Site icon Daily Pakistan

مہنگائی کے بم گرنے شروع

جنگ کی وجہ سے مہنگائی کے بم دنیا بھر کے عوام پر گرنے شروع ہیں۔ اس مہنگائی کے ذمہ دار دو شخص ہیں ایک نیتن یاہو اور دوسرا ڈونلڈ ٹرمپ جنھوں نے اپنے ذاتی بزنس مقاصد کیلئے ایران کیساتھ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ قصوروار ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے اور بدنام امریکا ہو رہا ہے۔ جبکہ امریکا کی حیثیت ماں جیسی ہے جس کی گود میں ہر ملک کے لوگ ہیں جو وہاں رہتے ہیں کماتے ہیں کھاتے ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ ایک بزنس مین ہے جسے سیاسی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ٹرمپ جیسے ہی لوگ اب دنیا کے ہر شعبہ میں چھائے ہوئے ہیں۔ اس جنگ سے ساری دنیا کو نقصان ہے لہذا اس کا روکنا ضروری ہی نہیں بہت ضروری ہے۔ اب تو امریکی، اسرائیلی شہری بھی سراپا احتجاج ہیں۔ سڑکوں پر ہیں۔ اب امریکی نظام پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں کہ امریکی شہریوں نے کیا دیکھ کر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر بنایا تھا۔الیکشن میں اس کا سلوگن تھا میں دنیا کے ممالک کی جنگیں روکو گا اور اب خود جنگ میں کود چکا ہے۔ عوام کی اب چیخیں نکل رہی ہیں۔ اس مہنگائی سے بے روزگاری، غربت اور کرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے تیل کے جہاز آ رہے ہیں لیکن پھر بھی سب سے مہنگا تیل ہمارے ملک میں ہے۔ہم جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کر ہیں لیکن آئی ایم ایف کے فیصلوں کے پھر بھی ہم پابند ہیں۔ سعودی جتنی انوسٹمنٹ امریکا میں کر رہے ہیں اس کی آدھی رقم آئی ایم ایف کو دے کر ہماری ان سے جان چھڑا سکتا ہے۔پاکستان سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے ۔ ہمارے پاس اپنی سواری کے سوا متبادل سواری نہیں ہے۔یوں تو کہا جاتا ہے اس ملک میں گدھے کافی تعداد میں موجود ہیں۔ خزانے پہ بوجھ ہیں ۔اگر گدھا گاڑیاں حکومت فراہم کر دے تو ان گدھوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا۔ مہنگائی کی بمباری سے بچنے کیلئے اسلام آباد کے رہائشی جائیں تو جائیں کہاں۔ یو ٹرن اور مین راستوں پر لوہے کے گیڈ لگا کر بند ہیں جس سے ہر وقت ٹریفک کی روانی متاٹر رہتی ہے۔ پٹرول کے ساتھ جان بھی جلتی ہے۔ دنیا ساری میں ایک ہی قانون نافذ ہے۔ وہ ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ دنیا میں تین وجوہات کی وجہ سے کرائم نہیں تھا۔ نمبر ایک انسان کا مذہب ۔مذہب کی وجہ سے لوگ کرائم نہیں کرتے تھے۔ نمبر دو سماج کی وجہ سے لوگ کرائم نہیں کرتے تھے کہ لوگ انہیں کیا کہیں گے۔نمبر تین اس ملک کا قانون تھا۔لوگ قانون کے ڈر سے کرائم نہیں کرتے تھے۔ یہ تین وجوہات تھیں جو انسان کو کرائم سے روکا کرتی تھیں ۔ مگر اب ان تینوں کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں اب پوری دنیا میں ایک ہی قانون لاگو ہے۔جو انگریزوں کا بنایا ہوا محاورہ Might is right ہے جسے اردو میں کہتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ شروع میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ محاورہ گوروں کا ہے مگر جب اس پر ریسرچ ہوئی تو پتہ چلا یہ محاورہ گجر برادری کا ہے کیونکہ گورے تو بھینسیں نہیں پالتے اور نہ ہی ان کا دودھ وہ پیتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے سب سے پہلے دنیا میں گجر برادری نے بھینسوں کو پالنا اور دودھ فروخت کرنا شروع کیا ۔ بھینسوں کو چرانے والے کے پاس ایک عدد لاٹھی ہوا کرتی تھی جس کے ڈر سے بھنس لاٹھی والے بندے سے ڈرتی تھی اس کے بعد جب بھینس کا بچہ جسے کٹا کہتے ہیں وہ رسی توڑ کر ماں کا دودھ پینے لگ پڑتا تھا جس پر لوگ کہتے ہو کٹا کھل گیا۔ اب لوگ اکثر جب نئی بات یا واقع دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں تو کہتے ہیں فلاں نے نیا کٹا کھول دیا ہے۔یہ بات بھی وہی کہہ سکتا ہے جس نے بھینس رکھی ہو لہٰذا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے محاورہ کے تخلیق کار گورے نہیں گجر ہیں، گورے تو اکثر کہا کرتے تھے کہ جو بھینس کا دودھ پیتے ہیں وہ ذہین نہیں ہوتے۔ہم نے پھر دودھ کی چاہے پینی شروع کر دی۔اب پکا یقین ہو چلا ہے کہ یہ محاورہ گوروں کا نہیں ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے محاورہ کا گوروں نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور گورے اس پر عمل کر رہے ہیں اب دنیا ساری کا قانون یہی ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو بھی دنیا کے کسی قانون کو نہیں مانتے وہ صرف اور صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کو مانتے اور سمجھتے ہیں نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ایران سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے محاورہ پر عمل کر رہے ہیں۔اب کہاں ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں، کہاں ہے اقوام متحدہ کا ادارہ کیا انہیں دکھائی نہیں دے رہا کہ نیتن یاہو ٹرمپ دنیا کا امن تباہ کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کی خلاف فرض یاں کر رہے ہیں نیتن یاہو کو اسرائیل میں رشوت کے الزام میں سزا ہو چکی ہے یہ سزا سے بچنے کیلئے ٹرمپ سے ملکر ایران سے جنگ کر رہا ہے ۔ اسکے اپنے ملک کی عوام اسکے خلاف اب سراپا احتجاج ہے۔ امریکا میں ڈونالڈ ٹرمپ کیخلاف لاکھوں کی تعداد میں شہری سڑکوں پر ہیں۔ برطانیہ میں بھی لوگ اب اس جنگ کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں اس وقت اس جنگ کی وجہ سے دنیا ساری میں مہنگائی کا طوفان آچکا ہے۔ اب بھی اگر دنیا کے ممالک نے اس جنگ کو روکا نہیں تو یہ جنگ آگ کی طرح ساری دنیا میں پھیل جائے گی پھر ہر کوئی اس کی لپیٹ میں آ کر بھسم ہو جائے گا۔اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ آباد کرنے کا مشورہ برطانیہ نے دیا تھا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کے قبضہ میں تھا۔ 1917 میں برطانیہ نے یہودیوں کے لیے فلسطین کے ساتھ وطن بنانیکی اجازت دی پھر اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ جس میں ایک عرب ریاست اور دوسری یہودی ریاست۔ اس پلان کو عربوں نے مسترد کیا اور اسرائیل نے قبول کیا۔وہ دن اور اج کا دن وقتا فوقتا جنگ اور جھڑپیں ان کے درمیان جاری رہتی ہیں۔ زیادہ تر اسرائیلی امریکا میں پرورش پاتے ہیں۔ نیت یاہو نے بھی بچپن سے جوانی کا دورامریکا میں گزارا۔ تعلیم امریکا سے حاصل کی۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کا نمائندہ رہا۔ فی الحال دکھائی یہ دیتا ہے کہ امریکا کے سسٹم پر یہودیوں کا کنٹرول ہے اس لیے امریکا نے اسرائیل کا ہمیشہ ساتھ دیتا ہے۔ ۔وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسرائیل کو فلسطین کے ساتھ اباد کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ اسی طرح ان کا ایران کے ساتھ جنگ کرنا بھی غلط ہے۔ سپر پاور ملک جیسے امریکا، چین، روس جنگ کو بڑھانے کے بجائے سفارتی مذاکرات کوترجیح دیں فریقین کو بات چیت کی میز پر لائیں عالمی اداروں کے ذریعے جنگ بندی کی کوشش تیز کریں اگر یہ ممالک جنگ میں فریق بن گئے تو تنازع عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو پوری دنیا کے لیے خطرناک ہوگا۔ علاقائی ممالک کا کردار جیسے پاکستان، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات غیر جانبداری اختیار کریں جنگ میں فریق بننے سے گریز کریں ۔ ثالثی کا کردار ادا کریں انسانی امداد فراہم کریں۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک کو چاہیے کہ وہ امن کا پیغام دے اور مسلم دنیا میں اتحاد کی کوشش کرے۔ عالمی اداروں کا کردار جیسے اقوام متحدہ فوری طور پر جنگ بندی کی قراردادیں پاس کریں انسانی حقوق کی نگرانی کریں متاثرہ علاقوں میں امدادی مشن بھیجیں عام لوگوں کا کردار یہ سب سے اہم ہے کیونکہ عوامی رائے بھی اثر ڈالتی ہے۔ سوشل میڈیا پر نفرت اور جھوٹی خبریں نہ پھیلائیں ۔امن اور برداشت کا پیغام دیں ۔جنگ کی حمایت کے بجائے انسانی ہمدردی کو ترجیح دیں دعا اور اخلاقی دبا کے ذریعے حکومتوں کو امن کی طرف مائل کریں۔ میڈیا غیر جانبدار رپورٹنگ کریں سنسنی پھیلانے کے بجائے حقیقت دکھائیں ۔امن کی کوششوں کو اجاگر کریں اس طرح کے تنازع میں:طاقت کا استعمال مسئلہ حل نہیں کرتا صبر اور حکمت ہی اصل حل ہیں ۔اگر ہر ملک اپنا مفاد چھوڑ کر تھوڑا سا بھی امن کے لیے قدم اٹھائے تو جنگ روکی جا سکتی ہے۔

Exit mobile version