کالم

مودی کے مذموم عزائم

ہندوستان پر مسلمانوں نے محمد بن قاسم ثقفی سے لیکر بہادر شاہ ظفر تک ہزار سال سے زیادہ حکمرانی کی۔ قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود اپنے اخلاق اور مذہبی روداری کی وجہ سے کثیر تعداد پر انصاف سے حکومت کی۔ اس دور میںہندوئوں کو مکمل مذہبی آزادی تھی۔ اسی وجہ سے ہندوئوں کی کثیر تعداد نے اسلام قبول کیا۔مسلمانوں کی حکمرانی کے اب بھی کئی اثرات بھارت میںموجود ہیں۔ کانگریس کے تعصب کی وجہ سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر علیحدہ وطن پاکستان حاصل کیا تھا۔ ہٹلر صفت متعصب نریندرامودی ، پہلے صوبہ گجرات کا وزیر اعلیٰ اور اب بھارت کا وزیراعظم ہے۔مودی ایک دہشت گرد ہندو تنظیم بھارتیہ راشرٹیہ سیوک سویم سنگھ(آر ایس ایس) کا بنیادی رکن ہے۔ آر ایس ایس پر ہندوستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے دو دفعہ پابندی لگ چکی ہے۔ آر ایس ایس کا منشور ہے کہ بھارت میںرہنے والا ہر شخص ہندو ہوگا۔ مسلمانوں کو یا تو ہندو بننا پڑے گا یا یہ بھارت چھوڑ کر پاکستان جانا پڑے گا۔ متعصب مودی آرایس ایس کا بنیادی رکن کی وجہ سے آر ایس ایس کے منشور پر عمل کرتے ہوئے بھارت کو ایک کٹڑ انتہا پسند ہندو سٹیٹ بنا دیا ہے۔ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر مودی حکومت کا پریشر ہے کہ وہ ہندو جائیں یا بھارت چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں۔ مودی نے بھارت کی پارلیمنٹ کی دیوار پر اکھنڈ بھارت کا نقشہ کندہ کر دیا ہے۔ اکھنڈ بھارت میںموجودہ پاکستان ،بنگلہ دیش، بھارت، افغانستان، برما، نیپال، بھوٹان،سری لنکا ممالک بزور قوت شامل کرنے ہیں۔اسی لیے مودی بار بار اپنے ملک میں جعلی دہشت گردی کے واقعات کرا کے پاکستان کو سبق سکھانے کے بہانے حملے کرتا رہتا ہے۔ بھارت کے مسلمانوں میں دہشت پھیلا کر اُنہیں ہندو بننے پر مجبور کرتا رہتا ہے۔٢٥ کروڑ مسلمان بھارت میں خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارت کے مسلمان شعراء کا کلام ہم سنتے ہیں تو ان کی شاعری میں خوف کی وجہ سے معذرتانہ سوچ غالب نظر آتی ہے۔مثلا بھارت کے مشہور شاعر، منظر بھوپالی کی نظم اس کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ ہندوئوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:۔
تم بھی پیو ہم بھی پیئیں رب کی مہربانی
پیار کے کٹورے میں گنگا کا پانی
مودی نے اپنی بی جے پی حکومت کے دہشت گردانہ ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ بھارت پچیس کرور مسلمان خوف کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حکمران جماعت بی جے پی کی مرکزی رہنما نورپور شرما نے ہمارے پیغمبر ۖ کے بارے متنازہ بیان پر بھارت اور ساری دنیا کے مسلمان رنجیدہ کیا ۔ حکومتی نوکریاں نہ ملنے پر بھارت کے لوگ تجارت کرتے ہیں۔ چھاپڑی ، رہڑی ، دوکان اور کاوبار بڑھنے پر کارخانہ قائم کرتے ہیں، توآرایس ایس کے غنڈے بلوے کرا کر مسلمانوں کے کاروبار خاکستر کر دیتے ہیں۔ تاکہ بھارت کے مسلمان ترقی نہ کر سکیں ۔ پورے بھارت میںمندر مسجد کا قصہ چلاکرایودھیا کی تاریخی ”بابری مسجد” کو ہندو غنڈوں نے شہید کیا۔ عدالت میں کیس گیا ،مگر متعصب ججز نے بھی گول مول فیصلہ ہندوئوں کے حق میں سنا دیا۔ پورے بھارت میں کہاجارہا ہے کہ فلاں مسجد مندر پر بنی ہے اسے گھرایا جائے گا۔ فلاں درگاہ مندر پر بنائی گئی ہے اسے گرایا جائے گا۔اورنگزیب بادشاہ شاہ جو عوام کا پیسہ بچا کر اپنے خرچہ ٹوپیاں سی کر گزارہ کرتا تھا۔ اس کی قبر تک کھودنے تیاریاں ہو رہی ہیں۔مسلما ن بادشاہوں نے جو تاریخی عمارتیں بنائی ان کو گرانے کے پروگرام بنائے جارہے ہیں۔ تاج محل جو دنیا کا آٹھوں عجوبہ ہے اسے بھی گھرانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے نام مٹا کر تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں۔ مختلف بہانوںسے مسلمانوں کے گھر انکروچمنٹ ہیں کہہ کر گرائے جاتے ہیں۔ہندو خودگائو ماتا کے گوشت کے دنیا میں سب سے بڑی تجارت کرتے ہیں۔بیرون دنیا سب سے زیادہ گاہے کا گوشست سپلائی کرنے والا ملک بھارت ہے۔مسلمانوں پرگائو رکشا کے نام مار پیٹ اور جان سے مار دیتے ہیں۔دہلی کے قریب کسی مسلمان کے گھر کے فریج میں بکرے کے گوشت کو گائے کا گوشت کہہ کر ایک بے گناہ مسلمان کو شہید کردیا گیا ۔تحقیق پر ثابت بھی ہو گیا کہ بکرے کاگوشت تھا۔ جے رام زبردستی کہاوانے پر ہنددئوںکا ہجوم کسی بھی مسلمان کو ڈھنڈھے مارمار کو شہید کر دیتا ہے۔ پولیس تماشہ دیکھتی رہتی ہے۔کسی بھی مسلمان کوئی اگر وادی کہہ کر یا خود سے کوئی جرم گھڑ سالوں بغیر عدالتی کاروائی قید کیا جاتا ہے۔ایک آزاد ملک میں بے قصور مسلمان کی جوانی قید میں گزر جاتی ہے تب رہا کر دیتے ہیں۔اُتر پر دیش میں مسجدوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے ،ان کے سامنے ڈی جے لگا کر مسلم نفرت والے گانے گائے جاتے ہیں۔ ناچ ناچ کر مسلمانوں کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ اپنے مذہبی پروگرام پر مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ آذان بند کرا دی جاتی ۔ پولیس کہتی ہے اگر آذان دی تو اپنی حفاظت کے مسلمان خود ذمہ دار ہونگے۔ مسلمانوںکے قبرستان پر بلڈوذر چلائے جاتے ہیں کہا جاتا ہے جگہ کم پڑھ رہی ہے۔ مسلمان مردوں کو دفنانے کی بجائے ہندوئوں کی طرح جلائیں ۔کبھی مسلمانوں کی درگاہوں کو ہتھوڑے چلاکر گھرایا جاتاہے۔پولیس صرف تماشہ دیکھتی ہے۔اُترا کھنڈ ہمہ چل میں باری کہہ کر مسلمانوں کی دکانیں بند کی جارہی ہیں گھر گرائے جا رہے ہیں۔گھر اور صوبے سے نکالا جاتا ہے ۔ایک کاغذکا ٹکڑا نہ ملنے پر شہریت چھینی جارہی ہے۔ ڈیٹیشن کیمپوں میں ڈھونس دیا جاتا ہے۔جن میں جانورں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ ظلم روا رکھا جارہا ہے۔ہزار سال کے رہائشی مسلمانوں سے پیدائشی کاغذات مانگے جاتے ہیں۔ ان کی شہریت ختم کی جارہی ہے۔ نام اور لباس سے پہچان کرنوکری نہیں دی جارہی۔ اگرریڑھی والا مسلمان سبزی فروخت کرتا ہے تو ہندوئوں کو کہا جاتا ہے اس ے سبزی نہ خریدو۔کبھی بازار سے زیادہ پیسے دینے پر بھی مسلمان ہونے کی وجہ سے کرایا پر مکان نہیں دیا جاتا۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ مسلمان بستیوں میں اور جھنڈ بنا کر اور اکھٹے ہو کر رہتے ہیں اور وہاں منی پاکستان بنا لیتے ہیں۔مودی جب گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے گجرات کے بے گناہ شہریوں پر پولیس سے حملے کرا کر ڈھائی ہزار مسلمانوں کو شہید کیا تھا۔ اس ظلم پر امریکی حکومت نے مودی کا امریکہ میں داخلہ بند کر دیاتھا۔راقم نے اپنے ایک مضمون میں متعصب مودی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مسلمانوں نے اقلیت ہو کر ہندوستان پر ہزار سال سے زیادہ حکومت کی۔ آپ تو اکثریت میں ہو کر سوسال بھی پورے نہیں کر رہے۔ مسلمانوں کو بھارت میں ایک اور پاکستان بنانے پر مجبور کر رہے ہو۔ مسلم اقلیت کوخون خرابہ اور خوف میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔ حیرت ہے کہ کشمیر مسلم ریاست سے تعصب کی بنیاد پر خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت میں شامل کر لیا ۔جبکہ دیگر کئی ریاستوں کی خصوصی حیثیت اب بھی قائم ہے۔ساری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں مودی حکومت پر بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر تنقید کر رہیںہیں ۔ بھارت میں مسلمانوں پر گزرے ظلم کے یہ کچھ چیدہ چیدہ واقعات بیان کیے ہیں ۔مودی اور اس کے وزیر کہتے رہتے ہیں۔ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اب مذید دس ٹکڑے کریں گے۔ان حالات میں بھارت کے مسلمانوں کو ایک ہی سیاسی پارٹی میں شامل ہو کر مودی حکومت کا مقابلہ کرنا چاہیے۔نہیں تو مودی آرایس ایس کے منشور پر عمل کر کے بکھرے بکھرے مسلمانوں کو آسانی سے اپنا نشانہ بناتے رہیں گے۔ اللہ بھارت کے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے