Site icon Daily Pakistan

وزیر اعظم ، فیلڈ مارشل کا اہم دور چین

وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے دن عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا جس کے دوران بیجنگ میں چینی صدر شی جنگ پن سے ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات کے روایتی فروخ کے علاہ خلیج کی تازہ ترین صورتحال پر کافی غور و خوص کیا گیا اور امریکہ ایران جنگ کے مکمل خاتمے کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت کی گئی جس پر اظہار خیال کرتے ہوئے عالمی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران حتمی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور امکان غالب ہے کہ اگلے چھتیس گھنٹوں کے دوران معاھدہ عمل میں آ جائے گا جس کا تمام تر کریڈٹ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو جانا یقینی امر ہے ۔واضع رہے کہ چین اس وقت ایس پوزیشن میں ہے جس میں خلیجی جنگ کے خاتمے کے حوالے سے نہ صرف اپنی تجاویز پر عملدرآمد کروا سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کو یقینی بنانے میں امریکہ کو دو قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور بھی کر سکتا ہے تاکہ ایران کے ہوںے والے نقصانات کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے تاہم اس کا انحصار بھی چین پر ہی ہے کہ وہ اس سلسلے میں کس قدر آگے بڑھنا چاہے گا ۔ملاقات میں چینی صدر شی جنگ پن نے امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں اور کردار کی شاندار الفاظ میں تعریف کرتے ہوئے انہیں تعمیری اور نتیجہ خیز قرار دیت ہوئے سراہا اور پاک چین دوستی کے تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا ۔ملاقات میں زراعت سائینس و ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمت کی پندرہ یاداشتیں معاھدوں پر دستخط کئے گئے جبکہ دونوں ملکوں نے تیزی سے بدلتی عالمی سیاسی و عسکری صورتحال میں ایک دوسرے کی مکمل مدد و حمایت کا اعادہ کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے پندرویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے کو اڑان پاکستان منصوبے سے ہم آہنگ کرنے کی تجویز بھی پیش کی جبکہ سی پیک پر کام تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔جہاں تک پاک چین لازوال دوستی کے حقائق کا تعلق ہے تو اس میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا کے مضبوط ترین سفارتی تعلقات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تعلق صرف دو ریاستوں کے درمیان سیاسی یا معاشی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر قائم ایک لازوال رشتہ ہے۔ حالیہ دنوں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دور چین اسی دیرینہ دوستی کے ایک نئے اور روشن باب کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ چین ہمیشہ مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ چاہے دفاعی میدان ہو، معاشی ترقی ہو یا بین الاقوامی سفارت کاری، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک چین تعلقات کو آئرن برادرز یعنی فولادی بھائیوں کی دوستی کہا جاتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ اس تاریخی رشتے کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ثابت ہوا ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک دونوں ممالک کے تعلقات کا مرکزی ستون بن چکی ہے۔ سی پیک نے پاکستان میں سڑکوں، توانائی، انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ حالیہ دورے میں سی پیک کے دوسرے مرحلے پر خصوصی توجہ دی گئی جس کے تحت صنعتی زونز، جدید ٹیکنالوجی، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس سے پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی ملاقاتوں میں چین کی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان چینی سرمایہ کاروں اور ماہرین کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔ اس حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی انتہائی اہم سمجھی گئی کیونکہ پاکستان کی مسلح افواج پہلے ہی سی پیک اور چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہیں۔ یہ پیغام نہایت واضح تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو قومی ترجیح سمجھتا ہے۔اس دورے کا ایک اہم پہلو دفاعی تعاون بھی تھا۔ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی شراکت داری کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ دونوں ممالک جدید دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ مشقوں اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں مسلسل تعاون کر رہے ہیں۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں یہ تعاون خطے کے امن اور توازن کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقاتوں میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک ہر قسم کی دہشت گردی اور بیرونی خطرات کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے رہیں گے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس دورے کے دوران تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی زور دیا گیا۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق نظر آئے کہ نوجوان نسل کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پاک چین دوستی آنے والی نسلوں تک اسی جذبے کے ساتھ منتقل ہوتی رہے۔ تعلیمی وظائف، ثقافتی تبادلوں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اشتراک مستقبل کے لیے نہایت خوش آئند پیش رفت ہے۔بلاشبہ یہ دورہ پاکستان کے لیے معاشی، سفارتی اور دفاعی لحاظ سے مثبت نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔ بیجنگ پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز سید عاصم منیر کا عوامی ہال آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا ، گارڈ آف آنرز پیش کیا گیا۔

Exit mobile version