وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا کہ پانی زندگی کی علامت اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے یہ ایک نعمت ہے جس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے نبی کریم نے بھی پانی کے ضیاع سے منع فرمایا ہر بوند قیمتی ہے روزمرہ زندگی میں پانی کا ضیاع روکنے کیلئے عوامی شعور بیدار کرنا ہوگا بڑھتی ہوئی آبادی موسمیاتی تبدیلیوں اور بے احتیاطی کے باعث آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں آبی ذخائر کے تحفظ کےلئے اقدامات نہ کئے تو آنےوالی نسلیں قلت کا شکار ہو سکتی ہیں پانی کے مناسب استعمال اور تحفظ کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں بارشی پانی کے ذخائر اور زیر زمین ٹینک بنا کر آبپاشی کیلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے پانی بچائیں یہ عمل کرنے کا وقت ہے آئندہ نسل کی بقا کےلئے پانی ذمہ داری سے استعمال کریں ارشادِ باری تعالی ہے کہ ہم نے سبھی جاندار پانی سے پیدا کئے پانی کے بغیر نہ انسان زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ہی چرند و پرند قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس وافر پانی موجود تھا لیکن اب یہ پانی اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں پاکستان کے آبی تحقیقاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 8سالوں کے دوران ملک میں زیر زمین پانی کی مقدار میں تقریبا 6 فیصد کمی ہوئی ہے رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تقریبا 23 فیصد اور خیبر پختونخوا میں تقریبا 33 فیصد رقبے کے نیچے پانی کی بوند تک نہیں بچی اگر اب بھی ضروری اقدامات نہ کئے گئے تو پنجاب کے 36 فیصد اور خیبر پختونخوا کے 42 فیصد مزید رقبے سے زیر زمین پانی جلد ختم ہونے کا خدشہ ہے پانی کی کمی کا یہ مسئلہ نیا نہیں لیکن آہستہ آہستہ سنگین نوعیت اختیار کررہا ہے ہم دنیا کے ان 36 ممالک میں شامل ہیں جہاں پانی کا سنگین بحران ہے دنیا میں پانی کے بحران کا شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے پاکستان کے 24 بڑے شہروں میں رہنے والے 80 فیصد لوگوں کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ افراد صاف پانی تک رسائی سے بھی محروم ہیں اور یہاں فی شخص سالانہ پانی کی دستیابی(1ہزار کیوبک)میٹر سے بھی کم ہے اگر یہ فی شخص سالانہ 500کیوبک میڑ تک پہنچ جاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ آئندہ تین چار سالوں تک پانی کی قطعی کمی واقع ہوجائے پاکستان بارش برف اور گلیشیئر پگھلنے سے اپنا پانی حاصل کرتا ہے ملک میں موجود 13 ہزار سے زائد گلیشیئر زمین کے قطبی علاقوں کے بعد کہیں پائے جانے والے گلیشیئر کی سب سے بڑی تعداد ہے تاہم ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے ان میں سے 10 ہزار گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ان گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجہ سے جہاں میٹھے پانی کے ذخائر میں کمی واقع ہورہی ہے وہیں ملک میں آبی قلت سنگین صورت اختیار کرتی جارہی ہے حالیہ دنوں میں بھی آبی قلت پوری شدت کے ساتھ موجود ہے ملک کے دونوں بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا ڈیڈ لیول تک پہنچ چکے ہیں جبکہ چشمہ بیراج میں بھی پانی نہ ہونے کے برابر ہے آبی قلت کی وجہ سے ملک کا 80 فیصد رقبہ جو قابل کاشت بنایا جاسکتا ہے بنجر پڑا ہے جبکہ 30 فیصد آبادی کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور آبی قلت کا مسئلہ دور دراز علاقوں اور پسماندہ بستیوں کے بعد وفاقی دارلحکومت سمیت ملک کے متعدد بڑے شہروں میں پہنچ چکا ہے ماہرین کے اندازوں کے مطابق زمین سے سالانہ 65 ارب کیوبک فٹ پانی نکالے جانے کے باعث اس کی سطح مسلسل فی سال ایک میڑ نیچے جارہی ہے ایشیائی ترقیاتی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی موسمی تغیرات اور آبی ذخائر کی قلت کے باعث پاکستان 2040تک پانی کی کمی کا سامنا کرنےوالے ممالک میں 23ویں نمبر پر آسکتا ہے زرعی زمینوں پر بڑھتی ہوئی تعمیرات کے باعث مستقبل میں غذائی قلت کا خدشہ ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کا انحصار بھی زراعت پر ہی ہے پرانے فرسودہ کاشتکاری کے رائج طریقہ کار کی وجہ سے فصلوں کی کاشت میں 95فیصد پانی استعمال ہو جاتا ہے جو نہایت سنگین ہے آبپاشی کے ناقص نظام کی وجہ سے 60فیصد ملک کا پانی ضائع ہو رہا ہے ملک میں پانی کے بحران میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو اس خطے کے روایتی موسمیاتی دورانیے کی تبدیلی کا سبب بن رہی ہیں بارشیں اپنے معمول سے ہٹ چکی ہیں یا تو بالکل نہیں ہوتیں اور اگر ہو جائیں تو سیلابی صورت حال کا پیدا ہونا عام سی بات بن چکی ہے آبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کا سالانہ تقریبا 30سے 35ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو جاتا ہے یہ پانی موجودہ بڑے آبی ذخائر تربیلا اور منگلا ڈیم کے پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش کے برابر ہے ارسا کا کہنا ہے کہ ہم نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دریاں میں پانی کی دستیابی پر موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کو دیکھا ہے اپریل کے بعد درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے جولائی میں دریاں میں پانی دستیاب ہوتا ہے اس لیے خریف کی فصلوں کو ابتدائی سیزن میں شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ملک کو اب دریاں میں پانی کے بہا کے سلسلے میں طاس کے مسئلے کا سامنا ہے پہلے تمام دریا ایک ہی سطح پر بہتے تھے لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے دیکھا گیا ہے کہ جب دریائے سندھ اور دریائے کابل میں پانی بہتا ہے تو دریائے چناب اور دریائے جہلم خشک ہو جاتے ہیں قدرت نے پاکستان اور بھارت کو بے مثال آبی نظام دیا ہے جس کا درست استعمال کرکے جنوبی ایشیا کی پوری آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے لیکن بھارت خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو جلا بخشنے کےلئے جنگی حکمت عملی کے تحت اس لازوال قدرتی آبی نظام کو تباہ کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہے بھارتی حکمران دریائے ستلج بیاس اور راوی کی طرح دریائے چناب جہلم اور نیلم کا رخ موڑ کر اپنے دریاں کے ساتھ لنک کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا اور خود کار واٹر گیٹ سسٹم قائم کر رہے ہیں بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصہ میں آنے والے دریاں پر چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر مملکت خداداد کو آبی بحران سے دوچار کرنے اور خشک سالی کا شکار بنانے کی گھنانی منصوبہ بندی کا حصہ ہے بھارت میں شاہ پور کنڈی بیراج کی تعمیر کے بعد دریائے راوی کا پاکستان کی جانب بہا مکمل طور پر بند ہوگیا ہے شاہ پور کنڈی بیراج پنجاب اور مقبوضہ کشمیر کی سرحد پر تعمیر کیا گیا ہے اس سے مقبوضہ کشمیر ریجن کو 1150 کیوسک پانی کا فائدہ ہوگا جو پہلے پاکستان کےلئے مختص تھا اس پانی سے کتھو اور سامبا ضلع کی 32ہزار ہیکڑ زمینیں سیراب ہوسکیں گی پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت دریائے راوی ستلج اور بیاس کے پانی پر بھارت جبکہ دریائے سندھ جہلم اور چناب پر پاکستان کا کنٹرول ہے دریائے راوی میں پہلے بھارت کی جانب سے پانی آتا تھا لیکن اب شاہ پور کنڈی بیراج کی تکمیل سے بھارت دریائے راوی کا زیادہ سیزیادہ پانی استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گا پاکستان ایک زرعی معیشت ہے ہماری GDPکا 24فیصد زراعت سے آتا ہے 52فیصد افراد کا روز گار براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت سے منسلک ہے ہماری برآمدات کا تقریباً 80فیصد زراعت پر مبنی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ 30سال پہلے کی نسبت آج ہماری معیشت زراعت پر کم انحصار کرتی ہے لیکن پھر بھی آج زراعت ہی ہماری معیشت کا پہیہ گھما رہی ہے اچھی زراعت کےلئے تین چیزوں کی ضرورت ہے زمین موسم اور پانی پانی کی قلت اور توانائی کے بحران پر بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کو ممکن بنا کر قابو پایا جاسکتا ہے پانی لازمہ حیات ہے لیکن اس کی کمیابی کا مسئلہ وطن عزیز کو اپنے قیام کے وقت ہی سے درپیش ہے بدقسمتی سے پانی کے ذخائر کی تعمیر کو بیرونی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کے باعث سیاسی رنگ دے دیا گیا چنانچہ پاکستان نہ صرف پانی بلکہ سستی ہائیڈل بجلی سے بھی محروم ہوتا چلا گیا وطن عزیز اس وقت پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے اقوامِ متحدہ کی گلوبل لینڈ آوٹ لک رپورٹ کے مطابق پاکستان ان 23 ممالک میں شامل ہے جنہیں گزشتہ تین برسوں سے خشک سالی کی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے سوال یہ ہے کہ پوری دنیا اور پورا پاکستان ہی پانی کی قلت کا شکار ہے تو کیا ہمیں آپس میں الجھنا چاہیے یا اس مسئلے کا فوری موثر اور دیرپا حل تلاش کرنے کی سعی کرنی چاہیے ملک میں پانی کی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے اگر اب بھی ملک وقوم کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس اور جارحانہ فیصلے نہ کئے اور ذاتی سیاسی مفادات کے حصول کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کا سلسلہ جاری رکھا تو پھر آئندہ چند سالوں میں ملک کو خشک سالی اور قحط سالی کا جو سامنا کرنا پڑیگا اس کا تصور بھی روح کو لرزانے کیلئے کافی ہے پانی کی قلت مستقبل میں پاکستان کے وجود کیلئے بطور ریاست اور معاشرہ بڑا خطرہ ثابت ہوگی عقلمندی کا تقاضا یہی کہ دور اندیشی سے کام لیا جائے اور کنوں کے مکمل طور پر سوکھنے سے قبل پانی کی قدر واہمیت کو پہچانا جائے اس کےلئے طویل المدت اور پائیدار آبی پالیسی کے علاوہ طرز معاشرت کو بھی اشد ضرورت ہے آبی سیکورٹی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ نئے چھوٹے اور بڑے ڈیموں کے منصوبوں پر کام شروع کیا جائے ڈیموں پر ہونےوالی سرمایہ کاری ضائع نہیں ہوگی۔

