پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک عجیب تضادات کا شکار رہی ہے۔ یہاں بحران کبھی ختم نہیں ہوتے، صرف چہرے بدلتے ہیں۔ ہر دور میں قوم کو بتایا جاتا ہے کہ ملک ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، لیکن یہ موڑ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سوال یہ نہیں کہ بحران موجود ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اسے کون، کیسے اور کیوں استعمال کر رہا ہے اور یہ سوال بھی ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ دنیا کے پسماندہ ممالک ترقی کی منازل طے کر کے آگے نکل گئے، جب کہ ہم زوال، پسماندگی، قرض اور محتاجی کی دلدل میں کیوں دھنستے چلے گئے؟ یہ محض پاکستانی بدقسمتی نہیں، بلکہ ایک طویل فکری، معاشی اور سیاسی انحطاط، انحراف اور مفاد پرستی اور تقسیم در تقسیم کا منطقی اور فطری نتیجہ ہے، جس نے پاکستان کو اندر سے کھوکھلا اور باہر سے تنہا کر دیا ہے اور اس کے ذمہ دار ہمارے سیاستدان، بیوریو کریٹ اور مقتدر حلقے ہیں۔ یہاں خراب حالات کو سنوارنے کے بجائے انہیں مزید ابھارا جاتا ہے تاکہ سیاسی دکانیں چلتی رہیں۔ جلسوں کے اسٹیج گرم ہوں، نعروں کی گونج بلند رہے اور عوام جذبات کے سیلاب میں بہہ جائیں، اگرفکری زوال کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں ایک ایسی قوم دکھائی دیتی ہے جو اجتماعی سمت سے محروم ہو چکی ہے، عوام کو ایسا الجھا دیا گیا ہے کہ کبھی اسلام خطرے میں ہے، کبھی تہذیب، کبھی ایمان، اور کبھی امت۔ یہ بیانیہ اتنی بار دہرایا گیا کہ اب یہ حقیقت کم اور سیاسی ہتھیار زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ ہم نے علم، تحقیق اور برداشت کے بجائے گروہیت، فرقہ واریت اور شدت پسندی کو فروغ دیا۔ دنیا نے قوموں کی تعمیر تعلیم اور مکالمے سے کی، ہم نے نفرت اور تقسیم سے اپنے ہی سماج کو بانٹ دیا۔ نتیجہ یہ کہ ہم نے نہ جدید دنیا کو سمجھا اور نہ اپنی داخلی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے اور یہ سب کچھ ہماری ناکامی کے اسباب ہیں۔ معاشی محاذ پر ہماری ناکامی اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ پاکستان آج ایک زوال پذیر، مقروض اور محتاج معیشت بن چکا ہے۔ ہم نے پیداوار کے بجائے درآمد، خود کفالت کے بجائے قرض، اور محنت کے بجائے شارٹ کٹس کو ترجیح دی۔ ریاستی پالیسیاں چند طبقات کے مفادات کے گرد گھومتی رہیں، جب کہ عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور بھوک کے بوجھ تلے دب کر محض زندہ رہنے کی جدوجہد کرتا رہا۔ یہی معاشی غلامی جدید دور کی سب سے خاموش مگر مؤثر زنجیر ہے اور اس زنجیر جسے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہے کہ اثرات نے ملک کے عام دمی کو مفلوج کر دیا ہے۔ان سب عوامل ن کی وجہ سے عالمی اور علاقائی تنہائی ہماری خارجہ ناکامیوں کا واضح ثبوت ہے۔ ہم ایران سے تجارت نہیں کر سکتے، بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بند ہیں، افغانستان سے معاشی تعلقات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ جنوب میں سمندر ہے ، مگر وہ بھی ہمارے لیے عدم تحفظ کی علامت بن چکا ہے؛ کبھی سمندری وسائل پر تنازعات، کبھی مواصلاتی تاروں کا کٹ جانا جیسے شارک مچھلی کی شرارت وغیرہ وغیرہ۔ شمال میں صرف چین بچتا ہے، مگر سی پیک جیسے اہم منصوبے بھی داخلی بدانتظامی، سیاسی عدم استحکام اور بدلتے عالمی حالات کے باعث اپنی ابتدائی روح کھوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں پاکستان ایک ایسے جغرافیے میں کھڑا ہے جو صلاحیت سے بھرپور مگر حکمت سے محروم ہے ۔ داخلی سیاست کی ابتری نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ انارکی، عدم استحکام اور بداعتمادی نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھا دیا ہے۔ سیاست قومی خدمت کے بجائے چند افراد کی انا کی جنگ بن چکی ہے، جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پارلیمان ہو یا سڑک، ہر محاذ پر تصادم ہے، مگر کوئی بھی فریق قومی مفاد پر ذاتی مفاد قربان کرنے کو تیار نہیں۔اس تمام بحران کا سب سے تلخ پہلو وہ رویہ ہے جو اقتدار کے ایوانوں پر قابض عناصر جب اقتدار یا اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے نہیں تھکتے ہیں، مگر جیسے ہی اقتدار ہاتھ سے نکلتا ہے اور یا عہدے کو چھوڑ دیتے ہیں تو ملک ان کے لیے غیر محفوظ ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کا سرمایہ پہلے ہی بیرونِ ملک منتقل کیا جا چکا ہوتا ہے، اور یہ خود روشنیوں میں غائب ہو کر عوام کو اندھیروں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار قوم کے اعتماد کو سب سے زیادہ مجروح کرتا ہے۔ اب وقت ہے کہ قوم جذبات کے بجائے شعور سے سوچے۔ یہ پہچانے کہ کون اس کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتا ہے اور کون انہیں بیچ کر اپنی سیاست چمکا رہا ہے۔ جب تک ہم یہ فرق نہیں سمجھیں گے، ہر نیا بحران ایک نئے نعرے کے ساتھ ہمارے سامنے آتا رہے گا، اور ہم ہر بار اسی نازک موڑ پر کھڑے نظر آئیں گے۔فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم جدید غلامی کے اس نظام کا حصہ بنے رہیں یا اس سے نجات کی سنجیدہ کوشش کریں۔
پاکستان، اندرونی انتشار اورعالمی تنہائی کا نوحہ!

