Site icon Daily Pakistan

مودی کا مسلمانوں کو جبر کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری

بھارت میں ریاستی سرپرستی میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سنگین انسانی جرائم جاری ہیں۔بی جے پی کی انتہا پسند حکومت ہندوتوا نظریہ کے تحت منظم انداز میں شدت پسندی اور نفرت پھیلا رہی ہے۔ بھارت میں مذہب کے نام پر غریب مسلمانوں پر کھلے عام تشدد کیا جاتا ہے، جبکہ قانون خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ بی جے پی کے کئی رہنما مسلمانوں کو غدار قرار دیتے ہیں اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔مودی حکومت اپنی کرپشن اور بدعنوانی سے توجہ ہٹانے کیلئے ہندوتوا کے تحفظ کا پرچارکرتی ہے، اور اس دوران لاکھوں کروڑ روپے کی لوٹ مار بھی کی جاتی ہے۔ انتہا پسند پالیسیز بھارت میں مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہونیوالی 27 ہلاکتوں میں سے 9 واقعات منظم گاؤ رکھشا گروہوں کے افراد کے تشدد سے متعلق تھے یا ہجوم کی جانب سے مویشی چوری کے الزامات کے بعد پیش آئے ۔ کم از کم پانچ متاثرین کو اس وقت قتل کیا گیا جب حملہ آوروں نے انہیں بنگلہ دیشی شہری یا غیر قانونی تارکین وطن قرار دیا۔مبصرین کی بارہا وارننگ کے مطابق یہ ایک خطرناک نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔ کئی اہم ریاستوں میں انتخابات کے قریب آنے، بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور کمزور ہوتی بین الاقوامی ساکھ کے پس منظر میں مزید پولرائزیشن کے محرکات، اور اقلیتوں کیلئے خطرات، بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔”انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق سال 2025 میں بھارت بھر میں مبینہ ماورائے عدالت واقعات میں کم از کم 50 مسلمان مارے گئے۔ ان میں 23 ہلاکتیں ریاستی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات میں ہوئیں۔اب جبکہ بھارت 2026 میں داخل ہوگیا ہے، مذہبی اقلیتوں پر ظلم و جبر اپنی معمول بن جانے والی حیثیت اور اپنی وسعت اور سفاکی دونوں اعتبار سے چونکا دیتاہے۔بھارت میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت کے واقعات کی یہ رپورٹ ایڈوکیسی گروپ ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین (ایس اے جے سی) نے جاری کی ہے۔ ایس اے جے سی نے یہ نتائج ‘انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر’ سے لیے ہیں، جو پولیس، مسلح افواج اور غیر ریاستی عناصر سے متعلق واقعات کو دستاویزی شکل دیتا ہے۔ گروپ نے کہا کہ سال بھر میں ریاستی اداروں سے متعلق واقعات میں ہلاک ہونیوالوں میں دو بچے بھی شامل تھے۔ دو ایسے واقعات بھی درج کیے جن میں مسلمانوں نے مبینہ طور پر ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے ہراسانی یا تشدد کے بعد خودکشی کر لی۔ اس کے علاوہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی من مانی گرفتاریوں، جبری بے دخلی اور جبری واپسی کے واقعات بھی درج کئے گئے۔بھارتی سکیورٹی فورسز ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تردید کرتی ہیںبھارتی سکیورٹی فورسز ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تردید کرتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں زیادہ تر ہلاکتیں جموں و کشمیر میں ریکارڈ کی گئیں، جہاںکم از کم آٹھ مسلمان شہری سکیورٹی کارروائیوں کے دوران مارے گئے۔ ان میں سے کئی واقعات میں حراستی تشدد، جبری گمشدگی اور جعلی مقابلے شامل تھے لیکن بھارتی سکیورٹی ادارے ان کی تردید کرتے ہیں۔اتر پردیش میں کم از کم چھ مسلمان مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات میں مارے گئے، جنہیں پولیس نے ”انکاؤنٹر شوٹنگز” قرار دیا۔ جبکہ اسی نوعیت کے دیگر واقعات میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ چار دیگر ریاستوں میں پولیس حراست کے دوران یا حراست کے فوراً بعد پانچ مزید اموات رپورٹ کی گئیں، جن میں اہلِ خانہ نے تشدد اور طبی سہولت سے محروم رکھنے کا الزام عائد کیا۔ مارچ میں راجستھان میں ایک پولیس چھاپے کے دوران ڈیڑھ ماہ کی مسلم شیر خوار بچی اپنے گھر میں کچلے جانے سے جاں بحق ہو گئی۔ نومبر میں دہلی میں شادی کے جلوس کے دوران 14 سالہ مسلم لڑکا، ساحل انصاری، ایک آف ڈیوٹی سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس کانسٹیبل کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ کم از کم 26 واقعات میں مسلمانوں کیخلاف منظم طور پر نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر تشدد کی اطلاعات درج کی گئی ہیںرپورٹ کے مطابق کم از کم 26 واقعات میں مسلمانوں کیخلاف منظم طور پر نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر تشدد کی اطلاعات درج کی گئی ہیں کم از کم 26 واقعات میں مسلمانوں کیخلاف منظم طور پر نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر تشدد کی اطلاعات درج کی گئی ہیں ۔ دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بھارت کے خصوصاً چھتیس گڑھ صوبے میں، قبائلی، حالیہ دنوں میں سب سے مہلک انسداد بغاوت کارروائیوں کا اصل نشانہ بنے، جہاں سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا کہ سال بھر میں 275 سے زائد ماؤ باغیوں کو ہلاک کیا گیا۔ جن میں سے بہت سے مبینہ طور پر قبائلی عام شہری تھے۔ کم از کم 26 واقعات میں مسلمانوں کیخلاف منظم طور پر نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر تشدد کی اطلاعات درج کی گئی ہیں، جو 13 ریاستوں میں پیش آئے۔ اس کے ساتھ سینکڑوں انفرادی حملے اور غیر مہلک مگر مذہبی بنیاد پر نفرت پر مبنی جرائم بھی ریکارڈ کیے گئے ۔ سال 2024 میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں مسلمانوں کی 21 ماورائے عدالت ہلاکتیں دستاویزی شکل میں سامنے آئیں۔ 2023 میں ایسے 20 واقعات درج کیے گئے۔

Exit mobile version