس دن کے لیے تیار تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران کے خلاف جنگ ناجائز اور غیر قانونی ہے۔ہماری فوج جارح کو وہ سبق سکھائے گی جس کا وہ حقدار ہے۔ امریکہ نے امریکہ فرسٹ کو اسرائیل فرسٹ میں تبدیل کر دیا ہے جس کا مطلب ہے امریکہ آخری۔ جو بھی اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ملوث ہے وہ ایرانی فوج کا جائز ہدف ہے اور جہاں کہیں بھی ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے ہو رہے ہیں وہ ہمارے جائز اہداف ہیں۔ایران کے اقوامِ متحدہ میں مندوب امیر سعید ایراوانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ‘بلا اشتعال اور پہلے سے منصوبہ بندی کی تحت ہونے والی جارحیت’ کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک سکول پر دھماکے کے دوران 100 سے زائد بچے ہلاک ہوئے۔ یہ سکول ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک اڈے کے قریب واقع ہے جو حالیہ حملوں کا نشانہ رہا ہے۔ ‘ہلاک اور زخمی ہونے والے معصوم شہریوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ صرف جارحیت نہیں بلکہ جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔’
مسلم امہ کو ایران کا ساتھ دینا چاہیے

