اسرائیل اور بھارت کی طر ف سے افغان حکومت کی حمایت اور مالی معاونت کا نتیجہ جمعرات 26 فروری 2026 کی شب طالبان رجیم کی سرحد پار سے فائرنگ کی صورت میں سامنے آچکا ۔ گو پاک فوج کے شیر دل جوانوں نے موثر، فوری ، بروقت اور بھرپور جوابی کارروائی سے ان توپ خانوں اور فائر کرنے والوں کو ”خاموش”کرادیا جن کے پس پردہ ہندو اور یہودی تھپکی تھی! وہ شاید جانتے نہیں کہ پاک فوج اور پاک فضائیہ نے 10 مئی 2025 کو بھارت کو ایسا سبق سکھایا جس سے ملنے والا زخم دشمن اب تک چاٹ رہا ہے۔ ( کہاوت ہے زخم چاٹنے سے درد اور تکلیف میں بتدریج کمی ہوتی ہے) چار روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا اسرائیل میں پرتباک استقبال دیکھ کر ذرا بھر بھی حیرت نہیں،دونوں وزرائے اعظم نے بغل گیر ہو کر محبت’ ارادت اور وابستگی کا زبان اور نظروں سے اعادہ کیا۔ بھارت اور اسرائیل کی باہمی عقیدت کا مرکزی اور اولین نکتہ مسلم دشمنی تھی۔ دونوں وزرائے اعظم اسلام مخالف جذبات میں پیش پیش رہے اور ہیں۔ گجرات کے قصائی نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی نئی داستانیں رقم کیں۔ جنت نظیر خطے کو دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بنا دیا ۔ نیتن یاہونے 23 ماہ کی مسلسل بمباری سے غزہ کو غارت اورنابود کر دیا۔ 89 ہزار مسلمانوں کی زندگی کا چراغ گل کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی ساری محبتیں بھارتی وزیراعظم پر نثار کر دیں۔ اطلاعات ہیں کہ بھارت اور اسرائیل کے مابین 8.6 بلین ڈالر کے فوجی معاہدوں پر دستخط ہوگئے مودی کے دورے کا سب سے خوفناک پہلو بھارت اور اسرائیل کی طرف سے طالبان حکومت کے لیے امدادی پیکج کا اعلان تھا ، دوسری طرف مسلمان قیادت کل طرح آج بھی سامراج کے انداز سیاست سے دانستہ بے خبر ہے۔ عالم کفر اتحاد اور یکجہتی کے بہانے تراشتا اور ان کا حصہ بنتا ہے اور دو ارب مسلمانوں کے ”محافظ ونگہبان” لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں۔ معلوم نہیں وہ خواب غفلت سے کب اور کس طرح بیدارہوں گے؟ اگر مسلم حکمرانوں نے خود کو اتحاد اور اتفاق وابستگی سے یوں ہی دور رکھا تو سامراج کے بڑھتے خونیں قدم ایک ایک کرکے مسلمان ممالک کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ وقت آگیا ہے کہ مسلم قیادت اخوت اور اپنائیت کا وہ ثبوت پیش کرے جس کا اظہار حضرت اقبال کرچکے
اخوت اس کو کہتے ہیں چھپے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر اک پیروجواں بے تاب ہو جائے
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل عالمی سیاست میں ایسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا جس نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطی کے تعلقات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ روایتی طور پر بھارت نے ہمیشہ فلسطین کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کی تھی لیکن حالیہ برسوں میں ہندوتوا نظریات اور اسرائیلی صیہونیت کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ نے اس توازن کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔اسرائیل پہنچنے پر نریندر مودی کا جس پرتپاک طریقے سے استقبال کیا گیا وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اب صرف تجارتی اور دفاعی تعلقات نہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ میڈیا کو جاری تصویر میں اس غم و غصے کا اظہار ہے جو عالمِ اسلام اور انسانی حقوق کے علمبرداروں میں پایا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور دوسری جانب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ملک ان مظالم کو نظر انداز کر کے قابض قوت کے ساتھ بغل گیر ہے۔فلسطین کے مظلوم دہائیوں سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ غزہ سے مغربی کنارے تک، معصوم بچوں اور خواتین کا خون بہایا جانا ایک روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کرنا فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب انسانی اقدار کے بجائے صرف مفادات اور طاقت کا راج ہے۔نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے دوران دفاعی تعاون، تجارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی بھارت اب اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جو جنگی ٹیکنالوجی اسرائیل فلسطینیوں کو دبانے کیلئے استعمال کرتا ہے، وہی ٹیکنالوجی اب بھارت کو فراہم کی جا رہی ہے، جس کے اثرات مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی جانب بھی ایک اشارہ ہے۔ مودی کے دور میں جس طرح مذہبی انتہا پسندی کو ہوا ملی ہے، اس نے عالمی سطح پر بھارت کے سیکولر چہرے کو داغدار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مودی اسرائیل جاتے ہیں، تو اسے دو انتہا پسند نظریات کا ملاپ قرار دیا جاتا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور نریندر مودی کے درمیان کیمسٹری محض سیاسی نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ سوچ کارفرما ہے جو تسلط اور جبر پر یقین رکھتی ہے۔ دونوں رہنماں نے اپنے مشترکہ بیانات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام لے کر دراصل آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس گٹھ جوڑ نے مشرقِ وسطی میں طاقت کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔عالمی برادری کی خاموشی بھی اس ظلم میں برابر کی شریک ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑانے والا اسرائیل جب بھارت جیسے بڑے ملک کی حمایت حاصل کر لیتا ہے، تو اسے اپنے غیر قانونی اقدامات کے لیے ایک اخلاقی سہارا مل جاتا ہے۔ فلسطینی جو پہلے ہی تنہائی کا شکار تھے اب بھارت جیسے پرانے دوست کو بھی اپنے مخالف کی صف میں کھڑا دیکھ کر مزید مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جبر اور ظلم کے ذریعے قوموں کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ مودی کا دورہ اسرائیل وقتی طور پر بھارت کو جدید ترین ڈرونز اور میزائل فراہم کر سکتا ہے لیکن اس سے وہ اخلاقی برتری چھن گئی ہے جو کبھی گاندھی اور نہرو کے بھارت کا طرہ امتیاز تھی۔ آج کا بھارت فلسطین کے حقِ خودارادیت کی بات کرنے کے بجائے اسرائیلی بربریت کا خاموش تماشائی اور مددگار بن چکا ہے۔مختصر یہ کہ نریندر مودی کا یہ دورہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ عالمی نظام میں انصاف کی جگہ طاقت نے لے لی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے اور ایسے تمام گٹھ جوڑ کو روکے جو انسانیت کے خلاف جرائم میں معاون ثابت ہو رہے ہوں۔ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا، خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا!
نریندر مودی کا نیتن یاہوسے ”اظہار الفت ”

