بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر کو مقامی آبادی کا رد عمل قرار دینے والے اپنے موقف پر نظر ثانی کریں۔ زمینی حقائق کے مطابق بلوچستان میں غیر ملکی ریاستی عناصر دہشت گردی کا جال پھیلا کر پاکستان کے وجود کو مٹانے کی منظم سازش کر رہے ہیں۔ ایک جانب منظم دہشت گرد گروہ (بی ایل اے۔ مجید بریگیڈ) ریاستی اداروں اور غیر بلوچ لسانی اکائیوں کو ہدف بنا کر ریاست کی عملداری میں دراڑ ڈالنے کے لیے متحرک ہیں۔ تو دوسری جانب انسانی حقوق اور پرامن سیاسی جدوجہد کا نقاب اوڑ ھ کر نام نہاد تنظیمیں (بی وائی سی وغیرہ )دہشت گرد گروہوں کی وکیل صفائی کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔یہ بات محض الزام یا دعوی نہیں بلکہ مستند حقیقت بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر بائیں بازو کے لبرل عناصر کسی شک میں مبتلا ہیں تو ایک روز قبل ہونے والی وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی وہ پریس کانفرنس سن لیں جس میں ان کے ساتھ والی نشست پر ایک نوجوان بلوچ لڑکی فرزانہ عرف لائبہ بھی بیٹھی تھی ۔وزیراعلی کے ابتدائی کلمات کے بعد نوجوان بلوچ لڑکی کی یہ گفتگو بہت چشم کشا تھی! "میرا نام لائیبہ ہے مجھے گھر میں اور گاں میں لوگ فرزانہ کے نام سے جانتے ہیں ۔گزشتہ سال میرا رابطہ جولائی کے مہینے میں ٹی ٹی پی کے کمانڈر ابراہیم عرف قاضی سے ہوا۔کمانڈر ابراہیم نے مجھے خودکش حملہ کرنے کے لیے ذہن سازی کی ۔کمانڈر ابراہیم کی تنظیمی باتوں سے میں متاثر ہو گئی اور خودکش حملے کے لیے تیار ہو گئی ۔کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کروایا ، جس نے مجھے بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ سے ملوانا تھا۔مجھے ٹارگیٹ دیا گیا کہ میں مزید لڑکیوں کو اس کام کے لیے تیار کروں”۔اس گفتگو کی روشنی میں یہ بات پا یہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ نام نہاد بلوچ یکجہتی کمیٹی( یعنی بی وائی سی )انسانی حقوق کے نعرے کی آڑ میں پاکستان دشمن کا لعدم دہشت گرد تنظیموں کے لیے نوجوانوں کی صورت "نیا خون "فراہم کرنے کے لیے سادہ لوح اور بلوچوں کو ورغلا کر دہشت گردی کے بھیانک جال میں پھنسانے کا کام سرانجام دے رہی تھی۔ اور اس تنظیم نے خاص طور پر بلوچ خواتین کو جال میں پھنسانے کے لیے نوجوان عورتوں کو احتجاجی کیمپوں اور لانگ مارچوں جیسی سرگرمیوں میں متحرک کیا ۔یہی وجہ ہے کہ ایک سکہ بند دہشت گرد کی بیٹی جو کہ ڈاکٹر بھی تھی: اس مہم میں پیش پیش دکھائی دی۔ پاکستان مخالف میڈیا اور بھارتی پلیٹ فارمز پر ان خواتین کا خاص امیج یا تاثر گھڑا گیا۔ فرزانہ عرف لائبہ کے حالیہ بیان نے نام نہاد یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت کے اصل ریاست دشمن عزائم سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ حقائق بالکل واضح ہیں بی وائی سی کے قیام سے قبل بلوچستان میں آج تک کسی خاتون نے خودکش دھماکہ نہیں کیا تھا۔ لیکن 2020 میں بی وائی سی بنی اور 2022 میں اعلی تعلیم یافتہ شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کردیا ۔ پھر سمعیہ قلندرانی ، ماہکان بلوچ ، ماہل بلوچ ، زرینہ رفیق بلوچ ، ہوا بلوچ ، آسیہ مینگل اور کئی خودکش دھماکے کرچکی ہیں ۔ اور درجنوں خواتین اس وقت بی ایل اے کے کیمپس میں موجود ہیں ۔ جن کی ٹریننگ کی ویڈیوز خود بی ایل اے جاری کرتی ہے ۔بی وائی سی سے قبل بلوچستان کی تاریخ میں خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ حالانکہ سیاسی بے چینی اوراحتجاجی تحاریک تو کئی عشروں سے چل رہی ہے۔دستیاب شواہد یہی بتاتے ہیں کہ بی وائی سی بظاہر لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کی بات کرتی ہے، لیکن پسِ پردہ یہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے لیے دہشت گر دوں کے بھرتی مرکز کا کام کر رہی ہے۔ بی وائی سی کے پلیٹ فارم سے ریاستِ پاکستان کو "قابض، ظالم اور نوآبادیاتی قوت” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ نوجوان خواتین اور کم عمر بچوں کے ذہنوں میں نفرت بھرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ صبیحہ بلوچ اور دیگر رہنماں کی تقاریر میں مستقل طور پر "بلوچ راج” اور ریاست کے خلاف مزاحمت کا جو درس دیا جاتا ہے، وہ براہِ راست عسکریت پسندی کی راہ ہموار کرتا ہے۔یہ بات اب ریکارڈ پر موجود ہے کہ جن خواتین نے خودکش حملے کیے، ان کا کسی نہ کسی سطح پر بی وائی سی کے احتجاجی کیمپوں یا ان کے بیانیے سے تعلق رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بی وائی سی وہ خام مال فراہم کرتی ہے جسے بی ایل اے کا ‘مجید بریگیڈ’ بارود میں تبدیل کر دیتا ہے۔پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے حقائق بھیانک اور چشم کشا ہیں۔ سادہ لوح بلوچ نوجوانوں کو حقوق کی آڑ میں دراصل بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والی دہشت گردتنظیموں کا ایندھن بنایا جاتا ہے ۔یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ کا لعدم بی ایل اے اور کا لعدم ٹی ٹی پی کے درمیان گہرااشتراک عمل بھی موجود ہے۔ لائبہ نے اپنے اعترافی بیان میں ٹی ٹی پی کے مقامی سرغنہ سے ملاقات اور شرمناک جنسی استحصال کا ذکر بھی کیاہے ۔بظاہر ایک گروہ مذہب کا علمبردار اور دوسرا گروہ لبرل سیکولر اور غیر مذہبی شناخت کا حامل ہے۔ تاہم دونوں گروہوں کے درمیان پاکستان دشمنی وہ مشترکہ قدر ہے جو صرف بھارت کی سرپرستی کی بدولت ہی پیدا ہو سکتی تھی۔ وقت آ گیا ہے کہ بلوچ عوام غیر جانبدار مبصرین عالمی میڈیا اور متعلقہ فورمز انسانی حقوق کی آڑ میں دہشت گردی کے اس سلسلے کے تمام جہتوں کا ادراک کریں۔
نام نہاد یکجہتی کمیٹی یا خودکش بمبار خواتین کی فیکٹری

