ہم جماعتوں کی محفل کا مزہ ہے اللہ کریم نے عجب رکھ چھوڑا ہے ہر مزاج ہر شعبے اور ہر سوچ کے انسانوں اور حالات سے اگاہی کا تسلسل ان محفلوں میں کبھی نہیں ٹوٹتا ہماریہر عزیز شیر دل دوست کلاس فیلو ز میجر نصیر اختر گوندل اور ایئر فورس سے ریٹائرڈ فلائٹ لیفٹنٹ محمد اکرم یزدانی اکثر محفلوں میں پاک فوج اور فوج کے ہر اعلا و ادنی افیسر کی کارکردگی حب الوطنی صلاحیت ذہنیت اور قربانیوں کا اتنا تذکرہ کرتے ہیں کہجن کی کوئی مثال نہیں مل سکتی اس لیے ہر کلاس فیلو کے دل میں پاکستانی فوج کیلئے احترام اعتماد محبت خلوص اور جانثاری کوٹ کوٹ کر جانگزین ہو چکی ہے ۔ راقم بھی اپنے دل میں پاک فوج کی محبت کے لیے ہر قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہوئے قلم لے کرپاک فوج کا قلم کار بننے کی سعادت حاصل کر لیتا ہے اس لیے اج بھی مشن معرکہ حق سے لیکر معر کہ غضب للحق کے سفر کے بارے میں پاک فوج کے ماہنامہ ہلال میں لکھے ہوئے میرے نزدیکی دوست عمران امین کی تحریر کو اپنے انداز میں گوش گزار کر رہا ہوں کیونکہ قوموں کی سالمیت کے لیے پاسبانوں کو بہت سارے سنگین ترین خطرات کو دن راتوں کی پرواہ کیے بغیر دشمنوں کی سازشوں عداوتوں اور خباثتوں کے سامنے سینہ سپر ہونا پڑتا ہے ۔ جس کی وجہ سے قوموں کی زندگی میں کچھ راتیں عام نہیں ہوتی ہیں کیونکہ ان راتوں میں ہی قوموں کی نئی تاریخ لکھی جاتی ہے۔6 اور 7 مئی 2025 کی وہ رات بھی ایسی ہی تھی جب بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرزمین پر میزائل داغے تو یہ صرف فوجی جارحیت ہی نہ تھی بلکہ یہ ایک سوئے ہوئے شیر کو جگانے کی حماقت تھی۔پہلگام واقعے کی آڑ میں اس رات بھارت نے اپنے جھوٹے غرور کے سہارے جو آگ لگائی تھی چند دنوں میں ہی اس کے شعلے دہلی کے ایوانوں تک پہنچ گئے اور ہماری افواج نے ثابت کیا کہ اس خطے میں پاکستان سے ٹکر لینا اتنا آسان نہیں ہے جتنا نئی دہلی کے نادان سٹریٹجک دانشور سمجھ بیٹھے تھے۔معرکہ حق سے لیکر غضب للحق تک کا سفر دراصل ایک ایسی داستان ہیجو محض دو عسکری آپریشنوں کا نام ہی نہیں ہے بلکہ ایک قوم کی زندگی اور موت کی جنگ کا بیانیہ بھی ہے۔6 مئی 2025 کی شب بھارت نے پاکستان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ان حملوں میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت 40 سے زائد پاکستانی شہری شہید ہوئے۔اس معرکے میں پاک فوج کے گیارہ جوانوں نے بھی سرزمینِ وطن پر اپنا لہو بہایا۔یہ وہ وقت تھا جب ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے عوامی مزاج اور رائے کو سمجھتے ہوئے ایک فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ تھا کہ جواب دیا جائے گا اور جواب بھی ایسا ہو گا جو ساری دنیا دیکھے گی اور تاریخ یاد رکھے گی۔10 مئی 2025 کو آئی ایس پی آر نے "آپریشن بنیان المرصوص” کا اعلان کر دیا۔ایک ایسا نام جو قرآن کریم کی سور الصف کی آیت سے ماخوذ ہے جہاں اللہ نے ایمان والوں کو سیسہ پلائی دیوار کی مانند صف بستہ ہونے کا حکم دیا ہے اور حقیقت میں اس موقع پر پاکستانی افواج نے اپنے مضبوط کردار اور عمل سے خود کو ایسا ہی ثابت کیا۔پاکستانی جوابی کاروائی میں 21بھارتی شہری اور 8 بھارتی فوجی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کا اعتراف خود بھارتی حکومت نے بھی کیا تاہم آزاد ذرائع کے مطابق جانی نقصانات اس سے بھی کہیں زیادہ تھے۔اس جنگ میں پاک فضائیہ نے جس مہارت سے اپنا کام سرانجام دیا وہ نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کیلئے حیران کن تھا۔ایف سولہ،جے ایف سترہ تھنڈر اور چینی ساختہ جے دس سی نے ملکر ایسیفو جی معرکے سرانجام دئیے جو عسکری جنگوں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر گئے۔ پاک فضائیہ نے عمدہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 بھارتی طیارے مار گرائے ۔افواج پاکستان کی جانب سے اسٹریٹجک فضائی اڈے ، لاجسٹک مراکز اور انٹیلی جنس تنصیبات سمیت 26 اہم بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھاجن بھارتی فضائی اڈوں کو پاکستان نے نشانہ بنایا ان میں پٹھان کوٹ،سورت گڑھ ، سرسہ ، بھوج ، آدم پور، بھٹنڈہ ، پرنالہ ، ہلواڑہ، سرینگر ، جموں ، ادھم پور،مامون اور انبالہ اہم ہیں جبکہ دیگر جنگی سازوسامان اور نفراسٹریکچر کا نقصان الگ سے تھا جس میں ریڈار سسٹمز ، میزائل ڈیفنس یونٹس،لاجسٹک گودام اور کنٹرول چیمبر جزوی یا مکمل طور پر بے اثر ہوئے ۔پاک بھارت جنگی تنازع کے دوران سرکاری بیانات،آئی ایس پی آر اور پاکستانی و بھارتی سرکاری اور پرائیویٹ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے 2500+سرویلنس کیمرے ہیک ہوئے اور پاور گرڈ کا تقریبا 70 فیصد حصہ متاثر ہوا۔بھارت کا کل جنگی نقصان کا تخمینہ 83 بلین ڈالر تک بتایا گیا ہے یوں بھارت کو ایک بھاری جانی اور مالی نقصان کے ساتھ ساتھ شکست کی ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ 11مئی 2025 کو آئی ایس پی آر نے قوم کو خوشخبری سنائی اور آپریشن کی کامیاب تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے اس معرکے کو "معرکہ حق” کا نام دیا۔اس شاندار کامیابی پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر 10 مئی کو "یومِ معرکہ حق” قرار دیا گیا ہے تاکہ آنیوالی نسلوں کو علم ہو سکے کہ جب دشمن نے پاکستان کو چیلنج کیا تو حق پر کھڑے پاکستان نے کیسا جواب دیا تھا۔دوسری جانب معرکہ حق میں پاکستان کی فتح نے فوجی،سیاسی،معاشی اور نفسیاتی سطح پر گہرے مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔عالمی سطح پر پاکستان کی فوجی قوت کی دھاک بیٹھ گئی اور لمبے عرصے کے بعد سفارتی تنہائی کا خاتمہ ممکن ہوا۔چین اور صدر امریکہ ٹرمپ سمیت پوری دنیا نے ہماری فتح کو تسلیم کیا۔صدر ٹرمپ نے مختلف مواقع پر 62 بار پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی دل کھول کر تعریف کی۔اس شاندار کامیابی کو سراہتے ہوئے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاس میں سرکاری عشائیہ پر مدعو بھی کیا گیا ۔ اس فتح نے پاکستان کی دفاعی خودمختاری کو بھی مزید مضبوط کیا اور دفاعی سازوسامان سمیت پاک فضائیہ کی JF-17تھنڈر جیسی مصنوعات کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہوا ۔ معاشی طور پر پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر ہوئی جبکہ نفسیاتی طور پر 1965 کی طرح قوم حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر متحد ہو گئی اور افواج پاکستان کے شان بشانہ کھڑی نظر آئی۔(……جاری ہے)
پاکستانی سالمیت کیلئے پاک فوج کا معرکہ حق

