عصرِ حاضر کی ہنگامہ خیز سفارت کاری میں قوموں کو اکثر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں ایک جانب وقتی مفادات کی چمک دمک ہوتی ہے اور دوسری طرف اصول و اقدار کی وہ روشن شمع جو قوموں کی اصل پہچان بنتی ہے۔کچھ ریاستیں وقتی سیاسی فائدوں کے حصول کیلئے اپنے نظریات کو قربان گاہ پر رکھ دیتی ہیں، جبکہ کچھ اقوام آزمائشوں، دباؤ اور تنہائی کے باوجود اپنے ضمیر کی آواز سے انحراف نہیں کرتیں۔پاکستان دوسری قسم کی قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ سفارتی راہداریوں میں گردش کرتی افواہوں اور مسلسل قیاس آرائیوں کے باوجود پاکستان نہ تو ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بننے کا خواہش مند ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر اس کیلئے آمادہ۔اس کی وجوہات جذباتی یا وقتی ردِعمل پر مبنی نہیں بلکہ تاریخ، ایمان، بین الاقوامی قانون اور پاکستانی عوام کے اجتماعی ضمیر میں پیوست ہیں۔ پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا جس کی بنیاد عدل، وقار اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے اصولوں پر رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلہ? فلسطین پاکستان کے لیے کوئی عارضی سفارتی موضوع نہیں بلکہ اس کی قومی شناخت اور اخلاقی شعور کا ایک بنیادی جزو ہے۔ابراہیمی معاہدے، جو ابتدا میں امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل اور بعض عرب ریاستوں کے درمیان طے پائے، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے ایک راستے کے طور پر پیش کیے گئے۔ مگر انصاف کے بغیر امن اس عالی شان محل کی مانند ہوتا ہے جو ریت کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا ہو۔ ان معاہدوں نے اس بنیادی سوال کو پسِ پشت ڈال دیا جو گزشتہ سات دہائیوں سے اس خطے کے ضمیر کو بے چین کیے ہوئے ہے، یعنی فلسطینی عوام کا اپنے آزاد وطن پر جائز حق۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو اس وقت معمول پر لانا جب فلسطینی مسئلہ ابھی تک منصفانہ حل سے محروم ہو، درحقیقت فلسطین کی اذیت کو ثانوی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔قرآنِ مجید کی روح اور احادیثِ نبوی ۖ کی تعلیمات ظلم، جبر اور حق تلفی کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرتی ہیں۔ اسلام محض عبادات کا نام نہیں بلکہ ظلم کے سامنے اخلاقی جرات کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ حکیم بار بار اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ انصاف پر قائم رہیں، خواہ اس کی قیمت سیاسی یا دنیاوی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ فلسطین کی المناک داستان، جس میں قبضہ، بے دخلی، بمباری اور انسانی وقار کی پامالی شامل ہے، اس اخلاقی تناظر سے جدا نہیں کی جا سکتی۔ کوئی بھی مسلم ریاست جو اسلام کی حقیقی روح سے رہنمائی حاصل کرتی ہو، غزہ کے ملبے سے اٹھتی ہوئی آہوں اور سسکیوں سے بے نیاز نہیں رہ سکتی۔رسولِ اکرم ۖ کے ارشادات بھی اسی ذمہ داری کو مزید واضح کرتے ہیں۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ اہلِ ایمان ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے چینی محسوس کرتا ہے۔ یہ اصول نسل، قومیت اور سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہے۔ فلسطینیوں کے زخموں کو نظر انداز کرتے ہوئے محض تزویراتی مفادات کی خاطر تعلقات استوار کرنا صرف ایک سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ اس روحانی اور اخلاقی بنیاد سے انحراف ہوگا جس پر امتِ مسلمہ کی وحدت قائم ہے۔مذہبی پہلو کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کا دائرہ بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا منشور حقِ خود ارادیت، ریاستی مساوات اور انسانی حقوق کے تحفظ جیسے اصولوں پر قائم ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں فلسطینی عوام کے آزاد ریاست کے حق کی توثیق کرتی ہیں اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی مذمت کرتی ہیں۔ بیت المقدس کی غیر واضح حیثیت، فلسطینی سرزمین پر مسلسل قبضہ، اور غزہ میں بار بار جنم لینے والے انسانی المیے ان قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ایسے حالات میں ابراہیمی معاہدے ایک جامع امن کے بجائے زیادہ تر ایک ایسے سفارتی بندوبست کی صورت دکھائی دیتے ہیں جو حل طلب قبضے کو معمول کا حصہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسرائیل کو حتمی تصفیے سے قبل تسلیم کر لینا نہ صرف اقوامِ متحدہ کے قانونی فریم ورک کو کمزور کرتا ہے بلکہ انصاف کے تصور کو بھی مجروح کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار امن کبھی انصاف کو نظر انداز کر کے قائم نہیں ہوا بلکہ ایسے اقدامات نفرت اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرتے ہیں۔غزہ سے متعلق حالیہ امن مذاکرات اور سفارتی کوششیں، جن میں پاکستان نے بھی شرکت کی، اس تضاد کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ پاکستان مسلسل فوری جنگ بندی، شہریوں کے لیے انسانی امداد، اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے جس کا دارالحکومت القدس ہو۔ یہ محض رسمی بیانات نہیں بلکہ پاکستان کی واضح سفارتی پالیسی کا حصہ ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان کسی ایسے معاہدے میں شامل ہو جو ان بنیادی مطالبات کو عملاً پسِ پشت ڈال دے، تو یہ اس کی خارجہ پالیسی میں کھلا تضاد پیدا کرے گا اور عالمِ اسلام و عالمی برادری کے سامنے اس کی ساکھ کو متاثر کرے گا۔یہ سوال بھی بے جا نہیں کہ کیا ابراہیمی معاہدوں کو خلیجی خطے کے وسیع تر سیاسی و معاشی بندوبست میں شامل کرنا کسی بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہے؟ عالمی طاقتیں ہمیشہ سے جانتی رہی ہیں کہ منتشر معاشرے متحد قوموں کی نسبت زیادہ آسانی سے متاثر کیے جا سکتے ہیں۔ علاقائی معاشی اور دفاعی معاہدوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی کو شامل کر کے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فلسطین کے مسئلے کو ایک عظیم اخلاقی مقصد سے محض ایک قابلِ گفت و شنید سیاسی معاملہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امتِ مسلمہ کا اجتماعی ضمیر آہستہ آہستہ ماند پڑ جائے اور قبضے کے خلاف مزاحمت کو سفارتی رکاوٹ سمجھا جانے لگے۔تاہم پاکستان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے دباؤ کا مقابلہ کیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے دور سے، جنہوں نے دو ٹوک انداز میں فلسطینی موقف کی حمایت کی، لے کر آج تک پاکستان کا مؤقف غیر معمولی حد تک مستقل اور واضح رہا ہے۔ پاکستان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی امن وقتی اتحادوں یا مفاداتی معاہدوں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوگا جب انصاف بحال ہوگا، قبضہ ختم ہوگا اور فلسطینی عوام کو وہ حقوق دیے جائیں گے جن کا وعدہ بین الاقوامی قانون نے ان سے کیا ہے۔جغرافیائی سیاست کی ہوائیں بدل سکتی ہیں، اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، معاشی ترغیبات اپنی کشش بڑھاتی رہتی ہیں، مگر قومیں آخرکار اپنے اصولوں کی وفاداری سے ہی زندہ رہتی ہیں۔ پاکستان اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ کچھ مقاصد ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقتی فائدوں کے عوض فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین بھی انہی مقدس مقاصد میں سے ایک ہے۔ جب تک طاقت کے شور پر انصاف کی آواز غالب نہیں آتی، پاکستان کیلئے ابراہیمی معاہدوں کی راہ اختیار کرنا بعید از امکان ہے۔
پاکستان کیوں نہیں بن سکتا ابراہیمی معاہدوں کا حصہ؟

