عربی ضرب المثل ہے کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے ۔شاعر لاہور نے وطن کی محبت ایمان کا حصہ اور اس کی بنیاد کا اظہار اس شعر میں کیا خوب کیا ہے
مانگتا ہوں اس لئے بھی خیر بستی کی شعیب
ان گھروں کے درمیاں اب اک گھر میرا بھی ہے
پاکستان میں دو طبقے ایسے ہیں جن کا مسکن فارن ممالک میں ہے ایک وہ مزدور جو صرف روزگار کیلئے اور کچھ طالب علم جو حصول تعلیم کیلئے بیرون ملک سدھارتے ہیں ۔دوسرا طبقہ وہ سیاسی ،مالدار،افسر شاہی اشرافیہ ہے جو اپنے اثاثوں کو بیرون ممالک منتقل کر دیتا ہے پاکستان میں ان کا مقصد صرف پیسہ ،شہرت اور مال اکٹھا کرنا ہے جبکہ مزدور طبقہ ان ممالک میں مستقل سکونت کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ان کا جینا مرنا وطن کے ساتھ منسلک ہے ۔یہی طبقہ پاکستان کے زر مبادلہ کا بڑا سہارا ہے یہ بھگوڑے سیاسی پناہ گزین جنہوں نے اپنا پیٹ اور بینک بیلنس تو پاکستان میں بھرے لیکن ہمیشہ ترجیح غیر ممالک کو دی ۔افسوس جس مٹی نے انہیں عزت و توقیر ،دولت اور نام بخشا یہ اس کے وفادار نہیں رہے ۔نہاں خانہ دل میں اکثر یہ سوال گردش کرتا ہے کہ محبت کا دعویٰ وطن کی مٹی سے ہو تو پھر مغربی ممالک میں محلات اور سرے محلوں کا کیا جواز ہے؟ جس ملک میں کئی بچے بھوکے سوتے ہوں وہاں کسی محل نما گھر میں چہل قدمی کیلئے کئی ایکڑوں پر محیط گھر کا لان سجایا جا سکتا ہے ۔راقم کے ذہن میں ایرانی صدر احمدی نژاد کا چند مرلوں پر محیط گھر آ رہا ہے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا گھر بھی نہیں غریب کی بات کرنیوالے سیکڑوں ایکڑ اراضی کے محلات میں مقیم ان غریب نوازوں اور وطن کی مٹی سے محبت کے دعوے داروں کی بات سمجھ سے بالا تر ہے ۔ بقول شاعر
مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آ رہی ہے تیری سادگی پر
کسی انسان کی زندگی میں کتنی دولت درکار ہے ؟اس سیاسی اشرافیہ سے پوچھا جائے تو وہ صرف قناعت پسندی کا درس دیتے ہوئے اپنے علاج اور مشکل حالات میں مغربی ممالک میں جائے پناہ حاصل کرے گا وطن کی مٹی سے محبت کہیں تلاش کرنے سے بھی نہیں ملے گی قدرت کا انتقام اور عوام کی آہ بہت بے رحم ہوتی ہے ۔لے مین نائس نے کیا خوب کہا تھا ”ضمیر ایک ایسی مقدس عدالت ہے جہاں خدا فیصلہ کرتا ہے اور پلاٹینی کا کہنا ہے ”کوئی انسان ساری دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتا اور نہ کبھی ساری دنیا نے کسی ایک آدمی کو دھوکہ دیا ہے محلات سے تو فقیر کی جھونپڑی اچھی جہاں وہ خشک روٹی پانی سے تر کر کے کھاتا اور چین کی نیند سوتا ہے اور مطمئن ہے ۔بخت سے کوئی شکائت نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے۔سٹریٹ کے بقول ”بے گھرکا گھر ساری دنیا ہوتی ہے ”۔بسا اوقات انسان کی موت اس کی طولانی خواہشات میں ہی پنہاں ہوتی ہے ۔سو ایسے محل جو معصوم عوام کی حسرتوں اور خواہشوںکی جنازگاہ پر تعمیر ہوں ہمیشہ نشان عبرت ہوا کرتے ہیں ۔اسی لئے تو باب شہر علوم مولا علی نے فرمایا ”میں قسم کھاتا ہوں کہ دنیا میرے نزدیک کوڑھی کے ہاتھ میں سور کی بے گوشت ہڈی سے زیادہ قابل نفرت ہے ”۔ایک مرتبہ گورنمنٹ کالج میں پطرس بخاری کے دفتر میں ایک صاحب داخل ہوئے تو آپ نے نظریں اٹھائے بغیر کہا تشریف رکھئیے اس پر وہ صاحب برہم ہوئے اور کہا ”میں قومی اسمبلی کا رکن ہوں ۔”جواب میں پطرس بخاری نے کہا ”پھر آپ دو کرسیوں پر تشریف رکھئیے”۔سو کوئی بھی انسان چاہے کتنا بھی با اثر ،طاقت ور ،یا دولت مند ہو اس کی بھی حدودوقیود وہی ہیں جو کسی کمزور ،بے بس اور غریب شخص کی ہیں البتہ انسان کی خواہشات اور پرواز تحیل کی کوئی حد نہیں ۔بھارت ہمارے نزدیک بہت برا ہے مگر اس کے کسی صدر یا وزیر اعظم کے خلاف آج تک کرپشن وغیرہ کا کوئی کیس نہیں بنا کسی نے بیرون ملک اثاثے نہیں بنائے ۔پنڈت نہرو 17برس وزیر اعظم رہے ایک پیسے کی کرپشن کا الزام نہیں لگاواجپائی کے گھٹنوں کا آپریشن لندن یا امریکہ کی بجائے ممبئی کے ایک ہسپتال میں ہوا ۔ بھارت کے ایٹم بم کے بانی ،ایک صدر عبدالسلام کرائے کے ایک کمرے میں رہتے تھے ۔صدر بنا دیا گیا تو ایک چھوٹے اٹیچی کیس میں چند کپڑے لئے اور ایوان صدر میں آ گئے ۔پانچ سال کی صدارت کے بعد اسی اٹیچی کیس کو اٹھا کر اپنے کرائے والے کمرے میں آ گئے لیکن اس کے بر عکس ہمارے ہاں باہر سے کھربوں کی امداد آتی گئی اور دبئی،فرانس ،لندن اور امریکہ میں محل ،پلازے اور فلیٹس بنتے گئے ۔برسوں کی عدالتی تفتیش کسی نتیجے پر پہنچنے سے تا حال محروم ہے کہ شریفوں ،زرداریوں اور افسر شاہی نے بیرون ملک کھربوں کے اثاثے کیسے بنائے ؟ فاروق احمد انصاری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ2013کے الیکشن سے پہلے زمان پارک عمران خان کے ڈرائنگ روم میں بڑے گھروں کے بارے بحث چھڑی ہوئی تھی وہاں موجود ایک بزرگ اخبار نویس بولے کہ اتنے بڑے گھر کا کوئی جواز نہیں ۔اس کا روئے سخن عمران خان کے بنی گالہ والے گھر کی طرف تھا ۔ان دنوں حفیظ اﷲ نیازی اور عمران خان کے درمیان پنجابی محاورے کے مطابق سوئی نہیں گزرتی تھی ۔حفیظ اﷲ نیازی جھٹ سے اس گھر کے جواز میں رزق حلال کی دلیل لے آئے ۔ پھر انہوں نے اپنے موقف کو تقویت پہنچانے کیلئے حضرت قائد اعظم کے گھر کا حوالہ بھی دیا ۔ اخبار نویس بولے آج اگر قائد اعظم زندہ ہوتے اور بڑے گھر میں رہتے تو مجھے ان کے بھی بڑے گھر پر اعتراض ہوتا ۔ایک بندے کے پیٹ میں بھوک تھی جبکہ دوسرا بندہ گلے تک پر تھا اور اس کے پاس کھانے پینے کا مزیدسامان بھی وافر مقدار میں موجود تھا ۔خالی پیٹ بندہ صرف ایک روٹی کا طلبگار تھا ۔اسے جواب ملا کہ یہ کھانا جو آپ کو وافر دکھائی دے رہا ہے میرے ذاتی پیسوں کا خرید کیا ہوا ہے ۔میں نے ان پیسوں کا ٹیکس دیا ہوا ہے ۔پیسے میں نے خود کمائے ہیں ۔یہ صرف میرے لئے ہیں ۔کیا وہ بندہ درست کہہ رہا تھا ۔اس بارے خود رائے قائم کر لیجئیے ۔یہ ہماری بد نصیبی ہی رہی کہ اس ملک کے حصے میں ہی ایسے رہنما آتے رہے جو شامت اعمال ہو ا کرتے ہیں ۔مختار مسعود ”آواز دوست” میں رقمطراز ہیں ”1870کی دہائی میں بڑے بڑے آدمی پیدا ہوئے اگر یورپ میں چرچل اور سٹالن پیدا ہوئے تو بر صغیر میں قائد اعظم ،علامہ اقبال ،محمد علی جوہر ،ظفر علی خان بھی انہی برسوں میں پیدا ہوئے ۔اس کے بعد برصغیر میں نہ جانے مسلمانوں پر کیا افتاد پڑی کہ نہ دیوانے پیدا ہوئے نہ فرزانے ہمارے حصے میں تو ہمیشہ ایک ہجوم آیاسرگذشتہ! مجھے پاکستان میں ان لوگوں سے توقعات تھیں جو بیسویں صدی کے پہلے بیس برس میں پیدا ہوئے ۔ساری توقعات عبث ثابت ہوئیں شائد ان بیس برسوں میں مائیں صرف آفیسر اور تاجر ہی جنتی رہیں ۔قدرت اس فیاضی کا جو اس نے انیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں دکھائی تھی حساب لے رہی ہے ۔جو ملک او قومیں اس میزان پر پورا اتریں انہیں مزید بڑے آدمی عطا ہوئے اور جو ناکام رہیں انہیں سزا کے طور پر ایسے لوگ ملے جو شامت اعمال ہوا کرتے ہیں ۔وطن عزیز میں تبدیلی لانے کی دعوے دار نئی قیادت کے یہ پانچ سال بھی گزر جائیں گے ۔اب تو لوگوں کا سانس لینا بھی دشوار ہو چکا ہے۔
ہموار کھینچ کر کبھی دشوار کھینچ کر
تنگ آ چکا ہوں سانس لگاتار کھینچ کر
ہلکورے کھاتی حیات کے لمحات پیہم گزرتے جاتے ہیں ۔مسند اقتدار پر لوگ بزم آرائی کر کے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن اگر چارہ گری کے منصب پر فائز لوگ خوش جمال کے ساتھ ساتھ خوش خصال نہ ہوں تو تاریخ میں ان کیلئے معافی کا کوئی لفظ نہیں ہوتا ۔تاریخ کے گوشے صرف انہی لوگوں کیلئے نغمہ سرائی کرتے ہیں جو اپنے ملک و ملت اور اس کی مٹی کے ساتھ وفائوں میں کمال کر دیا کرتے ہیں ۔
کالم
وطن کی مٹی سے محبت کے دعوے دار
- by web desk
- اگست 1, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 281 Views
- 7 مہینے ago

