Site icon Daily Pakistan

پاکستانی سفارتکاری۔۔۔ اللہ کی مدد جاری

پاکستان کی سفارتی کامیابیاں غیر معمولی اور سفارتی کامیابیوں کی تحسین بھی غیر معمولی ہے۔ پاکستان نے وہ کر دکھایا ہے جس کا کچھ وقت پہلے تک تصور ہی محال تھا۔ ابھی زیادہ وقت تو نہیں گزرا، کل ہی کی بات ہے امریکہ میں صدارتی انتخابات سے پہلے اور بعد میں جتنی بھی بحث ہو رہی تھی اس میں کہا جا رہا تھا کہ پاکستان اس وقت غیر متعلق ہو چکا ۔ پاکستان کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اس میں تو یہاں تک لکھا کہ پاکستان دنیا کے لیے ایک بوجھ بن چکا ہے لیکن پھر حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ حیران کر دیا۔ اب پاکستان سرخرو کھڑا ہے اور سربلند کھڑا ہے۔
مجھے یاد ہے آپریشن بنیان مرصوص کے بعد فیلڈ مارشل نے کہا تھا کہ اللہ کی مدد اس جنگ میں اتری اور انہوں نے اللہ کی مدد اترتے ہوئے دیکھی اور محسوس کی۔
اس وقت پاکستان کی جو سفارتی کارکردگی ہے اس میں بھی اللہ کی مدد شامل حال ہے۔ اور اب قوم بھی اللہ کی مدد اترتے ہوئے دیکھ رہی ہے اور محسوس کر رہی ہے۔
پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی کامیاب رہی ہے۔ بھارت سے جنگ کے بعد یہ ایک نیا پاکستان ہے۔بالکل بدلتا ہوا پاکستان ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی شاندار قیادت سے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ان کی ملٹری ڈپلومیسی کی تعریف کرنی چاہیے۔ان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جمہوری قیادت، پاکستان کے وزیراعظم، پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستان کی سفارتی ٹیم کی کارکردگی بھی قابل تحسین ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں ترکیہ، مصر و سعودی عرب جیسے ممالک کے وزارائے خارجہ آئے ہوئے تھے، ایسے ہی میں نے دیکھا کہ غیر ملکی اخبارات اس پر کیا لکھ رہے ہیں۔میری نظر وال اسٹریٹ جرنل کے ایک آرٹیکل پر پڑی اور اس آرٹیکل میں لکھا ہوا تھا کہ پاکستان نے سفارتی کو یعنی "ڈپلومیٹک کو” کر دیا ہے۔
اصطلاح کے لغوی معنوں میں جائیں یا اس کے اصطلاحی معنوں میں جائیں، ہر دو صورتوں میں اسے پڑھ کر لطف آتا ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل کا یہ مضمون کسی پاکستانی نے نہیں لکھا۔یہ تین لکھاریوں نے مل کر لکھا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تین لکھاریوں میں ایک کا تعلق بھارت سے ہے۔یہ تینوں وال اسٹریٹ جنرل کے سینئر صحافی ہیں۔تینوں کا اسٹریٹیجک امور میں اور سفارتکاری کے معاملات کی کوریج میں ایک تجربہ ہے اور وہ لوگ حیرت سے سوال اٹھا رہے ہیں کہ پاکستان نے یہ کمال کیسے کر دیا۔
اسی مضمون میں پھر وہ بتاتے ہیں کہ اصل میں پاکستان کے فیلڈ مارشل کی اسٹریٹیجی ہے جس نے پاکستان کو عزت دلوائی اور پاکستان کی سیاسی قیادت اور سفارتی ٹیم، میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ اس پر مبارک کی مستحق ہے۔
پاکستان اس وقت واقعی ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور بڑے باوقار انداز میں ذمہ داری سے آگے بڑھ رہا ہے۔پاکستان کی اس وقت کوشش ہے کہ ایران اور سعودی عرب میں جنگ نہ ہو۔پاکستان دونوں کا خیرخواہ ہے۔پاکستان اس جنگ سے دونوں کو بچانا چاہتا ہے اور پاکستان کی اب تک اس حوالے سے سفارتی کوششیں کامیاب رہی ہیں اور نہ صرف کامیاب رہی ہیں بلکہ ان کا اعتراف بھی کیا جا رہا ہے اور ان کو خراج تحسین بھی پیش کیا جا رہا ہے۔
اس وقت بھی جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اسحاق ڈار چین کے دورے پر ہیں اور ابھی چین کی ایک اسٹیٹمنٹ میں پڑھ رہا تھا اس میں چین نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کو رکوانے میں پاکستان کی کوششوں کی چین حمایت کرتا ہے۔
اس بیان میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہے۔
پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا میں امن کی ضمانت بن چکی ہے۔اس وقت صرف یہ پاکستان ہے جو دنیا کو اور اس خطے کو ایک ہولناک تباہی سے بچانے کے لیے سفارتکاری کی دنیا میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ہم پاکستانی اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں ایک باوقار ایک سرخرو پاکستان دیکھا۔ہم نے دیکھا جس پاکستان کو بھارت اور پاکستان کی دیگر دشمن قوتیں تنہا کرنا چاہتی تھیں وہ پاکستان اس وقت دنیا کے سفارتی منظرنامے پر مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اس کا کردار امت مسلمہ میں قائدانہ کردار ہے۔
پاکستان کو اس مقام تک لانے میں فیلڈ مارشل، پاکستان کی جمہوری قیادت، افواج پاکستان، پاکستان کی سفارتی ٹیم، پاکستان کے سفیر، پاکستان کا دفتر خارجہ سب کا کردار ہے۔یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی محنت، دیانت، وطن سے اپنی کمٹمنٹ، دھرتی سے اپنی محبت ثابت کر دکھائی ہے۔انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر عزم

ہو، اگر یقین ہو، اگر صلاحیت ہو تو پھر خدا مہربان ہوتا ہے۔ پھر خدا اپنی مدد بھیجتا ہے اور پھر خدا کی بھیجی گئی مدد محسوس ہوتی ہے۔
کل خدا کی بھیجی یہ مدد فیلڈ مارشل محسوس کر رہے تھے آج اللہ کی بھیجی ہوئی اس مدد کو پوری قوم محسوس کر رہی ہے۔
پاکستان زندہ باد

Exit mobile version