Site icon Daily Pakistan

ٹرمپ پیس بورڈ اور غزہ امریکی اڈہ

امریکہ نے ایک نیا اور متنازعہ منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت غزہ میں ایک فوجی اڈہ اور بین الاقوامی امن فورس قائم کی جائے گی۔ یہ منصوبہ بورڈ آف پیس کے نام سے نیا ادارہ بنانے کے بعد سامنے آیا ہے جس کی قیادت خود ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ یہ ادارہ بظاہر غزہ میں امن قائم کرنے اور استحکام لانے کا دعوی کرتا ہے لیکن اس کی حقیقت پہلے اجلاس کے مناظر اور شامل ممالک کے پس منظر نے عالمی سطح پر شدید سوالات پیدا کر دیئے ہیں۔ غزہ میں منصوبہ بند فوجی اڈے میں تقریبا 5,000 فوجیوں کی تعیناتی ہوگی اور یہ تقریبا 350 ایکڑ کے علاقے پر پھیلے گا۔ اڈہ ایک بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کیلئے بنایا جا رہا ہے، جس میں مختلف ممالک کے فوجی دستے شامل ہوں گے اڈے میں واچ ٹاورز، چھوٹے ہتھیاروں کی رینج، بنکرز اور فوجی گودام ہوں گے اور پورے علاقے کو باربیڈ وائر سے محفوظ بنایا جائے گا۔ منصوبہ غزہ کے جنوبی خشک علاقوں میں ہے جو ماضی میں اسرائیلی بمباری اور تباہی کے اثرات سے بھرے ہوئے ہیں۔ بورڈ میں شامل ممالک کی فہرست میں زیادہ تر غیر جمہوری آمرانہ یا بادشاہی حکومتیں ہیں۔ ان میں انڈونیشیا، مراکِش، قازقستان، البانیہ، کوسوو، مصر، اردن، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، پاکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ یہ ممالک غزہ میں فوجی تعاون، امن فورس کی تربیت اور فنڈنگ کے وعدے کر رہے ہیں لیکن ان کے سیاسی نظام عوامی نمائندگی اور ووٹ پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ حکمران خاندان، آمر یا مضبوط ریاستی کنٹرول کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس کا پہلا اجلاس جو واشنگٹن میں منعقد ہوا حقیقت میں مسخرا پن اور دکھاوا کا منظر پیش کر گیا۔ سب سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے ارکان کی تعریفیں کیں پھر کابینہ کے ارکان نے ان کی باری باری تعریف کی۔ اس کے بعد دنیا کے کمزور ممالک کے حکمران جو زیادہ تر غیر نمائندہ اور آمرانہ حکومتوں کے تحت آئے تھے انہیں ٹرمپ کی تعریفیں سننی پڑیں اور وہ بھی جواب میں تعریف کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس اجلاس کا ماحول زیادہ تر ظاہر سازی، سیاسی شو اور دباو پر مبنی تھا۔ٹرمپ کی تعریف کرنے کا مقصد واضح تھا طاقت کا مظاہرہ اور سیاسی اثر دکھانا اور کھانے، دعوت اور رسمی تقریبات کے ذریعے اجلاس کو ایک نمائش یا شو کی شکل دی گئی۔ اجلاس میں حماس کو غیر مسلح کرنے کا ذکر ضرور ہوا لیکن اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور غزہ میں 70 ہزار افراد کے قتل عام کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ بورڈ کے اجلاس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دو ریاستی حل، یعنی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک مستقل سیاسی حل کس طرح ممکن ہوگا۔ یورپی ممالک نے اس منصوبے اور بورڈ کے اجلاس میں سرے سے شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ اس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ غزہ میں فوجی مداخلت، غیر شفاف سیاسی منصوبے اور غیر نمائندہ حکومتوں کی شرکت کی بجائے بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور فلسطینی عوام کی شمولیت کو ترجیح دی جائے۔اور وہ اقوام متحدہ کے تحت ہو وہ ٹرمپ کے بورڈ کو ایک امریکی قابو میں غیر شفاف ادارہ سمجھتے ہیں جس میں ان کی جمہوری اور انسانی حقوق کی تشویش شامل نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ غزہ کی بحالی کیلئے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا جبکہ دیگر ممالک نے تقریبا 7 ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ لیکن اس فنڈنگ کے باوجود اس منصوبے کی شفافیت، فلسطینی عوام کی حقیقی نمائندگی، اور امن قائم کرنے کی قانونی ضمانت مشکوک ہے۔ بورڈ کا ڈھانچہ اور منصوبہ اس لحاظ سے بھی غیر واضح ہے کہ ISF کے قواعد عمل ہتھیاروں کی نقل و حرکت، حماس کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات اور اسرائیلی کارروائیوں میں اس کی ذمہ داری ابھی تک واضح نہیں ہے۔ یہ سب مل کر سوال پیدا کرتے ہیں کہ آیا بورڈ واقعی امن قائم کرنے کے لیے ہے یا سیاسی اور فوجی اثرات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ غزہ کے عوام جو طویل عرصے سے جنگ، تباہی اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، وہ کسی بھی غیر شفاف، غیر نمائندہ اور سیاسی دباو والے اقدامات کے تحت امن حاصل نہیں کر سکتے۔ امن صرف اس وقت ممکن ہے جب عوامی نمائندگی، شفافیت، انسانی حقوق اور خود ارادیت کو ترجیح دی جائے نہ کہ طاقت، فوج یا سیاسی مفاد کو۔ غزہ پیس بورڈ اور امریکی اڈہ اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اکثر اپنے مفاد کے لیے امن کے دعووں کا پردہ استعمال کرتی ہیں۔ حقیقی امن کے لیے ضروری ہے کہ فلسطینی عوام کی شمولیت، دو ریاستی حل اور انسانی حقوق کو ترجیح دی جائے ورنہ یہ منصوبہ صرف ایک فوجی بیس، سیاسی کنٹرول اور دباو کا ذریعہ بن کر رہ جائے گا جس کے اثرات خطے میں مزید تنازعات پیدا کریں گے۔

Exit mobile version