کتاب”اسرائیل پاکستان کا ازلی دشمن” میری تیرہویں کتاب ہے۔اس سے قبل میری بارویں کتاب” بھارت پاکستان کا ازلی دشمن” اسلامک پبلی کیشن منصورہ لاہور کے پاس شائع ہونے کے پروسس میں ہے۔ نیٹ پر دہشت گرد، بن یامین نیتن یاہو، جو سر زمین فلسطین پر ایک ناجائز، قابض اسرائیلی دہشت گرد ریاست کا پندرہ سال (١٥) سے وزیر اعظم ہے ،کا ایک مغربی خاتون ٹی وی اینکر کے ساتھ انٹرویو موجود ہے۔ جس میں اس کا کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان اسرائیل کی دشمن اسٹیٹ ہیں۔ان کو ختم کرنا ہے۔اس مقصد کے لیے ایران پر ٹرمپ اور نیتن یاہونے مشترکہ حملہ کر دیا۔ ایران کو تباہ کرنے کے بعد دونوں کا ٹارکٹ پاکستان تھا۔اللہ کا کرنا،ا یران نے تباہ ہونے کے باوجود ایسا پلٹ وار کیا کہ اسرائیل اور امریکا دونوں کے تکبر کو ملیا میٹ کر دیا۔ایران نے اسرائیل کو غزہ جیسا کھنڈر بنا دیا۔حتہ کہ اس کا ایٹمی سنٹر ڈیمونہ بھی تباہ کر دیا۔ امریکہ کے عرب ملکوں کے اڈے جہاں سے ایران پر حملے ہو رہے تھے کوتباہ و برباد کر دیے۔ امریکا کے جنگی بیڑے ایران کی طرف آئے تو انہیں بھی نقصان پہنچایا۔ بحری بیڑے ایران کی بحری حدود سے سیکڑوں میل دور بھاگ گئے۔اسرائیل تو خاموش ہو گیا۔ امریکہ نے پاکستان کی سفارت کاری کے ذریعے دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کی۔ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ گرگٹ کے طرح بار بار رنگ بدل کے آج تک دھمکیوں پر دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ پھر حملہ کر دوں گا۔ تہذیب مٹا دوں گا۔ پتھر کے زمانے میں پہنچا دوں گا۔ اب بین الاقوامی سمندر کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔بہانہ بناتا ہے کہ ہرمز کو کھولنا ہے۔ جبکہ ایران کہتا ہے ہر مز امریکی، اسرائیلی جہازوں کے لیے بند ہے۔ باقیوں کے لیے کھلا ہے۔اللہ نے پاکستان کو بھی دنیا میں عزت سے نوازہ کہ وہ ورلڈ آڈر امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ کار اور سفارت کار بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے۔ ایران کو بھی پاکستان پر اعتماد ہے۔جنگ کو اللہ تعالیٰ پسندنہیں کرتا ، کہ جنگیں تباہی لاتیں ہیں۔اللہ کرے دونوں کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے اور اللہ اسرائیل کو، جو بار بار جنگ چھیڑنے کی کوشش کرتا ہے ذلیل کرے۔ آمین
اس کتاب میں اللہ کی طرف سے بنی اسرائیل پرمہربانیوں کاذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن شریف میں کیا ہے۔ ہم نے اس کو جمع کر کے قاری کی آسانی کے لیے اس کتاب میں پیش کیا ہے۔جب یہود دین اسلام سے ہٹ گئے اور قلیل فاہدے کے لیے دین کو فروخت کرنے لگے تو اللہ نے سزا دی۔ قرآن کے مطابق یہود نے فلسطین میں پہلے دو دفعہ فساد پرپاہ کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ آشوریوں اور دوسری دفعہ عیسائیوں سے سزا دلائی۔ اور وارنگ دی کہ اگر تیسری دفعہ فساد پھیلا یا تو تیسری دفعہ سزا ملے گی۔ اللہ نے یہود کو دنیا میں تتر بتر کر دیا۔ ڈھائی ہزار سال سے بے وطن، بے زمین ،دنیا میں بکھرے رہے۔ بلا آخر پیسے اور اسلام دشمنی میں نصاریٰ نے ١٩١٧ء کے یک طرفہ بلفور معاہدے کے تحت ان کو فلسطین میں جگہ دی۔ساری دنیا کے یہودی فلسطین میں جمع ہونا شروع ہوئے۔
١٩٤٨ء میں اسرائیل نام سے ریاست قائم کی۔فلسطینیوں کو دہشت گردی سے گھروں زمینوں سے نکال دیا۔فلسطینی ہر سال اس عظیم تباہی کو یوم ”نکبہ” کے نام سی یاد کرتے ہیں۔فلسطین پر ان مظالم کی وجہ سے پڑوس کے عرب ملکوں نے اسرائیل سے جنگ کی۔ ١٩٦٧ء کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یوروشلم اور ارد گرد کے عرب ملکوں کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیل کا متشدد وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو گریٹر اسرائیل بنانے میں لگا ہوا ہے۔ وہ کئی بار کہہ چکا ہے یہ اس کا مذہبی فریضہ ہے۔ وہ اپنے دہشت گرد قومی ترانے میں اردن، لبنان،شام اورمصر، ترکی، سعودی عرب کے کچھ حصوں خاص کر مدینہ شریف پر قبضہ کر نا چاہتا ہے۔ امریکہ اسرائیل کی مدد کر تارہا ہے۔ اس وقت ٹرمپ کی تو پوری ٹیم یہود نواز ہے۔ ٹرمپ نے اپنے یہودی داماد جیرڈکشنرکی مدد سے سیلکٹ کی ہے۔امریکی وزیر دفاع ”پیٹ بیگستھ ” نے اپنی دائیں بازو پر عربی لفظ”کافر” کا ٹیٹو بنایا ہوا ہے۔یہ صلیبی جنگ کے نعرے Deus VulT کے نیچے بنا ہوا ہے۔ٹرمپ کے بارے امریکا کےFact.check خبر رساں ادارے کے صحافیوں نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ نے صدارتی حلف اُٹھاتے ہوئے بائبل ایک طرف رکھ دی تھی۔ یعنی بائبل پرہاتھ رکھ کر حلف اُٹھانے سے گریز کیا تھا۔ مسلمان اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ غزہ کو نیست ونابود کرنے میں ٹرمپ کا مسلمانوں سے کتنا تعصب شامل ہے۔اس کتاب کے تین حصوں میں یہ تمام حالات پیش کیے ہیں۔ حصة اوّل: میں بلفور ڈیکلریشن سے ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے تک۔ حصہ دوم: میںیہودیت کی ابتداء سے یہود انبیا کے قاتل ہیں تک۔ حصہ سوم: میں اسلامی حکومت کا نصب العین سے لیگ آف نیشن تک کے مضامین شامل ہیں۔اس دور میں غزہ پر اسرائیل کے مظالم اور نسل کشی سے ساری دنیا غزہ کے حق میں ہو گئی ہے۔ اسرائیل کے دہشت گردوزیر اعظم ” ‘یتن یاہو” اور اس کے دہشت گرد وزیر دفاع” اسرائیل کاٹز” کے خلاف جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں جنگی مجرم کا مقدمہ داہر کیا۔ عدالت نے دونوں طرف کے وکلا کو سن کر فیصلہ دیا کہ نیتن یا ہو اور اسرائیل کاٹز جنگی مجرم ہیں۔ انہوں نے غزہ میں فلسطینی کی نسل کشی کی ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے کہا گیا کہ اس کو گرفتار کر کے عالمی عدالت انصاف میں پیش کیا جائے۔افسوس کی یہ بات ہے کہ جنوبی افریقہ غیر مسلم ملک کے ساتھ ٥٧ اسلامی ملکوں کا ایک بھی ڈرپوک اسلامی ملک شامل نہیں۔ایران نے کھل کر اسرائیل کے خلاف اپنی پراکسیز یمن کے حوثی،لبنان کے حزب اللہ اور عراق و شام کی تنظیموں کو لڑایا۔ اس پر اسرائیل اور امریکہ نے مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔ گو کہ ایران کا بہت نقصان ہوا۔ مگر ایران نے حیدری جزبے سے سرشار ہو کراسرائیل کو غزہ جیسا کھنڈر بنا دیا،اس کا ایٹمی شہر ڈیمونہ کو تباہ کردیا۔عرب ملکوں میں امریکی فوجی اڈے تباہ کر دیے ہیں۔ امریکہ کی سینٹ میں تسلیم کیا گیا کہ ایران نے امریکہ کے چالیس(٤٠) سے زیادہ جہاز، جس میں قیمتی ڈرونز اور ایف پینتیس ( F35) جہازبھی شامل ہیں۔ بحری بیڑوں کو نقصان پہنچایا جو لڑنے کے قابل نہیں۔ ایران اس جنگ میں فتح یاب ہوا۔ امریکا پاکستان کی سفارت کاری سے عارضی جنگ بندی پر راضی ہوا۔ مستقل جنگ بندی کے لیے ایران نے اپنے ضبط شدہ اثاثوں کو واپس لینے، جنگ کا ہرجانہ، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ہر مز پر ٹال لینے کے مطابات پر جنگ بندی پر تیا ر ہے۔امریکا ٹال موٹول کر کے جنگ کے میدان میں شکست کو مذاکرات کی ٹیبل پر جیتنا چاہتا ہے۔ مگر واسطہ ایران کی حاضر دماغ لیڈر شپ سے ہے۔ جس کے مرکزی لیڈر شپ ان کے سپریم کمانڈر سمیت کی شہادت پر غصے میں ہے۔ ایران اپنی شرائط پر جنگ بندی منظور کرے گا۔ ٹرمپ صبح شام دھکمیوں پر دھمکیاں دے دہا ہے۔ اس کتاب میں یہ سب تفصیل شامل ہے۔ اللہ کرے کہ جلد جنگ بندی ہو۔انسانیت تباہی سے بچے۔ آمین
میری بات

