بھارتی ریاست منی پور ایک بار پھر کشیدگی اور بدامنی کی لپیٹ میں آ گئی ہے جہاں متعدد مکانات آگ لگنے کے واقعات میں تباہ ہو گئے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بے گناہ عوام کو نشانہ بنا کر اور گھروں کو نذر آتش کر کے مودی حکومت انتقامی سیاست پر اتر آئی ہے۔ علیحدگی پسند گروہوں کے سامنے بے بس بھارتی فورسز اب نہتے شہریوں پر طاقت آزمانے لگی ہیں۔بھارتی جریدے ”انڈیا ٹوڈے” کے مطابق ضلع کانگپوکپی کے گاؤں کھارام وائپھیئی میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں پانچ مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ کوکی تنظیموں نے واقعے کی غیرجانبدار تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے تعین کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق سامنے لائے جائیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ یہ واقعہ چرچ رہنماؤں کے قتل میں انصاف اور 14 یرغمال افراد کی رہائی کے مطالبے کے لیے جاری کوکی زو تنظیموں کی احتجاجی ریلیوں کے دوران پیش آیا۔دوسری جانب منی پور کے ایک مزاحمتی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی عسکری فورس آسام رائفلز نے علاقے اْکھرول میں بے گناہ افراد پر فائرنگ کی اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔عالمی ماہرین کے مطابق منی پور میں اندرونی خلفشار کے باعث بدامنی عروج پر پہنچ چکی ہے اور امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ آزادی کی تحریکوں کے زور پکڑتے ہی بھارتی ریاست نے نہتے عوام کے خلاف سخت اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہٹ دھرمی اور طاقت کے بے جا استعمال نے منی پور میں جاری بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔مسلح افواج نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں کیے جا رہے اس دعوے کو غلط بتایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منی پور میں ”کوکی گوریلا” نے فوج کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں کئی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ مسلح افواج نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے اور اس ویڈیو کا مقصد نسلی تناؤ کو بھڑکانا ہے۔وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ”صبح سویرے کوکی گوریلا نے منی پور میں ہندوستانی فوج کی ایک پوسٹ پر حملہ کیا، جس میں کئی ہندوستانی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔” مسلح افواج نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمال مشرقی ریاست میں ہندوستانی فوج کے کسی ٹھکانے پر ایسے کسی حملے یا فوجیوں کے بڑے پیمانے پر ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ مسلح افواج نے کہا ہے کہ پاکستان میں قائم کچھ ‘پروپیگنڈا اکاؤنٹس’ عوام کو گمراہ کرنے اور ہندوستانی مسلح افواج کے امیج کو خراب کرنے کے لیے من گھڑت باتیں پھیلا رہے ہیں۔ہندوتوا بی جے پی حکومت مجرموں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ککی رہنماں کو جھوٹے مقدمات میں جیل میں قید کیاجارہاہے جبکہ منی پور پولیس بھی میتی برادری کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق یہ محض "جھڑپیں” نہیں، بلکہ ریاستی سرپرستی میں نسلی کشی کے واقعات ہیں۔کونسل نے اقوام متحدہ سے منی پور میں میتی برداری کے قتل عام کی فوری تحقیقات کامطالبہ کیا ہے۔بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور کے علیحدگی پسند رہنماؤں نے یکطرفہ طور پر منی پور کی بھارت سے آزادی اور برطانیہ میں اپنی جلاوطن حکومت کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔واضح رہے کہ برطانوی راج اور اس سے پہلے منی پور ایک ‘شاہی ریاست’ تھی۔ 1949 میں ریاست منی پور انڈیا کا حصہ بنی تھی لیکن یہاں کے رہائشی دہائیوں سے علیحدگی پسند تحریک چلارہے ہیں۔ منی پور ریاستی کونسل کے خود ساختہ وزیر اعلی یامبین بیرن نے کہا کہ ‘ہم منی پور مہاراجہ کی جانب سے مخاطب ہیں اور انھوں نے باضابطہ ‘منی پور سٹیٹ کونسل’ کی جلاوطن حکومت کا اعلان کیا ہے۔’منی پور بھارت کی ریاست ہے جو شمال مشرقی بھارت میں واقع ہے اور اس کا صدر مقام امپھال ہے۔ اس کی سرحدیں مغرب میں آسام، جنوب میں میزورام اور شمال میں ناگالینڈ سے ملتی ہیں، جبکہ مشرق اور جنوب مشرق میں میانمار (خصوصاً ساگاینگ علاقہ اور چن ریاست) کے ساتھ بین الاقوامی سرحد ہے۔ 8,621 مربع میل پر محیط، یہ ریاست زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے، جب کہ 700 مربع میل پر پھیلا ہوا وادی امپھال علاقہ میئتی (منی پوری) قوم کا گہوارہ رہا ہے جو تاریخی طور پر ایک ریاستی سلطنت تھی۔ گرد و نواح کے پہاڑی علاقے ناگا اور کوکیـزو برادریوں پر مشتمل ہیں، جو تبتیـبرمی زبانیں بولتی ہیں۔ ریاست کی سرکاری زبان اور رابطہ زبان منی پوری زبان ہے، جو تبتیـبرمی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔برطانوی راج کے دوران، منی پور نوابی ریاستوں میں شامل تھی۔ برطانیہ سے آزادی سے قبل 1947ء میں منی پور نے بھارتی ڈومینین میں شمولیت اختیار کی، جیسا کہ دیگر 550 ریاستوں نے کیا۔ ستمبر 1949ء میں منی پور کے راجا نے بھارت کے ساتھ انضمام کا معاہدہ کیا، جس کے تحت انھوں نے اپنی ریاست کے اختیارات بھارت کو سونپ دیے اور بدلے میں ایک خفیہ وظیفہ (پرائوی پرس) حاصل کیا۔ کئی میئتی افراد کا ماننا ہے کہ ان کے حق خود ارادیت کو نظر انداز کیا گیا کیونکہ اس وقت منتخب مقننہ سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد انضمام پر اختلافات نے ریاست میں آزادی کی تحریک کو جنم دیا، جس نے 50 سالہ بغاوت کو جنم دیا۔ 2009ء سے 2018ء کے درمیان، اس تنازع میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔منی پور کی آبادی کا تقریباً 53 فیصد میئتی افراد پر مشتمل ہے، جبکہ 20 فیصد ناگا قبائل اور 16 فیصد کوکیـزو قبائل پر مشتمل ہیں۔ منی پور کے نسلی گروہ مختلف مذاہب پر عمل کرتے ہیں۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق، ریاست میں ہندومت اور عیسائیت دو بڑے مذاہب ہیں۔منی پور کی معیشت زیادہ تر زراعت پر مبنی ہے، لیکن یہاں آبی بجلی پیدا کرنے کی بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ ریاست کو دیگر علاقوں سے روزانہ پروازوں کے ذریعے امفال ہوائی اڈا کے ذریعے جوڑا گیا ہے۔منی پور کھیلوں کا گہوارہ ہے اور منی پوری رقص کی جائے پیدائش ہے، نیز یہ پولو کھیل کو یورپیوں سے متعارف کروانے کا سہرا بھی اسی کو جاتا ہے۔

